128

نئی تہذیب کے گندے انڈے

تعلیم اور علوم و فنون کا سیکھنا ہر فرد مرد و عورت کا فرض بھی ہے اور حق بھی مگر تعلیم کے نام پر شیطانیت و مادر پدر آزادی حاصل کرنا سوائے گمراہی کے کچھ نہیں۔ مراکو کے ساحل سے لیکر دریائے دجلہ و فرات کے زرخیز ڈیلٹاوں تک ، انقرہ و تہران کے بازاروں سے لیکر وادی مہران تک۔بہار و اڑیسہ سے لیکر برما و بنگال تک اور مشرقی بعید کے جزیروں تک اس وقت گلمہ گو آباد ہیں۔ دنیا کا ہر پانچواں شخص مسلمان ہے مگر سائنس و ٹیکنالوجی ہو یا دیگر علوم مسلم معاشرے اس وقت بدترین زوال کے شکار ہیں۔ اسکی ایک ہی وجہ ہے اور وہ ہے “منافقت”۔ جی ہاں ہم منافقت کے شکار ہیں۔ منافقت اس لحاذ سے کہ ہماری عادتیں اب ایسی ہو گئی ہیں کہ بیک وقت شیطان و رحمان کو خوش کرنے لگے ہیں۔ایک طرف گلمہ گوئی کرتے ہیں دوسری طرف ابلیسیت۔مسلم معاشروں میں اس وقت راج ابلیس ہے۔ ریاستی سطح پر آئے روز ایسے اقدامات ہوتے ہیں جنکا دین سے دور دور کا واسطہ نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے ابلیسیت کو راج کرنے کا موقعہ مل جاتا ہے۔ قرآن کہتا ہے ادخلو فی سلم کآفة۔ جس زمانے میں دو رنگی نہیں تھی یک رنگی تھی۔ اس زمانے نے تارِیخ عالم کو بو علی سینا دیا، البیرونی، ابن الہیثم اور عمر خیام دیے۔ جو سائنس کے پیونیئرز تھے۔آج ڈیڈھ ارب کی مسلم آبادی میں کوئی ایک مرکز ایسا نہیں جو امریکین ناسا یا ایون انڈین سیلیکان سیٹیز کا مقابلہ کر سکے۔ بنیادی وجہ کیا ہے؟ جواب ہے منافقت۔ یوای ٹی میں الیکٹریکل ڈیپارٹمنٹ میں میرا ایک دوست اردن سے تھا۔ اردن کے بورڈر پر بعد میں ایک پراجیکٹ بھی کیا اور وہاں کے حالات سے جانکاری حاصل کی۔ وہ مجھے اردن اور عراق کے جامعات کا حال سناتا۔ واللہ بندہ کانوں کا ہاتھ لگاتا۔ مسلم معاشروں میں اس قدر بے حیائی ،بندہ تصور نہیں کر سکتا۔ اب بعض لوگ شائد کہیں کہ بے حیائی و علوم و ہنر کا انسان کی بےحیائی سے کیا تعلق۔ تعلق ہے۔ ہم مسلمان ہیں۔ ہماری عروج دو صورتوں میں ہو سکتی ہے یا قرآن کے حکم کے عین مطابق اچھے مسلمان بن جائیں یا بالکل کافر بن جائیں درمیان میں رہنے والے منافقوں کو اللہ کبھی عروج نہیں دیتا۔ کسی کو اگر معلوم ہو معلوم تاریخ سے تو بتا دیں۔
ہماری یونیورسٹیوں میں زیادہ ٹائم طلباء کپڑے استری کرنے، میک اپ کرنے ،ہیئر سٹائل ٹھیک کرنے اور لڑکیوں کو پھنسانے میں گذارتے ہیں۔ ایسے طلباء بھی ملیں گے جو دن رات موبائل پر لڑکیوں سے بات کرتے رہتے ہیں۔ ایسے ماحول میں پڑھائی کیسے ہوگی۔ اسی منافقت کی وجہ سے اللہ تعالی نے ہمیں علمی برکتوں سے محروم رکھا ہے۔ آج کوریا آگے ہے۔ چائینہ ابھرا ہے۔مگر مسلمان مسلسل گر رہے ہیِں۔ معلوم نہیں اس گٹر سے کیسے نکلیں۔
نوٹ: غیرت مند بنوں کی سرزمین میں قائم یونیورسٹی سے اگر مکس ٹوور لاہور اسلامآباد جائے تو اسے ہرگز برا مت کہا جائے کیونکہ یہ ستر انتظامی مشر کے خلاف سازش تصور ہوگی

بقلم خود انتظار خان مرزالیخلوی

https://www.facebook.com/profile.php?id=100000244486930

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

نئی تہذیب کے گندے انڈے” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.