40

ملالہ تاریخ کی نظر میں

پختونوں کی تاریخ میں ایک ملالہ گزری ہے ۔۔۔ جوقندھار کے علاقے میوند کی رہنی والی تھی ۔ 1861 میں پیدا ہوئ ۔۔۔ایک غریب چرواہے کی بیٹی تھی ۔۔۔ایک مقامی لڑکے کے ساتھ اسکی منگنی بھی ہوئی تھی ۔۔۔۔1880 میں فرنگیوں نے دوسری بار افغانستان پر قبضے کیلیے فوج بھیجی ۔۔۔۔ اس وقت امیر افغانستان شیر علی خان کا بہادر بیٹا ایوب خان افغانی فوج کا کمانڈر تھا ۔۔۔۔افغانی فوج شکست کے قریب تھی ۔۔۔۔ملالئ بھی دوسری افغان خواتین کی طرح اپنے فوج کی زخمیوں کی مرہم پٹی اور مدد میں مصروف تھی ۔۔۔یہ دن ملالہ کے شادی کا دن بھی تھا ۔27 جولائی 1880 کے افغانی فوج شکست سے دو چار ہورہء تھی ۔۔۔ کہ اتنے میں ملالی نے اپنے دوپٹے سے جھنڈا بنایا اور میدان میں آئی اور افغان فوج کے سامنے پشتو زبان میں چند جنگی اشعار (ٹپے)گایے ۔۔۔۔ ملالہ کے خون گرما دینے والے اشعار سن کر افغان فوج اس سر نو منظم ہوئی ۔ اور نئے جذبے سے حملہ آور ہوئی۔۔۔۔۔انگریز یہ دیکھ کر ۔کہ ایک لڑکی کی وجھ سے وه جنگ ہار رہے ہیں ۔۔۔فرنگی فوج نے ملالہ کو نشانہ بنایا اور وه شہید ہوگئی ۔۔۔۔لیکن ایوب خان کے سر براہی میں افغان جیت گئے ۔۔۔انگریزوں کو شکست ہوئی 19 سالہ ملالی کے نام پر افغانستان میں اسکول کالج سڑکیں قائم ہیں ۔۔۔وه پچھلے 140 سال سے افغان ہیرو ہے ۔۔۔اور پختون ادب انکی ذکر سے بھرا پڑا ہے ۔۔۔۔۔ھر سال 27 جولائی کو اس کا دن منایا جاتا ہے اور افغانی عزت سے اسکو” ملالئ نیا ” یعنی دادی ملالی کہتے ہیں ۔۔۔۔
مشہور ٹپہ۔جو ملالئ نے بآواز بلند کہا۔
“کہ پہ میوند کے شہید نہ شوے
گرانہ لالیہ بے ننگئ لہ د ساتینہ”

میری جان ! اگر تم میوند میں بھی شہید نہ ہوئے تو۔
تو تمھاری بے حمیتی کو یاد رکھا جائے گا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.