31

’ماں نے جس شخص کے ساتھ تنہا بھیجا تھا اسی نے ریپ کیا‘

گذشتہ صدی کی پچاس کی دہائی میں ‘نیا دور’ اور ‘دھول کا پھول’ جیسی فلموں سے بطور چائلڈ آرٹسٹ اپنا فلمی کریئر شروع کرنے والی ڈیزی ایرانی نے اس ہفتے اپنی زندگی کے ایسے دردناک پہلو پر روشنی ڈالی جو آج کے دور کے اُن والدین کے لیے آنکھیں کھولنے والی حقیقت ہے جو اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو گلیمر کی دنیا کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔

ڈیزی نے بتایا کہ ان کی ماں نے فلم ‘ہم پنچھی ایک ڈال کے’ کی شوٹنگ کے لیے انھیں مدراس بھیجا تھا اس وقت ان کی عمر چھ سال تھی۔ ان کی ماں نے جس شخص کو سرپرست بنا کر ان کے ساتھ بھیجا تھا اسی نے ہوٹل کے کمرے میں ان کا ریپ کیا۔

‘می ٹو ہیش ٹیگ’ کا حصہ بنتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ان کی والدہ ہر قیمت پر انھیں مشہور اداکارہ بنانا چاہتی تھیں اور انھیں آؤٹ ڈور شوٹ کے لیے جس شخص کے ساتھ ان کی ماں نے تنہا بھیجا تھا اسی شخص نے ان کا ریپ کیا۔

ڈیزی کا کہنا تھا اس شخص نے انھیں دھمکایا کہ ‘اگر کسی سے شکایت کی تو جان سے مار دوں گا۔’ حالانکہ کچھ ماہ بعد ڈیزی نے اپنی ماں سے اس واقعہ کا ذکر کیا لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

ڈیزی اپنے زمانے میں چائلڈ سپر سٹار کہی جاتی تھیں اس دور میں ڈیزی کو دھیان میں رکھ کر انکا کردار لکھا جاتا تھا۔ انکی کامِک ٹائمنگ اور اداکاری کا لوہا مانا جاتا تھا۔

ڈیزی کی یہ دردناک سچائی والدین کے لیے ایک سبق ہو سکتا ہے۔ آج فلم اور ٹیلی وثرن انڈسٹری میں بے شمار بچے مختلف کردار نبھا رہے ہیں اور جب بھی میں ان بچوں کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ اپنے کرداروں کو نبھاتے ہوئے دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ یہ بچے سکول کب جاتے ہوں گے اور کیا شو بز کی اس جگمگاتی دنیا میں ان بچوں کی معصومیت برقرار رہے گی؟

اکشے کمار بالی وڈ میں سماجی ایشوز پر بننے والی فلموں کا چہرہ بن چکے ہیں جس کی مثال حال ہی کی ان کی دو فلمیں ‘ٹوائلٹ ایک پریم کتھا’ اور ‘پیڈ مین’ ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ انھیں نیشنل ایوارڈ عامر خان کی فلم ‘دنگل’ کے مقابلے فلم ‘رستم’ کے لیے دیا گیا۔

بحر حال آج کل بالی وڈ کے پوسٹر بوائے اکشے ‘کیسری’ میں مصروف ہیں۔ یہ فلم سرا گڑھی کی جنگ پر بنائی گئی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سنہ1897 میں محض 21 سکھوں نے دس ہزار افغانوں کے خلاف جنگ لڑی تھی۔

انوراگ سنگھ کی اس فلم میں اکشے کے ساتھ پرینیتی چوپڑہ ہیں۔ اکشے جو ہمیشہ کسی بھی طرح کے متنازع بیان یا سیاسی کمنسٹ سے پرہیز کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر چیز میں مذہب کو شامل کرنا درست نہیں ہے۔ اکشے کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنماوں کو سیاست کے لیے مذہب کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اکشے کے اس بیان سے لگتا ہے کہ شاید اب نیشنل ایوارڈ میں ان کی دلچسپی ختم ہو چکی ہے۔

بالی وڈ میں آج کل جس طرح پرانی فلموں کا ری میک فیشن بن چکا ہے اسی طرح پرانے خوبصورت گانوں کی شکل بگاڑنے کا چلن بھی عام ہوتا جا رہا ہے۔ جن میں ‘دھیرے دھیرے سے میری زندگی میں آنا’ یا پھر ‘کہہ دوں تمہیں یا چپ رہوں’ وغیرہ شامل ہیں۔

ایسا ہی مادھوری دیکشت کا ایک مقبول ترین گانا ‘ایک دو تین’ تھا جو اب ٹائگر شروف کی فلم ‘باغی ٹو’ میں جیکلین فرنینڈیز بطور آئیٹم سانگ کر رہی ہیں۔ رواں ہفتے یہ گانا رلیز کیا گیا اور سوشل میڈیا نے بیچاری جیکلین کو ٹرول کرنا شروع کر دیا۔

یہ درست ہے کہ مادھوری کے اس گانے کا موازنہ کسی بھی ری مکس سے نہیں کیا جا سکتا لیکن ہر دور کا اپنا انداز اور سٹائل ہوتا ہے اور نئے کردار کے ساتھ ساتھ ٹکنالوجی میں بھی تو فرق تو نظر آئے گا۔

ہاں یہ ضرور ہے کہ فلمسازوں کے لیے یہ ایک پبلسٹی ٹول بن چکا ہے کہ ‘بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا’۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں