30

نئی حلقہ بندیوں کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے: ملک شکیل


دی بنوں – الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے قومی اسمبلی کی نشست سے محروم کرنے اور صوبائی حلقہ جات چھیڑنے پر احتجاجی تحریک شروع کرنے اور ہائیکورٹ پشاور میں رٹ دائر کرنے کا اعلان کر دیا ۔حال ہی میں جاری کئے جانے والی حلقہ بندیوں میں ہمارے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔ بنوں کے عیسکی قبیلے کے سربراہ ممبر ضلع کونسل ملک شکیل خان نے بنوں پریس کلب میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلع بنوں آبادی کے لحاظ سے صوبے کا دوسرا بڑا ضلع ہے جو کہ ایک قومی اور چار صوبائی نشستوں پر مشتمل ہے ۔گزشتہ سال ہونے والی مردم شماری کے ابتدائی نتائج کے بعد بنوں کو زائد آبادی رکھنے پر ایک نیا قومی حلقہ دیا گیا تھا لیکن اب مذکورہ حلقے کو بنوں سے ڈی آئی خان منتقل کر دیا گیا ہے جو کہ ظلم اور زیادتی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے اضلاع ٹانک ،ہنگو اور چترال 3سے 5لاکھ آبادی رکھنے والی اضلا ع ہیں لیکن اس کے باوجود وہاں پر کیلئے قومی اسمبلی کی نشستیں مقرر کی گئی ہیں مگر بنوں کی آبادی 11لاکھ 67ہزار 8سو92نفوس پر مشتمل ہے جہاں پر آبادی کے لحاظ سے ایک دوسرے قومی حلقہ کی ضرورت ہے اور مذکورہ دیگر حلقوں کی نسبت موضوع بھی ہے مگر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بنوں کو اس قومی حلقہ سے محروم کر دیا ہے جو کہ ہم کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ نئی حلقہ بندیوں میں پی کے 70سے پی کے 90میں تبدیل ہونے والی حلقہ میں پہلے ہی اقوام عیسکی کے قبیلوں کو تقسیم کیا گیا تھا۔ جس کے کچھ علاقے حلقہ پی کے 87او ر 88میں اپنا ووٹ استعمال کر رہے تھے ۔اب نئی ہونے والی حلقہ بندی میں مزید علاقوں کو دوسرے حلقوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جو اقوام عیسکی کو آپس میں تقسیم کرنے کی سازش ہے جس پر ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے ۔انہوں نے اعلان کیا کہ قومی اسمبلی کے حلقہ سے محروم کرنے اور حلقہ جات چھیڑنے کے خلاف بہت جلد احتجاجی تحریک شروع کریں گے اور ہائیکورٹ پشاور میں رٹ بھی دائر کریں گے ۔
تصحیح: بنو ں آبادی کے لحاظ سے صوبے کا دوسرینہیں بلکہ گیارویں نمبر پر ہے جبکہ ڈی آئی خان چوتھے نمبر پر ہے۔جبکہ رقبے کے لحاظ سے بنوں بائیسویں اور ڈی آئی خان چوتھے نمبر پر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.