8

منڈان روڈ دُکانداروں نے نقصانات کی ادائیگی کا مطالبہ کردیا

بنوں منڈان روڈ کشادگی کیلئے مسمار کئے گئے دُکانوں کے مالکان نے ملکیتی اراضی کا معاوضہ اور نقصانات کی ادائیگی کا مطالبہ کردیا مذکورہ روڈ محکمہ مال کے ریکارڈ کے مطابق درست اور یہاں پر کسی قسم کی تجاوزات نہیں کی گئی تھی۔
مسماری کے دوران دُکانوں کی ملکیتی 11 فٹ حصے کو روڈ میں شامل کیا گیاہے جبکہ مسماری کے دوران دُکانوں میں پڑی لاکھوں روپے کے سامان کو نقصان پہنچا یہ باتیں منڈان ہوید گیٹ سے ترنگ قبرستان کے تاجروں سابق ضلع نائب ناظم کرنل (ر) دل فراز خان، حاجی ولی آیاز خان ، عارف خان ، شاہ عالم خان ، ممتاز علی خان اور دیگر نے میڈیا سے کہی اُنہوں نے کہا کہ مذکورہ روڈ پر وقتاً فوقتاً محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی طرف سے اسٹیمیٹ لیکر تعمیراتی کام ہوئے ہیں اور اس دوران محکمہ مال نے بھی مذکورہ سڑک کی پیمائش کی جو ان کے ریکارڈ کے مطابق 33 فٹ موقع پر موجود تھا مگر موجودہ ضلعی انتظامیہ نے ظلم و زیادتی کی انتہا کرتے ہوئے دونوں اطراف سے ساڑھے پانچ ساڑھے پانچ فٹ دُکانوں اور مارکیٹوں کو گرا کر شامل کیا ہے جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔
اس کیلئے دُکانداروں کو ضلعی انتظامیہ کی طرف سے کسی قسم کی نوٹس جاری نہیں ہوئے جبکہ دُکانوں پر نشانات لگانے پر دُکانداروں نے مقامی عدالت سے حکم امتناعی بھی حاصل کرلی تھی مگر اس کے باوجود دُکانوں کو گرایا گیا لہذا چیف جسٹس سپریم کورٹ اور چیف جسٹس ہائی کورٹ ضلعی انتظامیہ کی اس ظلم و زیادتی کا ازخود نوٹس لیں تاکہ متاثرہ دُکانداروں کو زمین اور ہونے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کیا جاسکے صوبائی حکومت متاثرہ دُکانداروں کے ساتھ ہونے والی ظلم و زیادتی پر متعلقہ انتظامیہ کے خلاف کاروائی کرے بصورت دیگر یہاں کے سینکڑوں تاجر اس ظلم وزیادتی کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں