111

ماں ہار ہاتھ میں لئیےحافظ بشیر اور حافظ بلال کا انتظارکرتی رہی

دونوں بیٹوں نےاپنےلئےبازارسےہارخریدلائے اوروالدہ سے کہاں ,,مور,,
یہ ہمارے ہارہیں…….کل مدرسےمیں ہماری دستاربندی ہوگی اورجب ہم اپنےگھرآئےتو……آپ یہ ہارہمارےگلےمیں پہنادو ….ہمارے اور دوستوں نےبھی ہارخرید لیئےان کےوالدین انہیں پہنائیں گےہم نےبھی ایساکیا.
میں نےاپنےبچوں سے ہارلئےاور کل کاانتظارکیا…..صبح بچوں کو غسل کرایانئےبنائےگئےکپڑےپہنائے…….آنکھوں میں سرمہ لگایا ان.دونوں نےٹوپیاں سرپہ رکھی میں پوچھا بچوں یہ پگڑیاں تو پہین لو انہوں نےبتایا,,مور,,یہ تو ہمارے استادپہنائیں گے ابھی دستاربندی ہونی ہے تب میں دستاربندی سمجھ گیا……وہ ھھرسے نکلےبس میں انتظارمیں رہی……..کچھ دیر بعدہاراٹھاکراپنےننھےبچوں کا انتظارکرنےلگی انتظارکی شدت تھی میں جاکر دروازےکےقریب بیٹھ گئی کافی انتظارکیا………اس اثنامیں جہازوں کی خون خوادآوازیں سنائی دی اور زودرداردھماکےسننےمیں نےدل کہاکہ پھر……کس کس کی ماں کےگھرکو اجھاڑدیاگیا……..اپنےبچوں کو ہارپہنانےکےانتظارمیں تھی کہ ………گلی لوگوں سے بھری ہوئی اور سارےلوگ ہمارےگھرکی طرف آرہےتھے میں یہی سوچ رہاتھا کہ خوشی کےاس موقع پر سارے محکےوالےبچوں کےساتھ ہمارےگھرآرہےہیں ….میں بھی اٹھ گئی اور ہارپہنانےکےبارےمیں تیارہوئی……..جیسی ہی دروازہ کھولا گیا اور میں اپنےبچوں کو ڈھونڈنےادھرادھردیکھ رہاتھابس….بچوں کوخون آلود کپڑوں میں اٹھائےلوگ کلمہ طیبہ کازکرکرتےہوئے…بلند آواز کہنےلگے……..اےماں ان کی شھادت پر رونا نہیں……مجھ پر وہ لمحہ کیسےگزرا بس انیچےزمین اور اوپر.آسمان لرزتاہوا دیکھائی دےرہاتھا ایک صدا منہ سے نکلی…………اے اللہ امریکہ اور دیگردشمنان اسلام کو تباہ کردے….اس نےمیرے جگرکےتکڑےکیسےخون میں نہلائےہیں
بس اتناکہنا تھا ایک مسلمان ماں کی اور کیااوقات ہوگی…ہم کس سے شکایت کرسکتےہیں….ہمارےیہ بچےکتنےمجرم تھےجن پر بم گرائےگئےکیاان پر بم.گرانےوالوں کےبچےنہیں ہوتے….اللہ اکبر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.