14

نئے کھلاڑیوں کو سٹار بننے میں وقت لگے گا: نجم سیٹھی

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی پُر اعتماد ہیں کہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی مکمل بحالی کو زیادہ سے زیادہ مزید دو برس کا عرصہ لگے گا۔

پاکستان سوپر لیگ نے پاکستان کو ٹی ٹؤنٹی کے لیے تو تیار کر دیا ہے تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ ایک روزہ کرکٹ میں نئے آنے والے کھلاڑیوں کو’سٹار‘ بننے میں وقت لگے گا۔

بی بی سی اردو کے ساتھ ایک حالیہ خصوصی انٹرویو میں نجم سیٹھی کے ساتھ گفتگو کا آغاز تو پی ایس ایل کے فائنل کی متوقع کراچی آمد اور پاکستان کے حالیہ دورہ نیوزی لینڈ میں ایک روزہ سیریز میں شکست سے ہوا، تاہم بات سپاٹ فِکسنگ پر بھی ہوئی۔ اور بات اس پر بھی ہوئی کہ کیا وجہ ہے کہ پاکستان کی کرکٹ بظاہر دورِ حاضر کی کرکٹ سے پیچھے رہ گئی ہے۔

یاد رہے کہ حالیہ دورہ نیوزی لینڈ میں پاکستان پانچ میچوں کی سیریز میں ایک بھی میچ نہیں جیت پایا تھا۔ چیمپیئنز ٹرافی جیتنے کے بعد ایک روزہ کرکٹ میں یہ پاکستان کا پہلا امتحان تھا۔ نجم سیٹھی نے اس پر قدرے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

’دیکھیں پی ایس ایل نے ہماری ٹیم کو ٹی ٹؤنٹی کے لیے تیار کر دیا ہے۔ اب ہمیں اسے ایک روزہ اور ٹیسٹ کرکٹ کے لیے تیار کرنا ہے۔‘

شکست کی وجوہات کا صحیح تعین کوچ اور مینیجر کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جا سکے گا، تاہم نجم سیٹھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے پرانے سٹار کھلاڑی اب بوڑھے ہو رہے ہیں یا ان کے ریفلیکسز اتنے اچھے نہیں رہے جتنے پہلے تھے۔

’اس لیے ہمیں ایک نئی ٹیم تیار کرنی پڑ رہی ہے۔ نئے کھلاڑیوں کو سٹار بنانے میں وقت لگتا ہے۔‘

نجم سیٹھی کے کشادہ دفتر میں چیئرمین کی جہازی سائز کی میز سے ان کے بائیں جانب شیشے کی دیوار کے دوسری طرف قذافی سٹیڈیم کا میدان اور اس کی پِچ پر جاری کھیل نظر آتا ہے تو دائیں جانب سجی ٹرافیوں کے بیچ مہمانوں کے بیٹھنے کے لیے نشستیں لگی ہیں۔ سامنے نصب سکرین پر ٹی ٹؤنٹی میچ جاری ہے۔

’ٹیسٹ میں تو ہم او کے ہیں، ایک روزہ کرکٹ میں کمزور ہیں۔ اب ہمارا تمام تر دھیان ورلڈ کپ پر ہے اور اس کی تیاری کر رہے ہیں۔‘

’اب ہمارے پاس لڑکے ہیں، مڈل آرڈر میں ہمیں متبادل مل گئے ہیں۔ انہیں تھوڑا وقت لگے گا میچور ہونے میں مگر مجھے امید ہے کہ سب اچھا ہو جائے گا۔‘

اس آخری جملے کی طرح نجم سیٹھی تمام تر گفتگو کے دوران چیزوں کو مثبت زاویے سے دیکھنے پر اصرار کرتے ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ پاکستان جدید طرز کی کرکٹ کھیلنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیوں نہیں کر پایا، ان کا کہنا تھا ’اب ہو جائیں گے، ماڈرن کوچز ہیں، اچھے کھلاڑی ہیں سب ہو جائے گا۔‘

مگر دیگر ٹیمیں جس جارحانہ انداز سے کھیلتے ہوئے جس باقاعدگی سے ایک روزہ کرکٹ میں تین سو سے زائد کے سکور بناتی ہیں، پاکستان نہیں بناتا؟

’پتہ نہیں کیوں آپ اتنی منفی سوچ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ گذشتہ 12 ماہ میں ہم ٹیسٹ رینکنگ میں پہلے نمبر پر آچکے ہیں، ون ڈے اور ٹی ٹؤنٹی میں بھی آ چکے ہیں، تو اتنی منفی سوچ کی کیا ضرورت ہے۔‘ پھر وہ مسکرا دیتے ہیں۔

نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ پاکستان میں سکول اور کلب کرکٹ سے لے کر پی ایس ایل کے فرنچائزز کے ذریعے ٹیلنٹ تلاش کرنے اور دیگر ریفارمز کے ذریعے آئندہ دو برس کے دوران پاکستان میں کرکٹ کا نقشہ بدل جائے گا۔

’آپ دیکھیں گے کہ یہ جو بے ربطی ہے یہ ختم ہو جائے گی۔‘

’نقصان جو ہونا تھا ہو گیا‘

لاہور میں حالیہ میچوں میں چند بین الاقوامی کھلاڑیوں کی میزبانی سے کتنا فرق پڑا ہے اور پاکستان کب تک ایک مکمل سیریز کی میزبانی کرنے میں کامیاب ہو پائے گا؟

اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس کے کئی پہلو ہیں جبکہ ان کا اختیار صرف ایک پر ہے۔ دیکھنا یہ ہو گا کہ ملک کی عمومی سکیورٹی صورتحال کس حد تک اور کتنی جلدی بہتر ہوتی ہے۔

نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ یہ صورتحال کافی حد تک بہتر ہو چکی ہے۔ ’میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم سٹیڈیم تیار کر لیں تو وقت کے ساتھ ساتھ ہم ان کو کھول سکتے ہیں۔‘

’میں یہ سمجھتا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ اگلے دو برس میں پاکستان میں کرکٹ کی مکمل بحالی ہو جائے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انہیں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور انفرادی کرکٹ بورڈز سے منظوری مل جائے گی۔ اگر ایسا نہ ہو پایا تو پاکستانی کرکٹ کو کتنا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے؟

نجم سیٹھی نے اسی مثبت پُر اعتماد انداز میں جواب دیا کہ ’کیوں نہیں ہو گا۔ نقصان تو جو ہونا تھا ہو گیا۔ اب ہم اس کو واپس کر رہے ہیں۔ آئی سی سی کی ٹیم میں بین الاقوامی کھلاڑی آ چکے، سری لنکا، زمبابوے آئے، ویسٹ انڈیز مارچ میں آ رہے ہیں۔ ’

انھوں نے بتایا کہ آئندہ 12 ماہ میں آپ کو کوئی نئی جھلک بھی دکھائیں گے۔‘

’آپ پکڑے گئے، آپ کا سر قلم‘

پی ایس ایل میں گزشتہ برس سامنے سپاٹ فکسنگ کا ایک واقعہ سامنے آیا، اس کے روک تھام کے لیے کیا گیا ہے۔ نجم سیٹی کہتے ہیں کہ وہ دہ بنیادی اور ضروری اقدام یقینی بنا رہے ہیں۔ ایک انتہائی مستعدی سے نگرانی ہو رہی ہے۔ دوسرا، معافی کی کوئی گنجائش نہیں۔

’جن لوگوں کو ہم نے پکڑا اور سزا دی ہے اس میں ظاہر ہے کہ ہمارے پاس ثبوت تھے اور ہم درست ثابت ہوئے۔‘

’یہ ایسا ہی ہے کہ آپ پکڑے گئے، آپ کا سر قلم۔ جب تک میں ہوں آپ سمجھ لیں حقیقی معنوں میں زیرو ٹالرنس ہے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں