114

مصباح الحق: میرے لیے کرکٹ کا جنون سب سے اہم ہے

بین الاقوامی کرکٹ کو خیر باد کہنے کے بعد کرکٹرز یا تو ٹیم کی سلیکشن اور کوچنگ سے وابستگی اختیار کر لیتے ہیں یا پھر کمنٹیٹر کے روپ میں نظرآنے لگتے ہیں لیکن مصباح الحق کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔

مصباح الحق کو بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہوئے دو سال ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ فرسٹ کلاس اور فرنچائز کرکٹ باقاعدگی سے کھیل رہے ہیں اور منگل کو ہی انھوں نے پاکستان سپر لیگ میں لاہور قلندرز کے خلاف میچ میں پشاور زلمی کو اپنے بل بوتے پر فتح سے ہمکنار کروایا۔

مصباح 44 برس کے ہو چکے ہیں لیکن کھیل میں ان کی غیر معمولی دلچسپی اور میدان میں دیانت داری میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ لوگوں کو حیرت اس بات پر ہے کہ مصباح الحق نے اس عمر میں خود کو اتنا متحرک کیسے رکھا ہوا ہے۔؟

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ان کے لیے کرکٹ کا جنون سب سے اہم ہے اگر وہی ختم ہو جائے تو پھر کوئی بھی چیز آپ کو متحرک نہیں کر سکتی چونکہ یہ جنون باقی ہے اسی لیے وہ کھیل سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ انھیں مشکل صورت حال اور چیلنجز میں کھیلنے میں مزا آ رہا ہے۔

پاکستان سپر لیگ میں پشاور زلمی کی جانب سے کھیلنے والے مصباح الحق کے مطابق اگر وہ محنت نہ کر رہے ہوتے اور فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلے بغیر پاکستان سپر لیگ میں آجاتے تو ان کے لیے یہاں کھیلنا بہت مشکل ہو جاتا۔

ان کا کہنا تھا ’میں نے قائداعظم ٹرافی کے بعد گریڈ ٹو کرکٹ بھی کھیلی جہاں لمبے وقت تک بیٹنگ اور فیلڈنگ کرنی پڑتی ہے اس سے مجھے بہت فائدہ ہوا۔‘

یاد رہے کہ مصباح الحق نے سوئی نادرن گیس کی جانب سے قائداعظم ٹرافی میں چار نصف سنچریاں بنائی تھیں جن میں حبیب بینک کے خلاف فائنل میں 91 رنز کی اننگز قابل ذکر تھی اس کے بعد انھوں نے قائداعظم ٹرافی گریڈ ٹو میں بھی فیصل آباد کی ٹیم کی قیادت کی جو چیمپیئن بنی۔

مصباح الحق تین سال میں دو بار اپنی قیادت میں اسلام آباد یونائٹڈ کو پی ایس ایل کا چیمپیئن بنوانے کے بعد اب پشاور زلمی کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

کوئٹہ کے خلاف پہلے میچ میں ناقابل شکست 49 رنز بنانے کے بعد وہ ان فٹ ہو گئے تھے جس کی وجہ سے وہ سات میچ نہ کھیل سکے تاہم لاہور قلندر کے خلاف ان کی واپسی پراعتماد انداز میں ہوئی اور انھوں نے 59 رنز بنا کر اپنی ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ 20 روز کے بعد دوبارہ کھیلتے ہوئے انھیں یہ محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ اپنے کریئر کا پہلا میچ کھیل رہے ہوں۔

مصباح الحق نے لاہور قلندر کے نیپال سے تعلق رکھنے والے لیگ سپنر سندیپ لمیچانے کے خلاف جارحانہ بیٹنگ کے بارے میں کہا کہ لمیچانے نے پی ایس ایل میں بیٹسمینوں کو کافی پریشان کیا ہوا ہے لیکن انھیں لمیچانے کی گگلی کو کھیلنے میں کوئی دقت نہیں ہوئی۔ یہی ٹیم کی منصوبہ بندی تھی کہ وہ وکٹ پر ٹھہریں اور لمیچانے پر حاوی رہیں۔

مصباح الحق نے ابو ظہبی کے جس میدان میں نصف سنچری سکور کی وہ ان کا پسندیدہ گراؤنڈ رہا ہے۔

انھوں نے یہاں ٹیسٹ میچوں میں پانچ سنچریاں سکور کی ہیں جن میں آسٹریلیا کے خلاف 56 گیندوں پر بنائی گئی سنچری نمایاں ہے۔

مصباح نے یہ سنچری بنا کر ویسٹ انڈیز سے تعلق رکھنے والے سر ویوین رچرڈز کا سب سے کم گیندوں میں سنچری کا ریکارڈ برابر کیا تھا۔ یہ ریکارڈ بعد میں نیوزی لینڈ کے برینڈن مک کلم نے 54 گیندوں پر سنچری بنا کر توڑ دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.