23

مون سون بارشیں، حفاظتی انتظامات ضروری

زمانہ جنگ ہو یا امن، پاک آرمی اور اس کے جوانوں نے سرحدوں کی حفاظت سے لے کر ملک میں دہشت گردی کے خاتمے اورہر امتحان ہر آزمائش میں قوم کی جان و مال کی جس طرح حفاظت کی ہے وہ اس کا طرۂ امتیاز ہے اور قوم اس پر فخر کرتی ہے۔ پاک فوج کے سول ایوی ایشن ہیلی کاپٹر کا بدھ کے روز راولپنڈی میں دریائے سواں کے مقام پر اچانک پانی کی سطح بلند ہو جانے پر بر وقت پہنچتے ہوئے ایک خاتون اور دو لڑکیوں سمیت پانچ افراد کو ڈوبنے سے بچا لینا اس طرح کے بیسیوں حادثات ملک کی تاریخ میں متعدد بار پیش آچکے ہیں قوم نے ہر موقع پر پاک آرمی کو اپنے ساتھ پایا۔ یہ مون سون کا سیزن ہے ملک کے بالائی علاقوں میں سال بھر خشک رہنے والے ندی نالے اچانک پانی آجانے سے بپھر جاتے ہیں اسی طرح میدانی علاقے بھی سیلاب جیسی آفات سے محفوظ نہیں رہتے۔ بالائی اور سیاحتی مقامات پر ان دنوں مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کا رش لگا رہتا ہے جو ان جگہوں سے ناواقف ہوتے ہیں۔ ایسے میں ندی نالوں میں پانی کی سطح اچانک بلند ہو جانے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کسی بھی حادثے کا رونما ہوجانا خارج از امکان نہیں ہوتا مقامی انتظامیہ بھی اگرچہ اپنے اپنے علاقوں میں پیشگی حفاظتی انتظامات کرتی ہے تاہم مقامی آبادی کا ساری ذمہ داری محض ریسکیو ٹیموں پر ڈال کر بیٹھے رہنے سے بہتر ہے کہ موقع و محل کے مطابق خود کو پہلے سے محفوظ مقامات پر منتقل کر لیا جائے امدادی ٹیموں کی موجودگی میں ایسے حالات پیدا کرنے سے اجتناب کیا جانا چاہئے جن سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات پیش آسکتی ہوں۔ بارشوں کی وجہ سے بجلی کے کھمبوں اور ان کے ارد گرد اشیا میں کرنٹ آجانے کے ماضی میں واقعات رونما ہو چکے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ متعلقہ محکمے اور شہری صورت حال سے باخبر رہیں اور کسی بھی ناگہانی حالت میں خود کو خطرے میں نہ ڈالیں بجلی کے کھمبوں کے قریب جانور نہ باندھنے دیئے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.