70

مسلمانوں پر مظالم کے واقعات، اقوام متحدہ کی انڈیا کو تنبیہہ

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی سربراہ مشیل باچلے نے انڈیا کو متنبہ کیا ہے کہ ملک کے اندر ’تقسیم کرنے والی پالیسی‘ سے معاشی مفادات کو دھچکہ لگ سکتا ہے۔

مشیل نے کہا کہ ملک میں گھٹے ہوئے سیاسی ایجنڈے کی وجہ سے کمزور طبقہ پہلے ہی مشکل میں ہے۔

مشیل نے کہا کہ ’ہمیں ایسی اطلاعات مل رہی ہیں جن سے اس بات کے اشارے ملتے ہیں کہ اقلیتوں کے ساتھ تشدد کے واقعات بڑھے ہیں۔ خاص طور پر مسلمان اور تاریخی طور پر پسے ہوئے طبقات جن میں دلتوں اور قبائلیوں کا استحصال بڑھ رہا ہے۔‘

مشیل نے یہ بات جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کی سالانہ رپورٹ میں کہی۔

اس سے قبل گزشتہ برس اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور اس کی جانچ کی بات کہی تھی۔

اُس وقت کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی رپورٹ کو انڈیا نے یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کہ یہ خود مختاری کی خلاف ورزی اور علاقائی اتحاد کے خلاف ہے۔

سنہ 2016 میں بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ میں انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی مذمت کی گئی تھی۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے گرین پیس اور فورڈ کا حوالہ دیتے ہوئے غیر سرکاری اداروں اور سماجی کارکنان کو ہدف بنانے اور فلاحی منصوبوں کے لیے غیر ملکی فنڈز پر پابندی لگائے جانے کے باعث مودی حکومت کو برا بھلا کہا تھا۔

اس کے علاوہ ہیومن رائٹس واچ کی 2016 کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ نریندر مودی کی حکومت آزادی اظہار پر ہونے والے حملوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔

اپنی 659 صفحوں کی رپورٹ میں ہیومن رائٹز واچ نے کہا تھا کہ سرکار یا کچھ صنعتی منصوبوں کی مخالفت کرنے والے غیر سرکاری اداروں کو ملنے والے غیر ملکی فنڈز پر پابندی لگا دی گئی۔ اس سے انسانی حقوق کے دیگر ادارے بھی حیران ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کی میناکشی گانگولی نے کہا کہ ’عدم اتفاق پر مودی حکومت کا جو رویہ ہے اس سے ملک میں آزادی اظہار کی روایت کو دھچکہ لگا ہے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.