22

نگراں وزیر اعظم کی نامزدگی کا طریقۂ کار کیا ہے؟

پاکستان میں عام انتخابات کے انعقاد کے لیے نگراں وزیر اعظم کو نامزد کرنے کے لیے قومی اسمبلی میں قائدِ ایوان یعنی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ میں اس اہم فیصلے پر پہنچنے کے لیے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔

وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی اور قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے درمیان یہ مشاورت آئین میں نگران وزیراعظم کی نامزدگی کے لیے تجویز کردہ درج طریقہ کار کے تحت ہو رہی ہے۔

نگران وزیرِ اعظم کی نامزدگی کے لیے اٹھارہویں ترمیم میں تین مختلف راستے وضع کیے گئے تھے۔

1۔ حکومت اور حزبِ اختلاف کا متفقہ فیصلہ
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 224کے تحت قائدِ ایوان اور قائدِ حزبِ اختلاف باہمی مشاورت سے ایک نام پر اتفاق کریں، جس کو صدرِ مملکت بطور نگران وزیر اعظم تعینات کریں گے۔

2۔ پارلیمانی کمیٹی
قائدِ ایوان اور قائدِ حزبِ اختلاف کے درمیان نگران وزیرِ اعظم کے لیے کسی ایک نام پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں آئین کے آرٹیکل 224 اے کے تحت معاملہ سپیکر قومی اسمبلی کے پاس جائے گا جو آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیں گے۔

اس کمیٹی میں قائدِحزبِ اختلاف اور وزیرِ اعظم دو دو نام دیں گے، جبکہ سینیٹ یا قومی اسمبلی یا دونوں ایوانوں سے کل آٹھ اراکین اس کمیٹی کے ممبر ہوں گے ۔ یہ پارلیمانی کمیٹی تین دن میں نگران وزیرِ اعظم کے نام پر حتمی فیصلہ کرے گی۔

3۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان
اگر پارلیمانی کمیٹی بھی کسی ایک نام پر اتفاق نہ کر پائے تو آرٹیکل 224 کے تحت ہی معاملہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس چلا جائے گا۔

پارلیمانی کمیٹی مجوزہ نام الیکشن کمیشن کے پانچ ممبران کو بھیجے گی۔ یہ ارکان 48 گھنٹوں میں فیصلہ کریں گے کہ نگران وزیر اعظم کون ہوگا۔

نگران وزیرِاعظم کے اختیارات
الیکشن ریفارمز ایکٹ 2017 کے مطابق نگران حکومت کا کام صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد اور روز مرہ کے امور انجام دینا ہے جبکہ نگران حکومت خود کو روزمرہ سرگرمیوں، غیر متنازع، اہم اور عوامی مفاد کے معاملات اور ان اقدامات تک محدود رکھے گی جن کو مستقبل میں آنے والی حکومت واپس لے سکے۔

اس کے پاس کوئی بڑا پالیسی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں۔ نگران حکومت کوئی ایسا فیصلہ یا پالیسی نہیں بنا سکتی جو آئندہ حکومت کے فیصلوں پر اثرانداز ہو۔ نگران حکومت عوامی مفاد کے خلاف کوئی بڑا معاہدہ نہیں کر سکتی۔

نگران حکومت کسی ملک یا بین الاقوامی ایجنسی کے ساتھ مذاکرات کا حصہ نہیں بن سکتی نہ ہی کسی بین الاقوامی معاہدے، بائنڈنگ پر دستخط کر سکتی ہے جب تک کہ ایسا کرنا انتہائی ضروری نہ ہو۔

نگران حکومت تقرریاں، تبادلے یا افسران کی ترقیاں نہیں کر سکتی۔ ایسا صرف عوامی مفاد میں مختصر مدت کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ضروری قرار دیئے جانے پر ہی عوامی عہدہ رکھنے والے افسران کے تبادلہ کیا جا سکتا ہے۔

جبکہ کوئی بھی ایسا اقدام نہیں کر سکتی جوعام انتخابات کی شفافیت پر اثر انداز ہو سکے۔

کیا نگران حکومت کے خاتمے کے بعد مراعات بھی ختم ہو جاتی ہیں؟
جی ہاں الیکشن کمیشن کے سابق اہلکار کنور دلشاد کے مطابق نگران حکومت کے اراکین کو کسی قسم کی مراعات تاحیات نہیں ملتیں۔

یہاں تک نگران وزیرِ اعظم کے پاس بھی نگران حکومت کی میعاد ختم ہونے پر کوئی مراعات نہیں ہوتیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.