69

مادری زبانوں کا عالمی دن

ژبه پښتو څومره خواګه ژبه دا
دا خوشالۍ ڼا مڼ من غټ شمه ځه
چې زوئ مې ماته باباجان او وائی
پشتو ہماری مادری زبان ہے۔ ہماری پہچان ہے۔ ہزاروں سال پرانی زبان ہے۔ افغانستان میں اسے فارسی کے ساتھ قومی زبان کا درجہ حاصل ہے۔ افغانستان کے پشتون اگرچہ اس زبان کے اصل آمین ہیں۔ کیونکہ وہ اس زبان کی Purity میں ابھی تک فرق نہیں لائے۔ بہت خالص پشتو بولتے ہیں لیکن پاکستان کے پشتونوں کی پشتو اب انگریزی اور اردو کے الفاظ کی بھرمار سے خراب ہو رہی ہے۔پشتو کی سب ست بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ اس زبان کے بولنے والوں میں لکھنے کا رواج زمانہ قدیم سے فی زمانہ تک ناپید ہے۔یہی اسکی زوال کی بڑی وجہ ہے۔بولنے کی حد تک پھر بھی یہ۔زبان محفوظ ہے لیکن اس میں کتابیں بہت کم لکھی گئی ہیں۔پشتو دارالاتراجم جہاں دیگر زبانوں سے پشتو میں ترجمے ہو ناپید ہیں۔ پشتو کی سرکاری سرپرستی بھی نہیں ہوئی۔افغانستان کے حکمران کئی صدیوں سے پشتون چلے آ رہے ہیں لیکن انہوں نے بھی اپنے وطن میں پشتو کو پالا پھوسا نہیں۔پشتو کو دور جدید کی زبان بنانے میں کوئی نمایاں و واضح کردار ادا نہیں کیا ہے۔پاکستان میں اردو کے غلبے کے بعد تمام مادری زبانیں مغلوب رہیں پشتو بھی ان مغلوب زبانوں میں ایک ہے۔
بحیثیت پشتون ہماری اجتماعی کوشش ہونی چاہییے کہ کم از کم اپنے صوبے کی حد اپنی پیاری زبان کو ترقی و فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔ہمارے صوبے میں پشتو کے دارالاتراجم ہونے چاہییے۔پشتو زبان کے سائن بورڈز ہونے چاہییے۔پشتو زبان کے اخبارات ہونے چاہیے۔رسالے ، ویب سائٹ اور اخبارات نکلنے چاہییے۔ ( رحمت اللہ خان یو ایس ٹی بنوں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.