22

مدرٹریسا چیرٹی ہوم سے نومولود بچے کی فروخت پر گرفتاریاں

انڈیا کی ریاست جھارکھنڈ میں پولیس نے مدر ٹریسا کے نام سے منصوب فلاحی ادارے کے ساتھ کام کرنے والی ایک خاتون کو نومولود بچے کو بیچنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں پولیس نے ایک عورت کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ دو مزید خواتین سے چیرٹی ہوم سے بچوں کو بیچنے کے شبہے میں پوچھ گچھ جاری ہے۔

پولیس نے مدر ٹریسا چیرٹی ہوم کے ساتھ کام کرنے والی خاتون کو گرفتار کرنے کا فیصلہ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کی شکایت پر کیا ہے۔

بی بی سی نے چیرٹی سے ان موقف جاننے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔

پولیس اہلکار نراج سنہا نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ پولیس کو معلوم ہوا ہے کہ اس سینٹر سے کچھ اور بچوں کو بھی غیرقانونی پر فروخت کیا گیا ہے۔ پولیس اہلکار نے بتایا کہ ایسی ماؤں کے نام حاصل کر لیے گئے ہیں جن کے بچوں کو بیچا گیا ہے اور اس سلسلے میں مزید تحقیق جاری ہے۔

پولیس نے سینٹر سے ایک لاکھ 40 ہزار روپے بھی برآمد کیے ہیں۔

نوبیل انعام یافتہ مدر ٹریسا کا 1997 میں انتقال ہو گیا تھا۔ انھوں نے 1950 مشنریز آف چیرٹی کی بنیاد رکھی تھی۔

چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کی چیئرمین روپا کماری نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پولیس اترپردیش کے ایک جوڑے کو ایک لاکھ 20 ہزار کے عوض بچے کو بیچنے کے معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔

کمیٹی کی چیئرمین نے بتایا کہ اس جوڑے کو بتایا گیا تھا کہ یہ رقم میڈیکل اخراجات کے سلسلے میں لی جا رہی ہے۔

روپا کماری نے مزید بتایا کہ جب کسی حاملہ عورت کو چیرٹی ہوم میں رکھا جائے تو کہ اس کی اطلاع چائلڈ ویلفیر کمیٹی کو دی جانی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ کیمٹی کو معلوم ہوا کہ دوسرے شہروں میں بھی بچوں کو 50 سے 70 ہزار روپے کے عوض فروخت کیا گیا ہے۔

چائلڈ ویلفیئر کیمٹی نے مدر ٹریسا چیرٹی میں مقیم 13 حاملہ عورتوں کو مختلف جگہوں پر منتقل کر دیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.