150

مسلم دنیا کی بے حسی ایک بار پھر عروج پر

دی بنوں: شام میں جو ظلم ہو رہا ہے ناقابل بیان ہے۔ مسلمانوں کی بے حسی ایک بار پھر عروج پر ہے۔ آج وہی حال ہے جو چنگیز خان کے وقت تھا۔ اس وقت مسلمان اداب مسلمانی بھول گئے تھے۔ یاد رکھنا اللہ کا اصول سادہ ہے جو اسکی بندگی چھوڑ کر نفس کی بندگی کرے، شیطان و طاغوت کی اطاعت کرنا شروع کرے۔ من چاہی زندگی شروع کرے تو اللہ اسے درندوں کے سپرد کر دیتا ہے۔ چنگیز خان کے دور میں مسلمانوں کا جو حشر ہوا تاریخ میں ایسا حشر کسی کا نہیں ہوا۔ اللہ تعالی نے بار بار اشارے دیے تھے۔ منگول حملہ سے پہلے مصر میں اللہ نے ایسا قحط مسلط کیا تھا کہ مسلمان اپنے نومود بچوں کو کھاتے۔ شائد کوئی یقین ہی نہ کرے کہ اپنے نومولودوں کو کیسے کھایا جاتا ہے۔ جی ہاں ایسا ہوا ہے اور اس وقت ہوا ہے جب اسلام کئی صدیاں گذار چکا تھا اور وسطی ایشیا اور بغداد میں مستحکم اسلامی حکومتیں تھیں۔

درندہ صفت فوج، لبنان کے دہشت گرد گروپ حزب الشیطان اور ایران کی پاسبان انقلاب کے درندوں نے مل کر ایک لاکھ سے زیادہ نہتے مسلمانوں کو قتل کردیا ہوا ہے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ ان درندوں نے ظلم کی وہ داستانیں رقم کی ہیں کہ جنگیز خان اور ہلاکوں خان کی درندگی کو بھی شرمندہ کردیا ہے۔ معصوم دودھ پیتے بچوں تک کو ذبحہ کیا گیا ہے، ہم سمجھتے تھے کہ یہودی ہی ایسا ظالم ہے جو بچوں اور عورتوں کو بھی نہیں بخشتا مگر یہ یہود کی اولاد ان یہودیوں سے بھی زیادہ درندہ صفت نکلے کیونکہ ہم نے آج تک نہیں سنا کہ کسی یہودی نے بچوں کو پکڑ کر ذبحہ کیا ہو مگر شیعہ یہود النسل نے ایک سکول میں گھس کر 300 سے 400 معصوم بچوں کو خنجروں اور تلواروں سے ذبحہ کردیا تھا۔


یہ ان معصوم بچوں کی نعشوں کی تصویریں ہیں جن کو سکول میں ذبحہ کیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.