17

مسلمان رہنماؤں کے اعزاز میں ٹرمپ کی دعوتِ افطار

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو رمضان کی مبارک دیتے ہوئے روزے کو “دنیا کے عظیم ترین مذاہب میں سے ایک کا مقدس فریضہ” قرار دیا ہے۔

وہ بدھ کو وائٹ ہاؤس میں مسلمان سفیروں کے اعزاز میں دی جانے والی دعوتِ افطار سے خطاب کر رہے تھے۔

لگ بھگ گزشتہ ڈیڑھ سال سے برسرِ اقتدار صدر ٹرمپ کے دورِ صدارت میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے دی جانے والی یہ پہلی دعوتِ افطار تھی جس میں سعودی عرب، کویت، اردن، متحدہ عرب امارات اور دیگر مسلم اکثریت ملکوں کے امریکہ میں تعینات سفیروں اور صدر ٹرمپ کی کابینہ کے ارکان شریک ہوئے۔

وائٹ ہاؤس نے پہلی بار صدر بل کلنٹن کے دور میں ہر سال رمضان میں مسلمانوں کے اعزاز میں دعوتِ افطار دی تھی جس کے بعد سے یہ ایک مستقل سالانہ روایت بن چکی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں مسیحیت اور یہودیت سمیت دیگر بڑے مذاہب کے مقدس دنوں کے موقع پر بھی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔

صدر کلنٹن کے بعد آنے والے صدور جارج ڈبلیو بش اور صدر اوباما بھی اپنے دورِ صدارت کے دوران پابندی سے ہر سال رمضان میں امریکی مسلمان رہنماؤں اور سفیروں کو افطار پر مدعو کرتے رہے۔

یہاں تک کہ 11 ستمبر 2001ء کے دہشت گرد حملوں کے فوراً بعد بھی صدر بش نے وائٹ ہاؤس میں مسلمان رہنماؤں اور نمایاں شخصیات کو افطار پر وائٹ ہاؤس مدعو کیا تھا۔

البتہ گزشتہ سال رمضان میں صدر ٹرمپ نے یہ روایت توڑ دی تھی اور وائٹ ہاؤس میں کسی افطار ڈنر کا انعقاد نہیں کیا گیا تھا۔

اس کے برعکس وائٹ ہاؤس نے عید کے موقع پر محض ایک بیان جاری کیا تھا جو دہشت گردی کے مسئلے اور اس کے مقابلے کی ضرورت پر زور دینےجیسے معاملات پر مرکوز تھا۔

لیکن اس بار اپنی روایت کے برعکس رمضان کے آغاز پر بھی وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں انہوں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو رمضان کی مبارک باد دی تھی۔

صدر ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں اور اسلام سے متعلق متنازع بیانات کے باعث مختلف حلقوں کی تنقید کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔

ایک موقع پر انہوں نے مسلمانوں کی امریکہ آمد پر مکمل پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا جب کہ گزشتہ سال انہوں نے برطانیہ کے ایک انتہائی دائیں بازو کی تنظیم کی جانب سے بنائی جانے والی مسلمان مخالف ویڈیوز اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شیئر کی تھیں۔

بدھ کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی افطار کے مقابلے پر وائٹ ہاؤس کے سامنے پارک میں امریکہ کی بعض مسلمان تنظیموں نے ‘ناٹ ٹرمپ افطار’ کے عنوان سے احتجاج کیا۔

احتجاج کے دوران مسلمانوں نے وائٹ ہاؤس کے سامنے ہی روزہ افطار کیا۔ احتجاجی افطار کے منتظمین کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے اشتعال انگیز بیانات کے نتیجے میں امریکہ میں مسلمانوں کے ساتھ بدسلوکی اور امتیازی سلوک میں اضافہ ہوا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.