62

’میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے، میں ویسے بھی مارا جاؤں گا‘

اپنے قتل سے کچھ ہی دیر پہلے امریکی صدر جان ایف کینڈی نے کہا تھا کہ اگر کوئی امریکہ کے صدر کو مارنا چاہتا ہے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ہوگی بشرطیکہ کہ قاتل یہ طے کر لے کے انھیں مارنے کے بدلے وہ اپنی زندگی قربان کرنے کے لیے تیار ہے۔

’اگر ایسا ہو جاتا ہے تو دنیا کی کوئی بھی طاقت مجھے نہیں بچا سکتی۔‘

اکیس مئی 1991 کی رات دس بجکر اکیس منٹ پر تمل ناڈو کے علاقے شری پیرمبدور میں کچھ ایسا ہی ہوا۔

تیس سال کی ایک عورت صندل کا ایک ہار لیکر انڈیا کے سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کی جانب بڑھی اور جیسے ہی وہ ان کے پیر چھونے کے لیے جھکی ایک زوردار دھماکہ ہوا۔

اس وقت سٹیج پر راجیو گاندھی کے اعزاز میں ایک نغمہ گایا جا رہا تھا۔ وہاں سے مشکل سے دس گز کی دوری پر گلف نیوز کی نامہ نگار نینا گوپال اس وقت راجیو گاندھی کے معاون صمن دوبے سے بات کر رہی تھیں۔

’میری آنکھوں کے سامنے دھماکہ ہوا‘
نینا یاد کرتی ہیں ’مجھے صمن سے بات کرتے دو منٹ بھی نہیں ہوئے تھے کہ میری آنکھوں کے سامنے بم پھٹا۔ میں عام طور پر سفید کپڑے نہیں پہنتی، اس دن جلدی جلدی میں میں نے ایک سفید ساڑھی پہن لی۔ بم پھٹتے ہی میں نے اپنی ساڑھی کی جانب دیکھا تو وہ پوری طرح سے کالی ہو گئی تھی اور اس پر گوشت کے ٹکڑے اور خون کے چھینٹے تھے۔‘

’یہ ایک معجزہ تھا کہ میں بچ گئی۔ میرے آگے کھڑے تمام لوگ اس دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے۔‘

نینا بتاتی ہیں ’بم کے دھماکے سے پہلے پٹ پٹ پٹ کی پٹاخے جیسی آواز سنائی دی تھی اور پھر بم پھٹا۔ جب میں آگے بڑھی تو میں نے دیکھا کہ لوگوں کے کپڑوں میں آگ لگی ہوئی تھی، لوگ چیخ رہے تھے اور چاروں جانب بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔ ہمیں پتہ نہیں تھا کہ راجیو گاندھی زندہ ہیں یا نہیں۔‘

وہ بتاتی ہیں ’اس ہولناک دھماکے کے وقت تمل ناڈو میں کانگریس کے تینوں بڑے رہنما موجود تھے۔ جب دھواں چھٹا تو راجیو گاندھی کی تلاش شروع ہوئی۔ ان کا سر پھٹ چکا تھا اور اس میں سے ان کا مغز نکل کر ان کے سکیورٹی گارڈ پی کے گپتا کے پیروں میں پڑا ہوا تھا جو خود اپنی آخری سانسیں لے رہے تھے۔‘

دھماکے کے بعد کا منظر
بعد میں گانگریس کے رہنما جی کے موپنار نے ایک جگہ لکھا تھا ’جیسے ہی دھماکہ ہوا لوگ دوڑنے لگے، میرے سامنے ہر جگہ لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ راجیو کے سکیورٹی گارڈ پردیپ گپتا ابھی زندہ تھے۔ انھوں نے میری جانب دیکھا، کچھ بڑ بڑائے اور میرے سامنے ہی دم توڑ دیا، جیسا کے وہ راجیو گاندھی کو کسی کے حوالے کرنا چاہتے ہوں۔ میں نے ان کا سر اٹھانا چاہا لیکن میرے ہاتھ میں صرف گوشت کے لوتھڑے اور خون ہی آیا، میں نے تولیے سے انھیں ڈھک دیا۔‘

موپنار سے تھوڑی دور ایک اور رہنما جینتی نٹراجن کھڑی تھیں جنھوں نے بعد میں ایک انٹرویو میں بتایا ’تمام پولیس والے وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے، میں لاشوں کو دیکھ رہی تھی اس امید کے ساتھ کہ مجھے راجیو نہ دکھائی دیں۔ پہلے میری نظر پردیپ گپتا پر پڑی، ان کے گھٹنے کے پاس زمین پر اوندھے منہ کوئی پڑا ہوا تھا۔ میرے منہ سے نکلا او مائی گاڈ یہ تو راجیو لگ رہے ہیں۔‘

وہاں موجود نینا گوپال وہاں بڑھتی چلی گئیں جہاں کچھ منٹ پہلے راجیو کھڑے ہوئے تھے۔ نینا بتاتی ہیں ’میں جتنا بھی آگے جا سکتی تھی گئی، تبھی مجھے راجیو گاندھی کی لاش دکھائی دی۔ میں نے ان کا جوتا دیکھا اور ہاتھ دیکھا جس پر گوچی کی گھڑی بندھی ہوئی تھی۔ تھوڑی دیر پہلے میں کار کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر ان کا انٹرویو کر رہی تھی، راجیو آگے کی نشت پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کی کلائی پر بندھی گھڑی بار بار میری آنکھوں کے سامنے آ رہی تھی۔‘

وہ بتاتی ہیں ’اتنے میں راجیو گاندھی کا ڈرائیور مجھ سے آ کر بولا کار میں بیٹھیے اور فوراً یہاں سے بھاگیے، میں نے جب کہا کہ میں یہیں رہوں گی تو اس نے کہا کہ یہاں بہت گڑ بڑ ہونے والی ہے۔ ہم نکلے اور اس ایمبیولینس کے پیچھے پیچھے ہسپتال گئے جہاں راجیو کی لاش کو لے جایا جا رہا تھا۔‘

’دس جنپت‘ یعنی راجیو گاندھی کے گھر پر
دلی میں راجیو گاندھی کے گھر پر سناٹا چھایا ہوا تھا۔ راجیو کے پرسنل سیکریٹری ونسن جارج اپنے گھر کی جانب نکل چکے تھے۔ جیسے ہی وہ گھر میں داخل ہوئے ان کا فون بجا اور انھیں خبر دی گئی کہ راجیو کے بارے میں بری خبر ہے۔ جارج واپس دس جنپت بھاگے۔ تب تک سونیا گاندھی اور پرینکا سونے کے لیے اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔ تبھی ان کے پاس بھی فون آیا کہ سب خیریت تو ہے، سونیا نے انٹرکام پر جارج کو طلب کیا، جارج اس وقت کسی سے فون پر چنئی میں بات کر رہے تھے جس سے انھیں اس بات کی تصدیق ہو گئی تھی کہ راجیو پر حملہ ہوا ہے لیکن وہ سونیا گاندھی کو بتانے کی ہمت نہیں کر پا رہے تھے۔

جب سونیا گاندھی کو راجیو کی موت کی خبر ملی

صحافی رشید قدوائی لکھتے ہیں ’فون چنئی سے تھا اور فون کرنے والا سونیا جی سے بات کرنا چاہتا تھا۔ اس نے کہا کہ وہ انٹیلی جنس بیورو سے ہے اور حیران پریشان جارج نے پوچھا راجیو کیسے ہیں، دوسری جانب سے کچھ دیر خاموشی رہی۔ وہ بھرائی ہوئی آواز میں چینخے کہ تم بتاتے کیوں نہیں راجیو کیسے ہیں، جواب میں فون کرنے والے نے کہا کہ اب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں اور پھر لائن کٹ گئی۔‘

جارج سونیا کا نام پکارتے ہوئے دوڑے، سونیا باہر آئیں اور انھیں اندازہ ہو گیا تھا کہ کچھ انہونی ہوئی ہے۔ جارج نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا ’میڈیم چنئی میں ایک بم حملہ ہوا ہے، سونیا نے پوچھا کہ کیا وہ ٹھیک ہیں لیکن جارج کی خاموشی نے سونیا کو سب کچھ بتا دیا۔‘

رشید بتاتے ہیں ’اس کے بعد دس جنپت نے پہلی بار سونیا کی چینخیں سنیں۔ وہ اتنی زور سے رو رہی تھیں کہ باہر جمع ہونے والے کانگریسی رہنماؤں کو ان کی آوازیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔‘

قتل میں شدت پسند تنظیم ایل ٹی ٹی ای کا ہاتھ
اس معاملے کی تحقیقات کے لیے سی آر پی ایف کے نیم فوجی دستے کے آئی جی ڈاکٹر ڈی آر کارتکِین کی قیادت میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم بنائی گئی۔ کچھ ہی مہینوں میں اس قتل کے الزام میں ایل ٹی ٹی ای کے سات ممبران کو گرفتار کر لیا گیا۔

اس معاملے میں مشتبہ شخص شو راسن اور اس کے ساتھیوں نے گرفتار ہونے سے پہلے ہی سائنائڈ کھا لیا۔

ایک سال کے اندر چارج شیٹ داخل کر دی گئی۔ ڈاکٹر کارتکین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایک کیمرے سے دس تصاویر کا ملنا ہماری بڑی کامیابی تھی۔ ہم نے عام لوگوں سے پوچھ گچھ کے لیے اخباروں میں اشتہار دیے اور ایک نمبر بھی دیا۔ ہمارے پاس تین سے چار ہزار فون آئے، ہر ایک کو سنجیدگی سے دیکھا گیا۔ ہم نے چاروں جانب چھاپے مارنے شروع کیے اور جلد ہی ہمیں کامیابی ملنی شروع ہو گئی۔’

کچھ عرصے بعد سونیا گاندھی نے نینا گوپال سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔

نینا گوپال نے بتایا ’انڈین سفارت خانے نے مجھے دبئی فون کر کے کہا کہ سونیا جی مجھ سے ملنا چاہتی ہیں۔ جون کے پہلے ہفتے میں میں وہاں گئی۔ ہم دونوں کے لیے یہ ملاقات بہت مشکل تھی۔ وہ بار بار ایک ہی بات پوچھ رہی تھیں کہ آخری لمحات میں راجیو کا موڈ کیسا تھا، اور ان کے آخری الفاظ کیا تھے۔‘

نینا نے کہا ’میں نے انھیں بتایا کہ وہ اچھے موڈ میں تھے، الیکشن میں کامیابی کے لیے پر امید تھے۔ وہ لگاتار رو رہی تھیں اور میرا ہاتھ پکڑے ہوئے تھیں۔ مجھے بعد میں پتہ چلا کے انھوں نے جینتی نٹراجن سے پوچھا تھا کہ گلف نیوز کی وہ لڑکی نینا کہاں ہے۔‘

انھوں نے سونیا گاندھی کو بتایا کہ ’جینتی میری جانب آنے کے لیے مڑی تھیں تبھی دھماکہ ہوا تھا۔‘

راجیو کے وہ الفاظ صحیح ثابت ہوگئے

اندرا گاندھی کے پرنسپل سیکریٹی پی سی الیگزینڈر نے اپنی کتاب ’مائی ڈیز ود اندرا گاندھی‘ میں لکھا ہے کہ اندرا گاندھی کے قتل کے کچھ گھنٹوں کے اندر اندر انھوں نے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ کے برآمدے میں سونیا اور راجیو کو لڑتے ہوئے دیکھا تھا۔

راجیو سونیا کو بتا رہے تھے کہ پارٹی چاہتی ہے کہ میں وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لوں، سونیا نے اس کی سخت مخالفت کی اور کہا تھا ’ہرگز نہیں، وہ تمھیں بھی مار ڈالیں گے‘۔

راجیو کا جواب تھا ’میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ میں ویسے بھی مارا جاؤں گا۔‘

سات سال بعد راجیو کے کہے الفاظ صحیح ثابت ہو گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.