105

موبائل فون کارڈز پر ٹیکس بحال ہونے سے صارفین پر کیا اثر پڑے گا؟

پاکستان کی سپریم کورٹ نے پری پیڈ موبائل فون کارڈز پر عائد ٹیکس کے معاملے پر فیصلہ سناتے ہوئے تمام پرانے ٹیکس بحال کر دیے ہیں۔ گذشتہ برس سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے موبائل فون کارڈ پر لگ بھگ 40 فیصد ٹیکس کٹوتی کے معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ سروس مہیا کرنے والی کمپنیوں کو ٹیکس لینے سے روکتے ہوئے اس معاملے پر حکم امتناعی جاری کیا تھا۔

تاہم بدھ کو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس حکمِ امتناعی سے متعلق نظرثانی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’عدالت ٹیکس کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی‘۔

ٹیکس کٹوتی کے معاملے پر سپریم کورٹ نے حکم امتناعی جون 2018 میں جاری کیا تھا۔

اس فیصلے پر عملدرآمد کے بعد جب کوئی صارف سو روپے مالیت کا کارڈ موبائل فون میں لوڈ کرے گا تو اس کو سو روپے کے عوض تقریباً 62 روپے کا بیلنس موصول ہو گا، یعنی 38 روپے کی ٹیکس کٹوتی ہو گی۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے گذشتہ ماہ (مارچ 2019) کے اختتام پر جاری کیے گئے تازہ اعداد وشمار کے مطابق ملک میں موبائل صارفین کی تعداد 15 کروڑ 90 لاکھ سے کچھ زیادہ ہے۔

یعنی اوسطاً ہر 100 پاکستانیوں میں سے لگ بھگ 76 کو موبائل فون کی سہولت میسر ہے۔

نیا حکم لاگو ہونے کے بعد ٹیکس کی شرح کیا ہو سکتی ہے؟
موبائل سروس مہیا کرنے والی ایک کمپنی کے سینئر عہدیدار کے مطابق ٹیکس کٹوتی کی شرح کچھ اس طرح سے ہو گی کہ تقریباً 11.11 روپے (12.5 فیصد) وِدہولڈنگ ٹیکس کی مد میں، 14.51 روپے جی ایس ٹی کی مد میں (19.5 فیصد)، دس روپے موبائل سروس مہیا کرنے والی کمپنی کے ’ایڈمن چارجز‘ کی مد میں اور 1.95 روپے ایڈمن چارجز پر لگنے والے جی ایس ٹی کی مد میں کٹ جائیں گے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے فیصلے میں ایڈمن چارجز کو یکسر ختم کرتے ہوئے بقایا ٹیکس کی کٹوتی پر حکم امتناعی جاری کیا تھا۔

فیصلہ کب لاگو ہوگا؟
عہدیدار کے مطابق ’تفصیلی فیصلے سے ہی پتا چل پائے گا کہ آیا ٹیکس بحالی کا فیصلہ ایڈمن چارجز پر بھی لاگو ہو گا یا یہ صرف حکومتی ٹیکس کے بارے میں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ٹیلی کام آپریٹرز فیصلے پر عملدرآمد اس وقت کریں گے جب پی ٹی اے کی جانب سے ان کو باقاعدہ نوٹیفیکیشن موصول ہو گا۔

’نوٹیفیکیشن کے ذریعے ہی پتا چلے گا کہ اب کس شرح سے ٹیکس کٹے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سروس مہیا کرنے والی موبائل کمپنیاں صرف ودہولڈنگ ایجنٹ کے طور پر کام کرتی ہیں یعنی یہ سرکاری ٹیکس ہیں جو کمپنیاں صارفین سے اکٹھا کر کے حکومت کو دیتی ہیں اور اس سروس کے عوض انھیں بھی کچھ فائدہ ہو جاتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کمپنیوں کا فائدہ اس میں ہے کہ ٹیکس کم سے کم ہو تاکہ صارفین کی تعداد بڑھ سکے۔

رابطہ کرنے پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ تفصیلی فیصلے کے بعد ٹیکس کی شرح کے حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریوینیو نوٹیفیکیشن کا اجرا کرے گا اور یہ نوٹیفیکیشن بعد ازاں پی ٹی اے موبائل فون سروس مہیا کرنے والی کمپنیوں کو ارسال کرے گا جس کے بعد ٹیکس کٹوتی شروع ہو گی۔

عدالتی کارروائی
چیف جسٹس کی سربراہی میں نظرثانی کی اپیل کی سماعت کے دوران عدالت کی طرف سے ریمارکس دیے گئے کہ ایسے لاکھوں افراد سے ٹیکس وصول کیا جاتا رہا جو ٹیکس دینے کے قابل نہیں ہیں۔

بینچ میں موجود جسٹس قاضی فائز عیسی نے سوال کیا کہ جن وجوہات کی بنا پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا تھا کیا اس پر متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کی گئی جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اب عدالت کے لیے اس مقدمے کے آغاز کی طرف جانا مملکن نہیں رہا۔

سندھ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے وکیل خالد جاوید نے اپنے دلائل کے دوران یہ سوال بھی اُٹھایا کہ سپریم کورٹ آرٹیکل 184 کے سب سیکشن تھری کے تحت خود اپنے اختیارات کو کیسے ریگولیٹ کرے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ موبائل کارڈ پر کٹنے والے ٹیکس سے متعلق کسی بھی متاثرہ شخص نے متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ کسی شخص نے سپریم کورٹ آ کر یہ نہیں کہا کہ اس کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ لاکھوں لوگوں سے لی گئی خطیر رقم سے متعلق ہے۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ نان فائلرز سے بجلی کے بلوں میں ٹی وی ٹیکس لیا جاتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ جب مشرقی پاکستان میں سیلاب آیا تھا تو اس وقت لوگوں سے ایک گیلن پٹرول لینے پر سیلاب ٹیکس لیا جاتا تھا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا پیغام کی بنیاد پر ازخود نوٹس لیا تھا اور اس پیغام میں کہا گیا تھا کہ موبائل کمپنیوں نے ڈھونگ رچا رکھا ہے اور حکومت ناجائز ٹیکس وصول کر رہی ہے۔

سندھ حکومت کے وکیل کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر پیغام کس کی طرف سے جاری کیا گیا اس حوالے سے کچھ علم نہیں ہے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پیغام کے آخر میں تو یہ لکھا گیا تھا کہ یہ بیس کروڑ عوام کا مطالبہ ہے۔

پنجاب حکومت کے وکیل قاسم چوہان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جب سے موبائل کارڈ پر ٹیکس کاٹنے پر پابندی عائد ہوئی ہے اس کی وجہ سے گذشتہ سال پنجاب حکومت کو 27 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ اُنھوں نے کہا کہ رواں سال بھی یہ نقصان 23 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

بلوچستان حکومت کے وکیل کی طرف سے بھی دلائل دیے گئے جس کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے موبائل کارڈ پر ٹیکس نہ کاٹنے کے بارے میں جاری کیا گیا حکم امتناع واپس لے لیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.