37

ملالہ یوسف زئی کی ساڑھے پانچ برس بعد پاکستان آمد

امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی دنیا کی کم عمر ترین شخصیت ملالہ یوسف زئی ساڑھے پانچ برس بعد اپنے آبائی وطن پاکستان پہنچی ہیں۔

ملالہ کے اس اچانک دورے کا مقصد تاحال واضح نہیں تاہم انھوں نے جمعرات کی صبح وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی ہے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اس ملاقات میں وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب، وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان کے علاوہ مسلم لیگ ن کی رہنما ماروی میمن بھی موجود تھیں۔

ملالہ یوسف زئی نجی ایئر لائن کی پرواز کے ذریعے بدھ کو رات ڈیڑھ بجے اسلام آباد پہنچیں۔ یہ معلوم نہیں وہ اپنے آبائی علاقے میں جائیں گی یا نہیں تاہم یہ بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ان کا قیام چار روز کے لیے ہو گا۔

ملالہ کو اکتوبر 2012 میں قاتلانہ حملے کے بعد علاج کے لیے انگلینڈ منتقل کیا گیا تھا اور وہ صحت یاب ہونے کے بعد حصولِ تعلیم کے لیے وہیں مقیم ہیں۔

ملالہ اور ان کے اہلِ خانہ کی سکیورٹی کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے اور انھیں ایئرپورٹ سے سکیورٹی قافلے کے ساتھ اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں پہنچایا گیا۔

بی بی سی سے گفتگو میں ملالہ کے والد ضیا الدین یوسف زئی کے قریبی دوست ہمایوں مسعود نے بتایا کہ بدھ کی رات انھیں بتایا گیا تھا کہ ملالہ سنیچر کو اسلام آباد میں ایک پروگرام میں شرکت کریں گی جس میں انھیں بھی شریک ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملالہ اور ان کا خاندان خاص طور پر ان کی والدہ پاکستان کو بہت یاد کرتی تھیں اور کچھ عرصے سے ان کا ملک واپسی کا پروگرام بن رہا تھا۔

ملالہ یوسف زئی دس دسمبر 2014 کو دنیا کی سب سے کم سن نوبل امن انعام جیتنے والی شخصیت بنی تھیں اور وہ گذشتہ برس سے برطانیہ کی آکسفرڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔

گذشتہ برس اپریل میں اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری نے انھیں اپنا سفیر برائے امن مقرر کیا تھا اور اپنے نئے کردار میں وہ دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ میں مدد کر رہی ہیں۔

ملالہ یوسف زئی 12 جولائی سنہ 1997 کو پاکستان کی وادی سوات میں پیدا ہوئی تھیں۔ ملالہ بی بی سی اردو سروس کے لیے گل مکئی کے نام سے ڈائری لکھا کرتی تھیں کہ ان کے آبائی علاقے میں طالبان کے خوف کے سائے میں زندگی کیسی ہے۔

اکتوبر 2012 میں ملالہ کو طالبان نے ایک قاتلانہ حملے میں نشانہ بنایا تھا۔ انھیں اس وقت سر میں گولی ماری گئی تھی جب وہ سکول سے گھر جا رہی تھیں۔

انھیں علاج کے لیے برطانیہ منتقل کیا گیا تو کچھ عرصے بعد کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے رہنما نے برطانیہ میں مقیم ملالہ یوسف زئی کو بھی ایک خط بھیجا تھا جس میں ان پر قاتلانہ حملہ کرنے کے مقاصد کی وضاحت کی گئی تھی اور کہا تھا کہ اگر وہ پاکستان لوٹیں تو انھیں پھر نشانہ بنایا جائے گا۔

گذشتہ برس ستمبر میں کراچی پولیس نے ایک مقابلے میں ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملے میں ملوث شدت پسند کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں