44

’مجھے انٹیلیجنس معلومات نہیں دی گئی تھیں‘: سری لنکن وزیراعظم

سری لنکا کے وزیراعظم وکرما سنگھے کا کہنا ہے کہ ملک میں ایسٹر کے موقعے پر ہونے والے خودکش حملوں سے قبل انھیں انٹیلیجنس بریفنگز کے بارے میں معلومات نہیں دی جا رہی تھیں۔ بی بی سی سے ایک خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں کے حوالے سے اہم ترین معلومات ان تک پہنچائی نہیں گئیں تھیں۔

کولمبو میں گذشتہ اتوار کو چرچوں اور ہوٹلوں پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں کم از کم 250 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حملوں کے بعد ملک کے وزیرِ دفاع اور پولیس چیف مستعفی ہو چکے ہیں۔

ان حملوں کے بعد ملک کے وزیراعظم اور صدر میتھریپالا سریسینا کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی ایک معتبہ پھر لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے کیونکہ اسی کشیدگی کو ان حملوں کے حوالے سے انٹیلیجنس ناکامی کی وجہ تصور کیا جا رہا ہے۔

ادھر صدر میتھریپالا سریسینا نے جمعے کے روز بتایا کہ ملک میں ایسٹر سنڈے پر ہونے والے بم دھماکوں میں ملوث شدت پسندوں کا مبینہ سرغنہ ظہران ہاشم ان ہی دھماکوں میں ہلاک ہو گیا تھا۔

سری لنکن صدر کے مطابق شدت پسند مبلغ اور دھماکوں کے مبینہ سرغنہ ظہران ہاشم کولمبو میں شنگریلا ہوٹل پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہوا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہاشم نے سیاحتی ہوٹل پر ہونے والے حملے کو لیڈ کیا تھا اور اس میں ان کا ساتھ الہام نامی ایک خودکش حملہ آور نے دیا تھا۔

میتھریپالا سریسینا کا مزید کہنا تھا کہ سری لنکا کے خفیہ اداروں کا خیال ہے کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے 130 کے قریب مشتبہ افراد سری لنکا میں موجود ہیں جن میں سے 70 ابھی تک مفرور ہیں اور ان کی تلاش کا کام جاری ہے۔

سری لنکن صدر نے ہاشم کا شنگریلا ہوٹل میں ہونے والے حملے میں کردار واضح نہیں کیا۔ سری لنکن حکام نے مقامی شدت پسند گروپ نیشنل توحید جماعت کو ان حملوں کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

ظہران ہاشم کون تھا؟
ظہران ہاشم کا نام چند برس قبل اس وقت سامنے آیا جب انھیں مقامی طور پر اس گروہ سے جوڑا گیا جس نے بدھا کے مجسموں کا چہرہ مسخ کیا تھا۔ اس کے بعد ان کی یو ٹیوب پر پیروی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تھا۔ ہاشم نے یو ٹیوب پر ایسا مواد شئیر کیا جس میں غیر مسلموں پر تشدد کی ترغیب دی جاتی تھی۔

سنڈے ایسٹر کے حملوں کے چند روز بعد انھیں سات دیگر افراد کے ساتھ دولتِ اسلامیہ کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں دیکھا گیا جس میں انھوں نے دولت اسلامیہ سے اپنی وفاداری کا عہد کیا تھا۔

تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ہاشم دولتِ اسلامیہ کے ساتھ براہ راست رابطے میں تھا یا انھوں نے صرف اس گروپ سے وفاداری کا عہد کیا تھا۔ دولت اسلامیہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ظہران ہاشم کی بہن کی مذمت

ہاشم کا تعلق سری لنکا کے ساحلی شہر کٹانکوڈے سے تھا۔ اس ہفتے کے آغاز میں ان کی بہن نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کے بھائی نے جو کیا ہے اس سے وہ دہشت زدہ ہو گئیں تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اگرچہ وہ میرے بھائی ہیں مگر میں اس کو قبول نہیں کر سکتی۔ مجھے اب ان کی کوئی پرواہ نہیں۔’ انھوں نے مزید کہا کہ ہاشم ان سے دو برس قبل تک رابطے میں تھا مگر اس کے بعد وہ منظر سے غائب ہو گیا۔‘

تازہ ترین پیش رفت

صدر میتھریپالا سریسینا نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ پولیس دولت اسلامیہ کے مبینہ شدت پسندوں کی تلاش میں ہے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ بچ جانے والے مبینہ شدت پسند گرفتار ہیں یا ملک چھوڑ کر فرار ہو چکے ہیں۔

صدر کا مزید کہنا تھا کہ سری لنکن پولیس کے سربراہ پوجیتھ جایاسندرا دھماکوں کے بعد مستعفی ہو چکے ہیں۔ ان کے استعفی دینے کے بعد دفاع کی وزارت کے اعلیٰ عہدیدار ہیماسری فرنینڈو نے بھی اپنے عہدے سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

سری لنکن حکام نے جمعرات کو ان دھماکوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی نئی تعداد جاری کی تھی جس میں پہلے بتائی جانے والی ہلاکتوں کی تعداد 353 کو کم کر کے 253 بیان کیا گیا ہے۔

ان حملوں نے ملک کے خفیہ اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے بہت سے سوالات کو جنم دیا تھا کیوں کہ سرکاری اداروں بشمول پولیس کو ان ممکنہ حلموں کی وارننگ پہلے ہی مل چکی تھی۔

سری لنکا کے کیتھولک چرچ نے ملک کے تمام چرچوں میں عبادت کو معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نیگوبو شہر میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے احمدی مسلمانوں، مسیحیوں اور افغانستان کے شہریوں کو ان کے مالک مکان نے گھروں سے زبردستی نکال دیا ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ احمدی مسلمانوں کو انتقامی حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سری لنکن حکومت نے کہا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عوامی تشویش کے سدِباب کے لیے وہ دیگر اقدامات کے ساتھ سکولوں میں سرچ کریں گے۔

ملک میں پیر سے لگائی گئی ایمرجنسی جاری ہے اور پولیس کو یہ اختیارات حاصل ہیں کہ وہ عدالت کی اجازت کے بغیر بھی کسی کو گرفتار یا تفتیش کر سکتی ہے۔

حملہ آور کون تھے؟
ان حملوں کے بارے میں شبہ ہے کہ یہ نو افراد نے کیے تھے۔ دو حملہ آور سری لنکا میں مسالوں کے کاروبار سے منسلک محمد یوسف ابراہیم کے بیٹے بتائے جاتے ہیں۔ محمد یوسف سری لنکا کے امیر ترین افراد میں سے ایک ہیں۔ حملوں کے بعد ان کو حراست میں لے کر تفشیش کی گئی تھی۔

سری لنکن صدر کے مطابق شنگریلا ہوٹل میں حملہ کرنے والے بمباروں میں ہاشم کے علاوہ محمد یوسف کا ایک بیٹا بھی شامل تھا۔ محمد یوسف کے دوسرے بیٹے نے سینامون گرینڈ ہوٹل پر حملہ کیا تھا جو شنگریلا سے کچھ فاصلے پر واقع ہے۔

جب پولیس نے محمد یوسف کے بیٹے کے گھر پر چھاپہ مارا تو ان کی بیوی نے اپنے آپ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔ تین پولیس افسران اور ان کے بچے اس میں ہلاک ہوئے تھے۔

سری لنکن حکومت کے مطابق حملہ آور ‘تعلیم یافتہ’، ‘متوسط‘ اور ’امیر’ گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ وائٹ ہال کے ایک سینئیر افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک حملہ آور نے برطانیہ میں تعلیم حاصل کی تھی۔ عبدل لطیف جمیل محمد نے سنہ 2006-07 کے دوران کنگسٹن یونیورسٹی سے ایرو سپیس انجئینرنگ کی تعلیم شروع کی تاہم انھوں نے اپنی ڈگری مکمل نہیں کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.