28

محمد بن سلمان سے جی 20 اجلاس کے دوران کون ملا اور کون کترایا؟

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے جی 20 اجلاس ایک امتحان ثابت ہونا ہی تھا کیوں کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ محمد بن سلمان ایک بین الاقوامی سٹیج پر نظر آ رہے ہیں۔

بڑے پیمانے پر یہ الزمات لگ رہے ہیں کہ خاشقجی کے قتل کے احکامات سعودی حکومت میں بہت اعلیٰ سطح سے آئے تھے۔

تو بیونس آئرس میں ہونے والا اجلاس ایک موقع ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ کیا ان الزامات کی وجہ سے ولی عہد کو بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا سامنا ہے بھی یا نہیں۔

اس کے پہلے اشارے اس فیملی فوٹو سے ملے جو اس قسم کے عالمی اجلاس میں کھینچی جاتی ہے۔ آپس میں بات چیت، مصاحفے اور حرکات و سکنات ایسا بہت کچھ ظاہر کر دیتی ہیں جو پریس کو دیا گیا ایک سفارتی یا سیاسی بیان چھپا سکتا ہے۔

سعودی ولی عہد اس تصویر میں قطار کے آخر میں کھڑے نظر آئے۔ وہ جی 20 میں واحد عرب لیڈر ہیں اور سوٹ پہنے حکمرانوں کے سمندر میں اپنے روایتی لباس میں آرام سے نظروں میں آ رہے تھے۔ کئی موقعوں پر ان کے چہرے پر غیر یقینی اور پریشانی نظر آئی۔ بعض حکمرانوں نے ان سے مختصر بات چیت کی اور کئی نے تو خود آگے بڑھ کر مصاحفہ کیا۔

یہ لیڈر جانتے ہیں کہ ان کے بعض ووٹر سعودی حکمران کو کتنا خطرناک سمجھتے ہیں۔ ایک شخص جن کا رویہ ان کی طرف بالکل مختلف تھا وہ ہیں روسی صدر پوتن۔ وہ پرتپاک انداز میں محمد بن سلمان کی طرف بڑھے اور بڑی سے مسکراہٹ کے ساتھ دونوں نے ہائی فائیو کیا۔ روسی حکمران مغرب کے لبرل حکمرانوں کو غصہ دلانے کے ماسٹر ہیں اور اپنے اقدامات سے یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ سعودی عرب سے قریبی تعلقات ان کی سٹریٹیجک ضرورت ہے۔

کئی لیڈروں نے ان سے مختصر اور رسمی بات چیت بھی کی ہے جن میں امریکہ، انڈیا، جنوبی کوریا، میکسیکو، جنوبی افریقہ اور چین شامل ہیں۔ سعودی وزارت خارجہ نے ان ملاقاتوں کی تصاویر ٹویٹ کرنے میں بالکل بھی دیر نہیں لگائی۔

خاشقجی کے قتل کے بعد یہ برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے کی ان سے پہلی ملاقات تھی اور ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹریزا مے نے واضح الفاظ میں اپنا پیغام ان تک پہنچا دیا ہے۔ ٹریزا مے کے ترجمان کے مطابق انھوں نے ولی عہد سے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ترکی کی جانب سے خاشقجی کے قتل کی تحقیقات میں سعودی عرب مکمل تعاون کرے۔

ٹریزا مے نے یہ بھی کہا کہ دوسرے ممالک میں یہ اعتماد پیدا کرنے کے لیے کہ ایسے شرمناک واقعات دوبارہ نہیں ہوں گے سعودی عرب کو اقدامات کرنے ہوں گے۔ سعودی ولی عہد سے یہ بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ ممکنہ طور پر آئندہ ہفتے یمن کے تنازعے کے حل کے لیے ہونے والے مذاکرات کی حمایت کریں۔

فرانس کے صدر میکراں بھی ولی عہد سے ملے اور خاشقجی کے قتل کے کیس میں بین الاقوامی تحقیقکاروں کو شامل تفتیش کرنے کا کہا۔ اس ملاقات کی فٹیج کو دیکھ کر ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ جیسے میکراں ولی عہد سے کہہ رہے ہوں کہ انھیں پریشانی ہے کیوں کہ سعودی لیڈر ان کی بات نہیں سن رہے ہیں۔

سچائی یہ ہے کہ یہ اجلاس اس بات کی درست عکاسی کرتا ہے کہ ولی عہد اس وقت دنیا میں کہاں کھڑے ہیں۔ عالمی حکمران کو خاشقجی کے قتل کے بعد سعودی عرب اور خاص طور پر ولی عہد کے رویے پر غم و غصہ ہے اور کیوں کہ ابھی تحقیقات اپنے انجام کو نہیں پہنچی ہیں تو فی الحال یہ غصہ جلد ہوا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

عالمی رہنما یہ بھی جانتے ہیں کہ سعودی عرب سے تعلقات ان کے قومی مفاد میں ہیں اور اس کے ساتھ تجارتی اور انٹیلیجنس تعلقات کا تحفظ ضروری ہے، تو ایسے میں سعودی عرب سے بات چیت کرتے رہنا ضروری ہے نہ کہ دور کھڑے اس پر پتھر پرساتے رہنا۔

جی ٹوئنٹی اجلاس میں عالمی حکمران ان سے مکمل طور پر تو نہیں کترائے لیکن ایک بات واضح ہے کہ ولی عحد کی ساکھ کو دھچکہ لگا ہے اور اسے بحال ہونے میں وقت درکار ہوگا جس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ترکی کی جانب سے قتل کی تحقیقات مکمل ہونے پر ولی عہد کا ردعمل کیا ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.