39

’نوجوانوں میں تنہائی کا احساس زیادہ ہوتا ہے`

انگلینڈ میں ادارہ برائے شماریات کی تحقیق کے مطابق نوجوان افراد بڑی عمر کے افراد کے مقابلے میں زیادہ اکیلا پن محسوس کرتے ہیں۔

اس تحقیق میں سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق 16 سے 24 برس کی عمر کے افراد میں 10 فیصد افراد خود کو ‘ہمیشہ’ یا ‘اکثر و بیشتر’ اکیلا محسوس کرتے ہیں اور 65 برس یا اس سے زائد عمر کے افراد کے مقابلے میں یہ تین گنا زیادہ تناسب ہے۔

تحقیق کاروں کے مطابق اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی عمر کے لوگوں میں اکیلے پن میں ثابت قدمی سے رہنے کی زیادہ صلاحیت ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ سیاسی منظر عام پر بھی اکیلے پن کے حوالے سے پیدا ہونے والی سماجی مسئلے کے بارے میں آگاہی بڑھ رہی ہے۔

انگلینڈ کی وزیر اعظم نے اس سال کے آغاز میں پلان کا اعلان کیا تھا جس کی مدد سے اکیلے پن اور سماجی تنہائی کو ختم کیا جا سکے۔

او این ایس نامی تحقیقی کمپنی کی جانب سے کیے گئے سروے میں 10000 سے زائد بالغ افراد سے معلومات لی گئیں جس سے یہ معلوم ہوا کہ ہر 20 میں سے ایک شخص اکیلا پن محسوس کرتا ہے۔

عام طور پر زیادہ توجہ بڑی عمر کے لوگوں کے اکیلے پن پر ہوتی ہے لیکن اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کم عمر نوجوان اس بات کا زیادہ احساس کرتے ہیں اور عمر کے ساتھ ساتھ وہ اس سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیتے ہیں۔

مینٹل ہیلتھ فاؤنڈیشن کے کال سٹروڈ نے کہا کہ نوجوانوں میں اکیلے پن کا احساس سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔

‘کم عمر لوگ آن لائن ہزاروں دوست بنا لیتے ہیں لیکن حقیقی زندگی میں وہ تنہائی کا شکار ہوتے ہیں۔’

دوسری جانب اسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کے خواتین اکیلے پن کا زیادہ احساس محسوس کرتی ہیں اور اس بات کا ذکر کرتیں ہیں لیکن مرد اپنے اکیلے پن کو چھپاتے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.