32

نوعمر لڑکی کا شوہر ہونے کا سترسالہ دعویدار گرفتار

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پاکستان کی سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ نے صوبہ بلوچستان میں ایک 12سالہ لڑکی کا شوہر ہونے کے دعویدار 70سالہ شخص کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے ۔

چیف جسٹس نے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی جانب سے دائر کی جانے والے ایک درخواست پر کہا کہ لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت کے لیے مئی یا جون میں تاریخ مقرر کی جائے گی۔

کوئٹہ رجسٹری میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے سامنے ایک 12سالہ لڑکی نرگس اور ان کے بھائی پیش ہوئے۔

نرگس کے وکیل سیف اللہ کاکڑ نے عدالت کو بتایا کہ نرگس کا تعلق قلعہ عبد اللہ سے ہے اور وہ آٹھویں جماعت کی طالبہ ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ قلعہ عبداللہ سے تعلق رکھنے والا ایک 70سالہ شخص دین محمد اس بچی کا شوہر ہونے کا دعویدار ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ اس شخص سے تنگ آکر نرگس کے خاندان کے لوگ قلعہ عبداللہ چھوڑ کر کوئٹہ آگئے ہیں لیکن ان کو یہاں بھی تنگ کیا جا رہا ہے ۔

لڑکی کے بھائی نے عدالت کو بتایا کہ ان کو اغوا بھی کرلیا گیا تھا۔

سماعت کے دوران اس مقدمے کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ اس سلسلے میں چار ملزمان کو گرفتار کیا گیا ۔

عدالت نے سماعت کے بعد متعلقہ حکام کو حکم دیا کہ لڑکی کا شوہر ہونے کے دعویدار 70سالہ شخص کو گرفتار کرکے دس یوم میں سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کی جائے ۔

عدالت نے بچی اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کو تحفظ فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ پر مشتمل بینچ نے بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے دائر کردہ ایک درخواست کی بھی سماعت کی ۔

یہ درخواست تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے دائر کی تھی ۔

درخواست گزار نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد سے متعلق جو درخواست دائر ہے اس کی سماعت تاخیر سے ہوتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد میں سے اکثریت کا تعلق بلوچستان سے ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی بازیابی میں تاخیر سے ان کے رشتہ دار ایک ذہنی اذیت سے دوچارہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے گا اور اس کی سماعت کے لیے مئی یا جون میں تاریخ مقرر کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.