50

ناقابل برداشت مہنگائی

یہ ایک اندوہناک حقیقت ہے کہ وطن عزیز کے عوام خطے میں بدترین مہنگائی کا شکار ہیں۔ مہنگائی کا معنی یہ ہے کہ اشیائے ضروریہ کا عوامی قوت ِ خرید سے باہر نکل جانا۔ معاشیات کی روسے اس کی تعریف کچھ یوں ہے کہ زر کی بہت زیادہ مقدار کے عوض اشیا کی بہت تھوڑی مقدار کا حاصل ہونا۔ افراط ِزر بھی اسی صورتحال کو کہاجاتا ہے۔ یہ امر کسی ظلم سے کم نہیں کہ چند ماہ کے اندر مہنگائی کی شرح میں برق رفتاراضافے نے اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو گزشتہ چارسال کی بلند ترین شرح پرپہنچادیاہے۔ ایک ماہ میں افراط ِ زر کی شرح 4.19فیصد سے بڑھ کر 5.21فیصد ہوگئی، مطلب جون کے درمیان مہنگائی میں ایک فیصد اضافے نے عوام کی رہی سہی قوت ِ خرید کا بھی تیاپانچاکرکےرکھ دیا۔ کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق مہنگائی کا یہ طوفان ڈالرکی قدر میں اضافے کے باعث آیا کہ ڈالر کی قیمت 125روپے کے لگ بھگ ہو جانے سے جو اشیائے خور و نوش ہم باہر سے منگواتے ہیں، خاص طور پر گھی، کوکنگ آئل اور اجناس وغیرہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا اور اس اضافے کا بوجھ براہ راست عوام پر پڑا۔ علاوہ ازیں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے بھی مہنگائی کو مہمیز دی۔ محض ماہ ِ جون میں ٹماٹر 41.66، آلو 6.78، پیاز 6.10، تازہ پھل 5.47، مصالحہ جات 1.41، گوشت 1.04، گندم کا آٹا ایک فیصد، گندم 0.85، کوکنگ آئل 0.74، خشک میوہ جات 0.70، چائے 0.68، چینی 0.42، مشروبات 0.41اوربیکری اور مٹھائیوں کی قیمتوں میں 0.38فیصد اضافہ ہوا، اسی طرح انڈے، دالیں، تازہ سبزیاں اور مرغی کا گوشت بھی مہنگا ہوگیا۔ دوسری طرف کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ دیگر استعمال کی چیزوں میں سالانہ 6.7فیصد جبکہ ماہانہ 0.4فیصد اضافہ ہوتا رہا۔ قطع نظراس کے کہ اس مہنگائی کاذمہ دار کون ہے، یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ مہنگائی عوام کیلئے ناقابل برداشت ہوگئی ہے اور جس طرح اس میں اضافہ ہو رہا ہے، عوام کیلئے جسم وجاں کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ حکومت فوری طور پر مہنگائی کو لگام دینے کی سبیل کرے ورنہ جرائم بے لگام ہونے کا قوی احتمال رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.