41

ممند خیل اور داود شاہ قبیلوں کی جانب سے مطالبات کے حق میں احتجاجاً ،سڑک اور پانی بند کرنے پر تحفظات کا اظہار

اقوام ممش خیل کے مشران نے ممند خیل اور داود شاہ قبیلوں کی جانب سے مطالبات کے حق میں احتجاجاً سڑک اور پانی بند کرنے پر تحفظات کا اظہار کر دیا آئے روز سیرابی پانی میں باندھ ڈال کر بند کر دیا جاتا ہے دوسری طرف دو سڑک کے مقام پر سڑک بلاک کر دی جاتی ہے جس سے ہمیں نقصان اُ ٹھانا پڑ ر ہا ہے جو ہمیں کسی صورت قبول نہیں اس سلسلے میںا قوام ممش خیل کے مشران کا شاہندی اڈہ کے مقام پر ایک جرگہ منعقد ہوا جرگے سے ملک نذیر خان صدر اصلاحی کمیٹی ، (ر)ڈائیریکٹر سلطان آ یاز خا ن ، حاجی فرح زاد خان و دیگر مشران نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام ممند خیل اور داودشاہ جب بھی اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج پر اتر آ تے ہیں تو ہماری ہزاروں ایکڑ اراضی سیراب کرنے والے پانی میں بندھ ڈال کر بند کر دیتے ہیں تو کبھی دوا سڑک کے مقام پر سڑک بند کرتے ہیں اور دعویٰ بھی کر تے ہیں کہ یہ ہماری حدود ہیں ممند خیل اور داود شاہ کا یہ اقدام ریاست کے اندر ریاست قائم کر نا ہے اس آئے روز احتجاج سے ہماری آبادی متاثر ہو رہی ہے کیونکہ پانی بند ہوجانے سے ہماری ہزاروں ایکڑ اراضی کو نقصان پہنچنے کا حدشہ پیدا ہوجاتا ہے اسی طرح دوا سڑک کے مقام پر سڑک بند کرنے سے ہمیں آمد ورفت سمیت کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ہمیشہ مشکلات درپیش ہوتی ہے خصوصا مریضوں کا ہسپتال منتقلی میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیںانہوں نے کہا کہ ہم ان کے مطالبات کے حق میں احتجاج کو نہیں روکیں گے لیکن جہاں ان دونوں اقوام کے حدود ہیں وہاں ضرور احتجاج کریں اس پر ہمیں اعتراض نہیں لیکن دوا سڑک کے مقام پر روڈ کسی صورت بند نہیں کرنے دیں گے ممند خیل اقوام داودشاہ کا کندھا استعمال کر رہے ہیں بنوچی اور اقوام وزیر کے مابین دہائیوں پہلے لڑائی کے بعد تحریری معاہدے ہوئے تھے کہ ایک دوسرے کے پیچھے آئندہ کیلئے لشکر کشی کی صورت میں نہیں جائیں گے آج وزیر قبیلہ اُسی تحریری معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور اس ساری صورتحال میں انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اگر انتظامیہ مضبوط ہو تی تو آ ج یہ نوبت نہ آ تی کہ احتجاج کے موقع پر دوا سڑک کے مقام پر مظاہرین روڈ بند کر دیتے ہیں اور آفیسر کالونی کے آفسران صرف کھڑے کھڑے دیکھتے ہیں انہوں نے دونوں مذکورہ اقوام اور ضلعی انتظامیہ کو متنبہ کیا کہ ممش خیل علاقے کی آبادی کو مزید نقصان پہنچانے سے بچایا جائے بصورت دیگر ہم راست اقدام اُٹھانے پر مجبور ہونگے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.