59

مجرموں کو راہِ راست پر لانے کا انوکھا طریقہ

سنگیت کیسے قیدیوں کی زندگی بدل رہا ہے۔ کبھی ڈکیتی کے الزام میں تو کبھی نشہ خوری کے، اکرم نے اپنی زندگی کا بہترین حصہ دلی کی تہاڑ جیل میں ہی گزارا ہے۔

وہ اسیری کا زمانہ یاد کرتے ہیں تو اب بھی آنکھوں میں درد صاف نظر آتا ہے۔

’کتنی دردناک اور خوفناک زندگی جی رہے تھے ہم۔۔۔ زندگی اتنی حسین اور خوبصورت ہے لیکن ہمیں اس کی بالکل قدر ہی نہیں تھی۔ اس دور کا ذکر کرتے ہوئے بھی میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔‘

لیکن پھر جیل میں ہی ان کی زندگی میں موسیقی آئی اور انھیں ’جینے کی نئی راہ‘ مل گئی۔

’جیل میں موسیقی کا ایک مقابلہ کرایا گیا، جس میں حصہ لینے ہم بھی پہنچے اور ہمیں سلیکٹ کر لیا گیا۔ اس طرح سنگیت میری زندگی میں آیا۔ جیل میں ہم یہی سوچتے تھے کہ باہر نکلیں گے تو کوئی بڑا ہاتھ ماریں گے۔ اس طرح کی سوچ تھی کہ باہر آکر بھی جرم ہی کرنا ہے اور اس سوچ میں تبدیلی میوزک سے ہی آئی ہے۔ ورنہ مجھے نہیں لگتا کہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں اس چیز سے دور کرسکتی تھی۔‘

اس تبدیلی میں ’ریفارم بینڈ‘ کا کلیدی کردار ہے۔ ریفارم بینڈ ایک کلچرل سوسائٹی کی کوششوں کا نتیجہ ہے جو ’تہاڑ آئیڈل‘ کے نام سے موسیقی کا ایک مقابلہ کراتی ہے۔ قیدیوں کو سنگیت سکھایا بھی جاتا ہے اور رہائی کے بعد انھیں اس بینڈ میں کام کرنے کا موقع بھی دیا جاتا ہے۔

بینڈ میں پیشہ ور سنگیت کار بھی ہیں اور سابق قیدی بھی، کچھ نے سزائیں کاٹیں اور کچھ بری ہوگئے۔

روزگار کا ایک طریقہ
کلچرل سوسائٹی کے سربراہ نریش بینسلا ہیں۔ ان کے مطابق ان کا بیک گراؤنڈ ’فلمی‘ ہے، لیکن اب ان قیدیوں کو ایک نئی زندگی دینا ہی ان کی زندگی کا مقصد ہے۔

’میوزک اپنے آپ میں ایک تھیراپی ہے۔ جیل کے اندر انھوں نے یہ فن سیکھا اور باہر آکر بینڈ میں کام کرتے ہیں، یہ روزگار کا ایک طریقہ بھی ہے۔ میوزک کے ذریعے یہ کسی کے چہرے پر خوشی لاسکیں تو یہ اچھا کام ہوگا، اور ساتھ ہی یہ اس سے اپنا گزر بسر بھی کرسکیں۔۔۔ بس یہی اس بینڈ کا مقصد ہے۔‘

لیکن یہ کام آسان نہیں، قیدیوں کے ماتھوں پر لگا بدنامی کا داغ آسانی سے نہیں مٹتا۔

محمد رفیع کے مداح دھیرج بجاج نے پراپرٹی کے ایک کیس میں چھ سال جیل میں گزارے ہیں۔

’ہماری کوشش یہ بھی ہے کہ معاشرہ بھی اپنی سوچ بدلے۔ اس بینڈ کے ذریعے ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جیل جانے والا ہر آدمی خراب نہیں ہوتا۔‘

پورے خاندان کو سزا
اکرم جیسے لوگ جب جیل جاتے ہیں، تو سزا صرف انہیں ہی نہیں، پورے خاندان کو ملتی ہے۔ فردوس بیگم اکرم کی اہلیہ ہیں اور دلی کے ایک گنجان علاقے میں ایک چھوٹا سا گھر ہی ان کی دنیا ہے اور اکرم کی کمی کے باوجود انھوں نے اپنے بچوں کو یہیں پالا ہے۔

یہ تصویر کا وہ رخ ہے جس پر لوگوں کی اکثر نگاہ نہیں پڑتی۔

فردوس بیگم کہتی ہیں کہ جب اکرم جیل میں تھے، تو ان کی کمی بہت محسوس ہوتی تھی۔

’کسی نے ہمارا ساتھ نہیں دیا، بچے بھی بہت بیمار رہے، بہت مصیبتیں جھیلی ہیں۔۔۔ سب اپنی زندگیوں میں گم ہیں، ساتھ کون دیتا؟ اس زمانے میں کوئی اپنے بچوں کے لیے کچھ کر لے تو یہ ہی بہت بڑی بات ہے۔‘

یہ بات اب اکرم کی سمجھ میں آگئی ہے۔ ان کے پرانے یار دوست اب انھیں کسی کام کا نہیں مانتے۔

’میوزک تھیراپی‘
ریفارم بینڈ کے ڈرمر پروین کی اپنے ہی ایک دوست سے لڑائی ہوگئی تھی۔ بات اتنی بڑھی کے اس کی جان چلی گئی۔

’مجھے چار سال کی قید ہوئی تھی، میں نے تین سال جیل میں گزارے اور وہیں میوزک میری زندگی میں آیا۔۔۔ اب میں لڑائی جھگڑے سے دور رہتا ہوں اور موسیقی کی دنیا میں ہی اپنی زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔‘

ساجد ریپ کے کیس میں جیل گئے تھے، بعد میں الزامات غلط ثابت ہوئے۔ وہ اس بینڈ کے روح رواں ہیں۔

’جیسے جینے کے لیے سانس ضروری ہے، ویسے ہی میرے جینے کے لیے میوزک ضروری ہے۔ اپنے آپ میں کھو جاتا ہوں، دنیا کی پرواہ ہی نہیں رہتی۔ عدالت سے تو میں بری ہوگیا، اب لگتا ہے کہ اس لائن سے بدنامی کا داغ بھی مٹ جائے گا۔‘

یہ میوزک تھیراپی ہے، اثر کرنے میں ذرا وقت لیتی ہے لیکن پھر اس کا سریلا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.