49

وزیراعلی میرا نشہ اُتارنے کیلئے عمران خان کو بنوں لارہے ہے: اکرم خان

وفاقی وزیر اکرم خان دُرانی نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک میرا نشہ اُتارنے کیلئے آئندہ انتخابات میں عمران خان کو بنوں لارہے ہیں حالانکہ میں تو سگریٹ نسوار تک کا نشہ نہیں کرتا اور نہ ہی غرور کانشہ ہے کیونکہ یہ غرور اللہ تعالیٰ کی ذات کو حاصل ہے ہاں یہ نشہ ضرور ہے کہ میں نے اپنی قوم کو شناخت دی اور آج بنوں میں ہر کہیں لوگوں کو اُٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے جمعیت علماء اسلام اور اکرم خان دُرانی نظر آتا ہے ہم عمران خان کو چیلنج دیتے ہیں کہ وہ آئیں تاکہ آپ کو پتہ چل جائے کہ کلو سے کتنا پکتا ہے ( چہ دے سیر نہ سوپخیگی )۔
ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے مدرسہ عربیہ تعلیم الاسلام میں جلسہ دستار بندی سے خطاب کرتے ہوئے کیا اُنہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کا مقابلہ کسی کی بس کی بات نہیں مخالفین پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد حیثیت میں نکلیں گے جن کا کوئی نظریہ نہیں قرآن پاک میں ہے کہ احسان کا بدلہ احسان ہے اور دیکھا جائے تو جمعیت علماء اسلام کے احسانات کا بدلہ آئندہ سو سالوں تک بھی نہیں چکایا جاسکے گا دوسو سال تک بنوں کی ضرورت اللہ تعالی نے اور جمعیت علماء اسلام نے پوری کردی ہیں بنوں کے گھر گھر کو گیس کی فراہمی جاری ہے جبکہ تیل و گیس کے ذخائر کی دریافت کیلئے کمپنیاں کام کررہی ہیں اگر اللہ تعالی ٰ نے یہ گیس کے ذخائر دریافت کئے تو وہ وقت دور نہیں کہ یہاں کے لوگ دوبئی کے شیخ بن جائیں گے مگر افسوس کا مقام ہے کہ بعض لوگ آج بھی ہم سے بجلی ٹرانسفارمر اور پریشر پمپ پر ناراض ہوجاتے ہیں حالانکہ ہم قوم کے مستقبل کو بنانے کیلئے بڑے بڑے منصوبے لارہے ہیںآج کرک میں گیس کی مد میں اربوں روپے رائیلٹی میں دیئے جارہے ہیں اگر یہاں گیس کے ذخائر دریافت ہوئے تو ان سے ملنے والی رائلٹی پر کسی اور کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائیں گے اس لئے جمعیت علماء اسلام کو دیگر پارٹیوں کے ساتھ ترازو میں نہ ڈالیں ایم امتحان حشر میں ہوگا جہاں پر کامیابی علماء کرام کی صحبت رکھنے پر ہوگی اور ایک امتحان 2018 ء کے انتخابات میں ہوگاآج وزیراعلیٰ پرویز خٹک ہمارے مخالفین کو فنڈز دینے کی بات کرتے ہیں اُنہیں الیکشن نزدیک آنے پر بنوں یاد آیا ہے پانچ سال تک ہمیں انہوں نے انسانوں کی طرح سمجھا نہیں اُنہوں نے کہا کہ آج بنوں میں بیوٹیفیکیشن منصوبے کے نام پر آدھے زیادہ بنوں کو مسمار کردیا ہے جہاں ان لوگوں کے ملکیتی گھروں مارکیٹ اور اراضی کو سڑکوں میں شامل کیا گیا ہے جبکہ قانون موجود ہونے کے باوجود ان متاثرین کو کسی قسم کا معاوضہ ادا نہیں کیا جارہا اور نہ ہی متبادل جگہ دی جارہی حالانکہ اس میں یہاں کے عوام کا کوئی قصور نہیں سارے نقشے میونسپل کمیٹی سے پاس کئے گئے جس کے باقاعدہ فیس ادا کئے گئے ہیں لیکن میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ وہ وقت قریب ہے جس میں ان کا حتساب ہوگا 12 مارچ کو دینی جماعتوں کا اجلاس مولانا فضل الرحمن کے گھر پر ہورہا ہے جس میں ایم ایم اے کی بحالی کا اعلان ہوگا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.