120

ملک بھر میں کالعدم جماعتوں پر کریک ڈاؤن جاری

پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کا کہنا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کے لیے کوششوں کو تیز کیا جارہا ہے۔ ٹوئٹر پر ٹویٹ کے ذریعے شہریار آفریدی کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف آپریشن مقاصد کے حصول تک جاری رہے گا اور یہ آپریشن نیشنل ایکشن پلان 2014 کے تحت کیا جارہا ہے۔

حکومت نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس سے پہلے فلاح انسانیت اور جماعت الدعوۃ کو کالعدم تنظیموں میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم انھیں ایسی کسی فہرست میں باقاعدہ شامل نہیں کیا گیا تھا لیکن اب پاکستانی حکومت نے ان دونوں تنظیموں کو کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

جس کے بعد اب ملک میں کالعدم تنظیموں کی تعداد 70 ہو گئی ہے اور اس ضمن میں وزارت داخلہ کی طرف سے منگل کو ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا۔ اس مراسلے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملک کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارنا شروع کردیے ہیں۔

راولپنڈی اور اسلام آباد
ضلعی انتظامیہ کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں محکمہ اوقاف نے وفاقی دارالحکومت میں کالعدم تنظیموں کے زیر انتظام مساجد و مدارس کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

بی بی سی کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں مسجد قبا اور اس سے ملحقہ قبا فری ڈسپنسری کا کنٹرول ضلعی انتظامیہ نے سنبھال لیا ہے۔ جب کہ محکمہ اوقاف نے مساجد کے نئے امام اور خطیب بھی مقرر کردیے۔ ان مساجد و مدارس کو نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے سلسلے میں تحویل میں لیا گیا ہے۔

پنجاب میں کارروائی
پنجاب میں جاری کریک ڈاؤن پر صوبائی محکمہ اوقاف کے ترجمان نے بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید کو بتایا کہ وہ لا علم ہیں کہ اب تک صوبے بھر میں کتنے مدارس اور مساجد کا کنٹرول سنبھالا گیا ہے اس پر محکمہ داخلہ ہی میڈیا کو بتائے گا۔

بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق جماعت الدعوۃ کے ارکان کا کہنا ہے کہ ان کے چند ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا ہےتاہم انھوں نے گرفتار ساتھیوں کے ناموں کی تصدیق نہیں کی۔

جماعت الدعوۃ کے مرکزی دفتر مسجد قادسیہ لاہور میں تاحال کوئی حکومتی نمائندہ نہیں پہنچا ہے۔

جماعت الدعوۃ کے ایک اہلکار کے مطابق جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن نے اپنی کارروائیاں ترک کر رکھی ہیں۔ ان میں وہ ایمبولینس سروس بھی شامل ہے جو فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے تحت چلائی جاتی ہے۔

تاہم حکومت کی جانب سے اب تک اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ جماعت الدعوۃ کے کتنے کارکنان کو گرفتار کیا ہے یا فلاح انسانیت کی ایمبولینسز یا دفاتر کو تحویل میں لیا گیا ہے۔

سندھ میں آپریشن
کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سندھ کے محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ جماعت الدعوۃ اور اس کے ذیلی ادارے فلاح انسانیت کو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفیکینش جاری ہوگیا ہے جس کے بعد صوبے میں ان کے اثاثے اور املاک ضبط کی جا رہی ہیں۔

محکمہ داخلہ کے سیکریٹری عبدالکبیر قاضی نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبہ سندھ میں جماعۃ الدعوۃ کے 31 اسکول، 9 ہسپتال اور 16 مدارس موجود ہیں جنھیں کنٹرول میں لیا جائیگا یہ زیادہ تر املاک اور ادارے کراچی میں واقع ہیں۔

کراچی میں فلاح انسانیت کی ایمبولنس اور فائر بریگیڈ سروس بھی موجود ہے جبکہ کراچی، تھرپارکر اور حیدرآباد سمیت کئی شہروں میں ہسپتال موجود ہیں۔

جیش محمد کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ جیش پہلے ہی کالعدم ہے اس کے دور کارکنوں کو غیر قانونی سرگرمیوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹر مرتضی وہاب کا کہنا ہے کہ جماعۃ الدعوۃ اور فلاح انسانیت کے اداروں کو چلانے کے لئے ضلعی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی گئیں ہیں۔ کمیٹی میں محکمہ تعلیم، صحت، اوقاف اور متعلقہ ڈپٹی کمشنر ممبر ہونگے۔ کسی کو پریشانی کی ضرورت نہیں ان اداروں کی تمام فنڈنگ اب سندھ حکومت کریگی۔

خیبر پختونخوا کی کارروائیاں
خیبر پختونخوا کے 16 اضلاع میں کالعدم قرار دی گئی تنظیم جماعت الدعوۃ اور فلاح انسایت کے زیر انتظام مدارس مساجد، ڈسپنسریز اور ایمبولینسز کی نشاندہی کر دی گئی ہے لیکن اب تک ان کے خلاف کوئی کارروائی شروع نہیں کی گئی۔

محکمہ داخلہ کے زرائع نے بتایا کہ پشاور اور کوہاٹ میں ضلعی انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ ان دونون تنظیموں کے زیر انتظام مدارس مساجد ڈسپنسریز اور ایمبولینسز کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا ئے۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق جماعت الدعوۃ کے مقامی ترجمان نے بتایا کہ تاحال خیبر پختونخوا میں ان کے خلاف کوئی کارروائی شروع نہیں کی گئی اور ناں ہی اب تک گرفتاری کی گئی ہے۔

بی بی سی نے جب وزرات داخلہ کے سیکرٹری کے دفتر سے رابطہ کیا تو وہاں موجود ایک اہلکار نے بتایا کہ انھیں بھی ذرائع ابلاغ سے معلوم ہوا ہے کہ شدت پسندوں تنظیموں کے خلاف کاروائیوں کا آغاز کیا جارہا ہے۔ تاہم انھیں اس بارے میں کوئی علم نہیں کہ اس ضمن میں پشاور یا صوبے کے کسی علاقے میں کوئی کارروائی ہوئی ہے یا نہیں۔

پشاور میں کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے ارکان نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دیگر شہروں میں ان کے دفاتر پر چھاپے مارے جانے کی اطلاعات ہیں لیکن پشاور میں ابھی تک ایسی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.