41

نفرت انگیز مواد کی روک تھام کے لیے پاکستان میں نئی ایپ

پاکستان میں انسدادِ دہشت گردی کے قومی ادارے نیکٹا کے سربراہ احسان غنی نے حال ہی میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ قومی ایکشن پلان میں مذہبی بنیادوں پر ہونے والے تشدد کے خاتمے پر سب سے کم کام کیا گیا ہے جبکہ نفرت انگیز تقاریر کے معاملے پر بھی مسائل کا سامنا ہے۔

اسی حوالے سے نیکٹا نے ایک نئی موبائل ایپ متعارف کروائی ہے جس کا مقصد نفرت انگیز مواد کی نشاندہی کرنے میں عوام کی مدد کرنا ہے۔

’چوکس‘ کے نام سے متعارف کروائی گئی اس ایپ میں صارف کو آپشنز دی گئی ہیں کہ وہ اس ایپ کے ذریعے کوئی بھی تصویر، ویڈیو یا لکھا ہوا مواد نیکٹا کو بھیج سکتے ہیں، جس کے ذریعے حکام کو امید ہے کہ شہری کسی بھی نفرت انگیز مواد یا تقاریر کی فوری اطلاع دے سکیں گے۔

اس ایپ میں صارفین کے لیے معلوماتی ویڈیو بھی شامل ہے جو کہ انھیں یہ سکھاتی ہے کہ اس ایپ کو استعمال کیسے کرنا ہے۔

چیئرمین نیکٹا نے بی بی سی بتایا کہ نفرت انگیزمواد کی روک تھام کے لیے آن لائن نفرت آمیز مواد کو بلاک کرنے کے، مواد ضبط ہونے، چھاپہ خانوں کو سیل کرنا کافی نہیں اور اس کی روک تھام کے لیے حکومت کو عوام کی مدد بھی درکار ہے۔

انھوں نے اس ایپ کی تیاری کو اسی سلسلے کی کڑی قرار دیا۔

یہ موبائل ایپ استعمال کرنے کے لیے سب سے پہلے آپ کو نئے صارف کے طور پر رجسٹر ہونا پڑتا ہے، جو آپ اپنے ای میل اور فون نمبر کے ذریعے ہو سکتے۔ ایپ میں لاگ ان ہونے کے لیے آپ اپنا سوشل میڈیا اکاونٹ فیس بک یا ٹوئٹر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

اس ایپ میں آپ کو چار قسم کے نفرت انگیز مواد کے بارے میں اطلاع فراہم کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے، جس میں تصاویر یا ویڈیوز، آواز اور تحریری مواد کے علاوہ نفرت آمیز مواد پر مبنی ویب سائٹ کا لنک شیئر کرنے کی سہولت موجود ہے۔

ایپ صارفین کو سہولت فراہم کرتی ہے کہ وہ کوئی بھی تحریری، تصویری یا ویڈیو کی شکل میں نفرت انگیز مواد شیئر کر سکیں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ سوشل میڈیا پر کوئی بھی تصویر یا ویڈیو شیئر کرتے ہیں، اپنے موبائل سے وہ مواد اپ لوڈ کریں اور اس کے بارے میں چند جملوں میں تفصیل لکھیں اور بھیج دیں۔

جب صارفین کسی نفرت انگیز مواد کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں تو اس درخواست پر کیا عمل ہوا یا اس کی کیا حیثیت ہے، وہ دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے لیے ’مین مینو‘ میں ‘ہسٹری’ کا ٹیب موجود ہے۔ جس میں آپ کے درخواست کے ’سٹیٹس‘ کے بارے میں معلومات درج ہوں گی۔

نیکٹا کے چیئرمین احسان غنی نے بی بی سی بات کرتے ہوئے اس عمل کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’آپ دیکھتے ہیں کہ مسجد میں، مدرسے میں، راستے میں کہیں پر بھی آپ کو نظر آتا ہے کہ یہ (چیز) نفرت آمیز مواد کے زمرے میں آتی ہے، تو وہ ویڈیو، آڈیو، تصاویر، آپ وہ اپ لوڈ کر کے آپ ہمیں رپورٹ دیں، اور ہم صوبے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے ان کے خلاف ایکشن لیں گے۔‘

یہ ایپ ایپل اور اینڈروئیڈ دونوں قسم کے سمارٹ فونز پر استعمال کی جا سکتی ہے۔

پاکستان میں بیشتر لوگوں کو شکایت رہی ہے کہ حکومت مختلف گروہوں اور افراد کی جانب سے مذہب اور نسلی تعصب کی بنیاد پر پھیلائے جانے والے پیغامات کا سدباب کرنے میں ناکام رہی ہے، اب یہ ایپ اس مسئلے پر قابو پانے میں کس قدر مددگار ثابت ہوسکتی ہے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

سوال یہ ہے کہ کیا صارفین اس ایپ کو استعمال کرتے ہوئے خود کو محفوظ محسوس کریں گے اور کیا وہ اس بات کو ماننے کے لیے تیار ہو جائیں گے کہ حکومتِ پاکستان ان کی شکایات کو اس کے خلاف پروفائلنگ کے لیے استعمال نہیں کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.