22

معیاری باؤلنگ کے سبب پی ایس ایل دنیا کی مشکل ترین لیگ قرار

پاکستان سپر لیگ میں پشاور زلمی کی نمائندگی کرنے والے نامور ویسٹ انڈین بلے باز ڈیوین اسمتھ نے پاکستانی باؤلرز کی معیاری باؤلنگ کی وجہ سے پی ایس ایل کو دنیا کی بقیہ لیگز کی نسبت مشکل ترین لیگ قرار دیدیا ہے۔ابتدائی تین میں سے دو میچز ہارنے والی دفاعی چمپئن پشاور زلمی کے بلے باز نے کہا کہ شکستوں کے باوجود ہمیں ایونٹ سے باہر قرار نہیں دیا جا سکتا اور ہم پلے آف مرحلے میں رسائی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز کراچی کنگز کے خلاف میچ میں ڈیوین اسمتھ نے ناقابل شکست 71 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی لیکن اس کے باوجود ان کی ٹیم کو کراچی کنگز کے خلاف میچ میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ ہم ایونٹ میں شاندار انداز میں واپسی کریں گے، ہم اس میچ میں شکست کو سر پر سوار نہیں کریں گے اور پلے آف کیلئے کوالیفائی کرنے میں کامیاب رہیں گے۔
انہوں نے زلمی کے شائقین کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہمت نہ ہاریں کیونکہ ہم نے بھی ہمت نہیں ہاری۔ ہم ایونٹ میں بھرپور طریقے سے واپسی کریں گے اور آخری دم تک جیت کیلئے لڑیں گے۔ادھر پاکستان نژاد مایہ ناز جنوبی افریقی اسپنر عمران طاہر نے بھی پاکستان سپر لیگ میں کھیل کے اعلیٰ معیار کو سراہتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان سپر لیگ کا حصہ بننے پر بہت فخر محسوس کر رہا ہوں۔
کراچی میں پیدا ہونے والے عمران طاہر مواقع نہ ملنے پر جنوبی افریقہ منتقل ہو گئے تھے اور انہوں نے جنوبی افریقی ٹیم میں جگہ بناتے ہوئے محدود اوورز کی کرکٹ میں خود کو دنیا کا بہترین باؤلر ثابت کیا۔20 ٹیسٹ، 85 ون ڈے اور 36 ٹی20 میچ میں جنوبی افریقہ کی نمائندگی کرنے والے عمران طاہر نے کہا کہ یہ ایک شاندار لیگ ہے، مجھے امید نہیں تھی کہ یہ لیگ اتنی شاندار ثابت ہو گی تاہم اب میں اس لیگ کا حصہ بننے پر فخر محصوس کر رہا ہوں۔پہلی مرتبہ پی ایس ایل کا حصہ بننے والے لیگ اسپنر ملتان سلطانز کی نمائندگی کر رہے ہیں اور اب تین میچوں میں سات وکٹیں لے کر ایک مرتبہ پھر اپنی اہلیت کو ثابت کر چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.