18

لیبیا: معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام بھی صدارتی امیدوار

لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کے بارے میں یہ بات کہی جا رہی ہے کہ وہ رواں سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں ایک امیدوار ہوں گے۔

لیبیا کی پاپولر فرنٹ پارٹی کے ترجمان ایمن ابو راس نے کہا ہے کہ ان انتخابات میں سیف الاسلام ان کی پارٹی کی نمائندگی کریں گے۔

انھوں نے پڑوسی ملک تیونس میں پیر کو ایک پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق انھوں نے کہا کہ سیف قومی مفاہمت، دوسروں کو قبول کرنے اور ملک کی تعمیر نو کے لیے کام کریں گے۔ اس کے ساتھ وہ ملک میں استحکام کے لیے ایک صدر اور ایک حکومت کے قیام پر توجہ مرکوز کریں گے۔

لیبیا کے سابق صدر معمر قدافی کے سات بیٹے تھے۔ برطانوی یونیورسٹی لندن سکول آف اکنامکس سے تعلیم یافتہ سیف الاسلام کو کرنل معمر قذافی کا جانشین تصور کیا جاتا تھا۔

اپنے والد کے دور صدارت میں ليبيا کي حکومت میں کسی سرکاری عہدے پر نہ ہوتے ہوئے بھی سیف الاسلام کو ملک کی دوسری سب سے طاقتور ہستی قرار دیا جاتا تھا۔

یہی نہیں بلکہ کرنل معمر قذافی کے خلاف بغاوت تک شاندار انگریزی بولنے والے 45 سالہ سیف الاسلام لیبیا کی حکومت کا اصلاح پسند چہرہ بھی تھے۔

لیکن بغاوت کے دوران سنہ 2011 میں لیبیا کی ملیشیا نے انھیں پکڑ لیا اور انھیں اپنی قید میں رکھا۔

دریں اثنا لیبیا کے حکام نے تریپولی میں غائبانہ ان پر مقدمہ چلایا اور چار سال بعد انھیں سزائے موت سنائی لیکن وہ ملیشیا کے کنٹرول میں رہے اور گذشتہ سال انھیں عام معافی کے تحت رہا کر دیا گيا۔

تاہم اب بھی وہ انصاف کی عالمی عدالت کو انسانیت سوز جرائم کے لیے مطلوب ہیں۔

کرنل قذافی کی نو اولادوں میں سے دوسرے نمبر پر آنے والے سیف نے بغاوت کے دوران کئی مرتبہ خطاب کیا جس میں انھوں نے باغیوں کو ‘شرابی اور بدمعاش’ اور ‘دہشت گرد’ تک کہا۔

سیف بہت پہلے سے مسلسل یہ کہتے رہے کہ لیبیا میں جمہوریت ضروری ہے اور انھوں نے مغرب کے ساتھ سنہ 2000 سے لے کر 2011 تک کی بغاوت کے درمیان مفاہمتی کوششوں میں اہم کردار ادا بھی کیا۔

قذافی خاندان کی خیراتی تنظیم کے سربراہ کے طور پر اور مبینہ طور پر اربوں ڈالر کی املاک والے’ليبيائی سرمایہ کاری اتھارٹی’ کے سربراہ کے طور پر ایک بہت بڑی رقم کا کنٹرول ان کے پاس تھا جس کا استعمال انھوں نے مغرب کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کیا۔

وہ ایک تربیت یافتہ انجینئر ہیں۔ لندن میں ان کا ایک گھر ہے اور ان کا تعلق برطانیہ کی سیاسی شخصیات سے لے کر شاہی خاندان تک رہا ہے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سیف الاسلام نے اپنے والد کے زمانے میں دو شیر پال رکھے تھے اور وہ صحرا میں بازوں کی مدد سے شکار کے شوقین رہے ہیں۔ ساتھ ہی کہا جاتا ہے کہ انھیں پینٹنگ کرنے کا بھی شوق ہے۔

سیف ہمیشہ اس بات سے انکار کرتے رہے تھے کہ وہ اپنے والد کے اقتدار کو وراثت میں لینا چاہتے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ اقتدار کوئی کھیت نہیں کہ جو وراثت میں مل جائے۔

انھوں نے اپنی والد کے دور میں سیاسی اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا تھا اور یہی ان کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے مقالے کا موضوع بھی تھا جو انھوں نے لندن سکول آف اکنامکس سے حاصل کی تھی۔

لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ اب اگر وہ انتخابات میں اترتے ہیں تو انھیں ان کے والد کی وراثت کا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے کیونکہ لیبیا میں معمر قذافی کے بعد سے امن و امان پوری طرح بحال نہیں ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں