37

’نوازمسلم لیگ ن کے تاحیات قائد اورشہبازقائم مقام صدرمنتخب‘

پاکستان کی حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ (نون) کی اعلیٰ قیادت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو جماعت کا تاحیات قائد اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو قائم مقام صدر منتخب کر لیا ہے۔

یہ فیصلے منگل کو لاہور میں مسلم لیگ ن کی مرکزی مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں کیے گئے۔

راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں منعقدہ اس اجلاس میں شہباز شریف کے علاوہ مریم نواز شریف اور حمزہ شہباز بھی شریک تھے جبکہ وزیر اعظم نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ نون کے اجلاس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف بطور مبصر شریک ہوئے۔

اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شہباز شریف جماعت کے قائم مقام صدر ہوں گے جبکہ آئندہ 45 دن میں پارٹی کے صدر کا انتخاب کرایا جائے گا اور مستقل صدر منتخب کیا جائے گا۔

اجلاس کے بعد مریم نواز شریف نے ٹوئٹر پر نواز شریف کے تاحیات قائد بنائے جانے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اجلاس میں پارٹی کے چیئرمین راجہ ظفرالحق، شہباز شریف اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اس سلسلے میں قرارداد پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

خیال رہے کہ پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کو مسلم لیگ ن کی صدارت کے لیے بھی نااہل قرار دیے جانے کے بعد جماعت کو نیا صدر منتخب کرنے کے لیے نوٹس جاری کیا تھا۔

گذشتہ منگل کو الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کیے گئے نوٹس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے پارٹی آئین کے تحت بھی صدارت کا عہدہ ایک ہفتے سے زیادہ عرصے تک خالی نہیں رہ سکتا اس لیے وہ اپنے نئے صدر کا انتخاب کرے۔

دریں اثنا حکمراں جماعت عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل تیار کر رہی ہے اور جلد ہی نظرثانی کی اپیل دائر کیے جانے کا امکان ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق آئین کے ارٹیکل 184 کی ذیلی شق تین کے تحت کیے گئے فیصلے میں نظر ثانی کا اختیار بڑا محدود ہوتا ہے اور اکثر مقدمات میں نظرثانی کی اپیل کی سماعت بھی سپریم کورٹ کا وہی بینچ کرتا ہے جس نے فیصلہ دیا ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ جولائی 2017 میں سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس میں نااہل قرار دیے جانے کے بعد نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ کے ساتھ ساتھ پارٹی کے سربراہ کا عہدہ بھی چھوڑنا پڑا تھا۔

اس کے بعد پارلیمان میں انتخابی اصلاحات سے متعلق آئینی ترمیم کی گئی تھی، جس کے تحت کوئی بھی نااہل شخص سیاسی جماعت کا سربراہ بن سکتا ہے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ نے اس آئینی ترمیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کیا تھا۔

پارلیمان سے انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کی منظوری کے بعد نواز شریف دو اکتوبر 2017 کو اپنی جماعت کے دوبارہ صدر منتخب ہوئے تھے تاہم ان کی یہ صدارت چند ماہ ہی برقرار رہ سکی۔

عدالت نے بطور پارٹی صدر نواز شریف کی طرف سے 28 جولائی کو سپریم کورٹ سے نااہلی کے بعد کیے جانے والے تمام فیصلوں کو بھی کالعدم قرار دیا تھا۔ان فیصلوں میں آئندہ ماہ ہونے والے سینیٹ کے انتخابات کے لیے ٹکٹوں کا اجرا بھی شامل تھا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے ان کی نااہلی کے بعد چیئرمین راجہ ظفر الحق کی جانب سے سینیٹ انتخابات کے لیے جاری کیے گئے ٹکٹس کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

تاہم الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ نون کے ارکان کو سینیٹ کے جاری کردہ نئے ٹکٹس کو مسترد کرتے ہوئے انھیں آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی ہے۔

سینیٹ کے انتخابات کے شیڈول کے مطابق چونکہ مزید کسی سیاسی جماعت کی جانب سے نئے ٹکٹس جاری نہیں کیے جا سکتے تھے اس لیے الیکشن کمیشن کے انکار کے بعد مسلم لیگ ن بطور جماعت سینیٹ کے انتخابات سے باہر ہو گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.