26

ناقص میڈیکل آلات

تحقیقاتی صحافیوں کے بین الاقوامی گروپ (آئی سی آئی جی) کی ٹیم جو 36ملکوں کے 250رپورٹرز پر مشتمل ہے اور جس میں پاکستان سے دی نیوز نے بھی حصہ لیا ایک پروجیکٹ جس کا نام امپلانٹ فائلز تھا پر کام کیا اور تحقیق کے بعد ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق دنیا بھر میں مریضوں کے جسم میں ناقص طبی آلات نصب کئے جانے کے نتیجے میں مریض مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں اور ان میں اکثر ہلاک بھی ہو جاتے ہیں۔ جبکہ مریضوں کے لئے یہ ڈیوائس صحت میں بہتری کے لئے ہوتے ہیں۔ پڑوسی ملک بھارت میں چار سال کے دوران بھارتی فارماکوپیا کمیشن کی جانب سے 903واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں 325دل کے اسٹنٹ، 145ہڈیوں کے امپلانٹس، 83مانع حمل آلات، 58نبض میں لگائے جانے والے کینولے اور دیگر مختلف ڈیوائسز سے متعلق ہیں۔ ایسے واقعات کی نشاندہی صرف بھارت میں نہیں کی گئی بلکہ2015ء سے 2018ء کے درمیان برطانیہ میں مختلف اسپتالوں نے نگراں ادارے کو 62ہزار ایسے کیسز کی اطلاع دی ہے امریکہ کے نگراں ادارے کو گزشتہ ایک دہائی کے دوران 54لاکھ ایسے واقعات کی رپورٹ کی گئی ہے۔ اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ناقص امپلانٹس کے استعمال سے مریضوں کے متاثر ہونے کے واقعات صرف ترقی پذیر ممالک میں نہیں بلکہ امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی رپورٹ کئے گئے ہیں ۔قابل تشویش صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں اس حوالے سے اعدادو شمار دستیاب نہیں جس کی وجہ کمزور ریگولیٹری میکنزم اور ڈاکٹروں اور آلات بنانے والے اداروں کا کٹھ جوڑ بنایا جاتا ہے جو ایسے واقعات رپورٹ نہیں کرتے جبکہ متعلقہ ادارے نے اپنی حکمت عملی مرتب کرنے کی بجائے غوروخوص کا کام آلات بنانے والے ممالک کی کمپنی کے سپرد کررکھا ہے۔ ضروری ہے کہ ڈیوائس درآمد کرنے والے اداروں کیلئے لائسنس کا حصول لازمی قرار دیا جائے، اسپتالوں کی نگرانی اور ناقص آلات (امپلانٹس) سے ہونیوالے نقصان کی رپورٹ درج کرنے کا موثر نظام وضع کیا جانا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.