21

ملائیشیا: مہاتیر محمد کی تاریخی واپسی، انتخابات میں کامیابی

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ مہاتیر محمد کے حزب مخالف اتحاد نے 115 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ اسے حکومت بنانے کے لیے 112 نشستوں کی ضرورت تھی. ملائیشیا کے انتخابات میں فتح کے بعد سابق وزیراعظم مہاتیر محمد دنیا کے سب سے معمر منتخب حکمران بننے کی راہ پر ہیں۔

92 سالہ مہاتیر محمد نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی ہوئی تھی تاہم 2016 میں انھوں نے یہ فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے ملائیشین یونائیٹڈ انڈیجنس پارٹی قائم کی تھی۔

حالیہ انتخابات میں حکومتی اتحاد کے خلاف اپوزیشن کے پکاتان ہراپان اتحاد کی سربراہی مہاتیر محمد کے پاس تھی۔

عام انتخابات میں کچھ نشستوں پر ووٹوں کی گنتی باقی ہے تاہم سرکاری نتائج نے ظاہر کر دیا ہے کہ ان کے پکتان ہرپن اتحاد نے برنیو میں سبھا ریاست اتحاد کے ساتھ مل کر 115 نشستیں جیت لی ہیں جبکہ اسے حکومت بنانے کے لیے 112 نشستوں کی ضرورت تھی۔

یوں مہاتیر محمد نے برسرِاقتدار نجیب رزاق کے باریسن نیشنل اتحاد کو شکست دی ہے۔ یہ اتحاد گذشتہ 60 سالوں سے ملک پر حکومت کر رہا تھا۔

نجیب رزاق پر بدعنوانی اور اقرباپروری کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ عوامی فیصلے کو قبول کریں گے۔

اس موقعے پر مہاتیر محمد نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہم بدلہ نہیں چاہتے، ہم قانون کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں حلف برداری کی تقریب جمعرات کو ہو گی جس کے بعد مہاتیر محمد دنیا کے معمر ترین منتخب رہنما بن جائیں گے۔

بعد میں حکومت کے ترجمان نے ملک میں جمعرات اور جمعے کو سرکاری چھٹی کا اعلان کیا۔

جیسے ہی انتخابات کے نتائج واضح ہونے لگے حزب مخالف کے حامی جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔

تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملک میں اقتدار کی منتقلی کے عمل کو بالکل آسان نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ ملک میں کسی ایک جماعت نے اکثریت حاصل نہیں کی ہے اور اب یہ فیصلہ ملک کے بادشاہ کا ہے کہ حکومت کون بنائے گا۔

ملائیشیا کی برسرِاقتدار باریسن نیشنل اتحاد اور اس کی بڑی جماعت دی یونائیٹڈ مالیز نیشنل آرگنائزیشن نے 1957 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے ملکی سیاست پر غالب رہی تھی تاہم حالیہ برسوں کے دوران اس کی مقبولیت میں کمی دیکھی گئی ہے۔

خیال رہے کہ سنہ 2013 میں ہونے والے عام انتخابات میں حزب مخالف کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی تھی لیکن وہ حکومت بنانے کے لیے درکار نشستیں حاصل نہیں کر پائی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں