17

محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے چھ پیکجز کے ٹینڈرز میں ای بیڈنگ قوانین کی خلاف ورزی

محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے چھ پیکجز کے ٹینڈرز میں ای بیڈنگ قوانین کی خلاف ورزی، ٹھیکیدار سے زبردستی ٹینڈر واپس لینے پر ہاتھ پائی،افسران اور عملے کی ملی بھگت سے خزانے کو کروڑوں کا ٹیکہ لگنے کا انکشاف ہوا ہے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء سابق ڈسٹرکٹ کونسلر سید جعفر شاہ نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ 12 نومبر کو حلقہ پی کے 89 کے 30 کروڑ روپے کے منصوبوں کیلئے چھ پیکجز پر مشتمل ٹینڈر ہوئے جس میں ہم نے بھی ” ای بیڈنگ ” آن لائن قانون کے تحت دس فیصد بلوپر تمام پیکجز میں حصہ لیا تھا اور کال ڈیپازٹ جمع کی تھی جس کے کھولنے کیلئے دو بجے کا وقت مقرر تھا مگر تین ہفتے گزرنے کے باوجود ٹینڈرز نہیں کھولے گئے اس دوران حلقہ کے ایم پی اے ملک شاہ محمد خان اور امیر زادہ نے غنڈوں کے ذریعے سے زبردستی ٹینڈر فارم واپس کرنے کیلئے بندوق تھانی اور گالم گلوچ کرکے بدتمیزی کی جو ہاتھ پائی میں بدل گئی جس پر ڈی آئی جی بنوں ڈی پی او بنوں سمیت دیگر پولیس و انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے اُنہوں نے کہا کہ ہم بار بار سی اینڈ ڈبلیو کے آفسران اور عملے سے پوچھ رہے ہیں کہ ٹینڈرز کیوں نہیں کھولے جا رہے مگر کوئی بھی ذمہ داری ہمیں جواب نہیں دے رہا اب ہمیں پتہ چلا ہے کہ ایم پی اے اور افسران و عملے کی ملی بھگت سے سمجھوتے کی بنیاد پر غیر قانونی طریقے سے بند کمرے میں راتوں رات ٹینڈرز کھولے گئے ہیں اور آن لائن (ای بیڈنگ ) قوانین کے تحت ٹینڈرز کھولنے کی خلاف ورزی کی گئی ہے جس سے آٹھ کروڑ روپے خزانے کو نقصان پہنچایا گیا ہے جبکہ ہماری دس فی صد بلو کے تحت خزانے کو ساڑھے کروڑ روپے منافع ملنا تھا اُنہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہم نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ،صوبائی وزیر ،سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو سمیت دیگر متعلقہ آفسران کو درخواستیں دے کر آگاہ کیا ہے کہ جو ٹینڈرز کیلئے جو آن لائن طریقہ کار کے مطابق قوانین بنائی گئی ہیں اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہی بلکہ اس سے ہٹ کر ٹینڈرز کھولے گئے ہیں لہذا وہ ٹینڈرز کے غیر قانونی عمل درآمد میں ملوث تمام آفسران اور اہلکاروں کے خلاف انکوائری کرکے کارروائی عمل میں لائے بصورت دیگر ہم مذکورہ منصوبوں پر عدالت سے رجوع کریں گے اسی طرح ہم یونین کے رہنماؤں سمیت عوام کو سڑکوں پر نکال کر احتجاجی تحریک شروع کریں گے اس دوران کسی بھی نقصان کی ذمہ داری صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام پر عائد ہو گی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.