15

لوگ ٹیٹو بنوانے جاپان کیوں جا رہے ہیں؟

ہوریمٹسو کو جِلد رنگنے والی سوئیوں کی آواز نرم اور ایک ردھم میں محسوس ہوتی ہے، جیسے ایک اکیلا جھینگر آواز نکال رہا ہو۔

30 سال تک انھوں نے جاپان کے شہر ٹوکیو کے علاقے ایکیبوکورو میں ہاتھ سے ٹیٹو بنائے ہیں جس کے لیے انھیں روشنائی اور سوئیوں کی نوک والی ایک لکڑی کے علاوہ کسی چیز کی ضرورت نہیں پڑتی۔

یہ ہاتھ جب بینکاروں اور موسیقاروں کے جسم پر دیوتاؤں اور عفریتوں کی تصاویر بناتا ہے تو وہ جیسے حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔

اور آج ہزاروں میل کا سفر طے کر کے یہاں آنے والے ایک نوجوان فائر فائٹر کے بازو پر ایک سبز رنگ کا ڈریگن بنایا جائے گا جو کہ شعلوں سے تحفظ کی علامت ہے۔

23 سالہ کائل سیلی خاموشی سے اپنی پشت کے بل لیٹے رہتے ہیں اور آرٹسٹ اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔ وہ ان کے بازو کے سامنے والے حصے پر انتہائی نپے تلے انداز میں سوئیاں چبھونا شروع کرتے ہیں۔ انھیں کندھے سے کلائی تک پینٹ کیا جائے گا اور ڈریگن کو خوش بختی اور شرافت کی علامت سمجھے جانے والے پھول پیونی کے ساتھ دکھایا جائے گا۔

ان کے علاقے گرینڈ پریری، کینیڈا میں ٹیٹو آرٹسٹ موجود ہیں مگر ان کے پاس وہ ہنر نہیں جس کی تلاش کائل کو ہے۔ وہ صدیوں پرانے جاپانی آرٹ ’ٹیبوری‘ یعنی ’ہاتھ سے بنائے گئے‘ ٹیٹوز کی تلاش میں ہیں۔

مغرب میں اس سٹائل سے لوگ ایک طویل عرصے سے متاثر رہے ہیں اور اب یہ ایک رجحان کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ہپی افراد اسے کہانی سنانے کے لیے بنواتے ہیں: ’تمھیں پتا ہے میں ہاتھ سے ٹیٹو بنوانے کے لیے جاپان گیا تھا؟‘

جبکہ کچھ دیگر لوگ اس آرٹ کی جانب کھنچے چلے آتے ہیں۔

کائل کہتے ہیں ’میں نے سنا ہے کہ ٹیبوری کے رنگ بہتر اور زیادہ چمکدار نظر آتے ہیں۔‘

ان کے سینے پر مشین سے بنائے گئے کئی ڈیزائن موجود ہیں۔

یہ ایک سیشن 500 کینیڈین ڈالرز (300 پاؤنڈ، 374 ڈالر) کا پڑتا ہے، چنانچہ یہ بڑی قیمت ہے۔ ’مگر میں اس کے لیے کافی عرصے سے بچت کرتا رہا ہوں۔‘

ان کے پسندیدہ ٹیٹو آرٹسٹ ہوریمٹسو کے تقریباً 63 ہزار انسٹاگرام فالوورز ہیں جن میں بین الاقوامی پرستار بھی بہت ہیں۔ ان کے کلائنٹس میں امریکی گلوکار جان میئر بھی ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے ان پر ٹیٹو بنانے سے قبل ان سے سخت پوچھ گچھ کی: ’تم نے مجھے کیسے تلاش کیا؟ میرا پتا بتانے والے شخص کو کیسے جانتے ہو؟‘

ان کی اپائنٹمنٹس کی فہرست فی الوقت رگبی ورلڈ کپ کی وجہ سے بھری ہوئی ہے جس کی میزبانی جاپان 20 ستمبر سے چھ ہفتوں کے لیے کر رہا ہے۔

اس قدیم آرٹ میں مقامی دلچسپی حالیہ سالوں میں کم ہونے کے باعث غیر ملکی دلچپسی پر ہی اس کی بقا کا دارومدار ہے۔ نوجوان جاپانی اکثر مغربی سٹائل کے جیومیٹرک ٹیٹوز پسند کرتے ہیں جن میں باریکیوں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔

ٹیبوری آرٹسٹ عموماً اس تخلیقی مرحلے میں زیادہ کنٹرول اپنے پاس رکھتے ہیں اور کچھ آرٹسٹ تو سوچ سمجھ کر ہی کسی پر ٹیٹو بنانے کی حامی بھرتے ہیں۔

کائل کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ وہ جب آج یہاں آئے تھے تو انھیں کوئی اندازہ نہیں تھا کہ ان کا نیا ڈریگن کس رنگ کا ہوگا۔ وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہ متسو سان آرٹ سٹائل ہے، اور انھیں جو بہتر لگے گا میں بھی وہی پسند کروں گا۔‘

جب میں نے پوچھا کہ کیا ٹیٹو مکمل ہونے کے بعد لوگ خود میں اینڈورفن ہارمون سے ہونے والی خوشی کا احساس پاتے ہیں، تو ہوریمٹسو تائید کے انداز میں سر ہلاتے ہیں۔ ’ڈوپامائن، ایڈرینالین ۔۔۔ میں کئی گاہکوں کو دیکھتا ہوں کہ ٹیٹو کے بعد وہ بہت جوشیلے ہوجاتے ہیں! وہ بٹوہ بھول جاتے ہیں، پاسپورٹ بھول جاتے ہیں، یا بہت زیادہ پیسے خرچ کر ڈالتے ہیں۔‘

’کھیلوں کے ایونٹس سے کاروبار بڑھتا ہے‘
رگبی ورلڈ کپ سے قبل کھلاڑیوں اور پرستاروں پر اپنے ٹیٹوز چھپانے کے لیے زور دیا گیا تھا تاکہ کسی بھی ٹیٹو سے کوئی اشتعال انگیز پیغام نہ جائے کیونکہ یہاں پر کئی لوگ ٹیٹوز کو یاکوزا یعنی جاپانی مافیا کا کام تصور کرتے ہیں۔ مگر کچھ پرستاروں کے لیے تو یہ انتباہ زیادہ ہمت افزا ثابت ہوا اور اب وہ میچز کے لیے دو دو گھنٹے تک ٹیٹو سیشنز میں گزاریں گے۔

ہوریمٹسو تک زیادہ تر لوگ مائیک ڈربی شائر کے ذریعے پہنچتے ہیں جن کی ویب سائٹ پیسیفک ٹیٹوز کمپنی انگریزی بولنے والے کلائنٹس کو جاپانی آرٹسٹس سے منسلک کرتی ہے۔

وہ رگبی کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’اس دوران ہمیں ایک ویلش شخص پر ٹیٹو بنانا ہے۔ شاید ڈریگن۔ یا شاید ۔۔۔۔ ‘

وہ کہتے ہیں کہ کھیلوں کے ایونٹس سے ہمیشہ کاروبار میں اضافہ ہوتا ہے۔

’میں اس میں ایک تعلق دیکھ رہا ہوں، جیسے اگلے سال ]ٹوکیو 2020 [ اولمپکس ہونے والے ہیں، تو لوگ پچھلے سال سے ہم سے اس دورانیے میں اپائنٹمنٹس مانگ رہے ہیں۔‘

ہوریمٹسو کے 60 سے 70 فیصد کلائنٹس جاپان کے باہر سے آتے ہیں اور دیگر ٹیبوری آرٹسٹس کا بھی یہی تجربہ ہے۔

مائیک کہتے ہیں، ’ہمارے پاس جرمنی سے لوگ آئے تھے، ہمارے پاس برطانیہ سے ہر وقت لوگ آتے ہیں، امریکہ سے تو بہت زیادہ۔ امریکی ملٹری بیسز کا سٹاف بھی بڑی تعداد میں آتا ہے۔‘

’جاپان میں جاپانی ٹیٹو آرٹسٹس کے لیے کاروبار گذشتہ کچھ عرصے سے بہتر نہیں رہا ہے جب تک کہ آپ رابطے کے مسئلے سے نہ نمٹ لیں۔‘

کچھ مسئلہ گاہکوں کی کمی کا بھی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپانی ٹیٹوز (جنھیں ایریزومی کہا جاتا ہے) کو جاپان کے یاکوزا مجرم گروہوں کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ کئی دہائیوں تک مافیا کے کارندے اپنی بہادری ثابت کرنے، اپنی دولت نمایاں کرنے اور دیگر یاکوزا کو اپنی شناخت کروانے کے لیے ٹیٹو کا استعمال کرتے تھے۔

ہوریمٹسو نے اپنا یہ ہنر جاپان کے ایک ٹیٹو بنانے کے ماہر ’خاندان‘ سے سیکھا جہاں کئی نوجوان نوآموز کئی برس تک ایک استاد کی خدمت کرتے ہیں، اور اکثر و بیشتر یہ نہایت سخت گیر زمیندارانہ ماحول میں ہوتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ایریزومی کی دنیا ‘کبھی کبھی پرتشدد ہوتی۔ خوفناک۔ پہلے ہمارے گاہک صرف یاکوزا ہوتے۔ دس سال پہلے تک۔‘

اب جاپان نے گینگز پر نہایت سختی کر رکھی ہے اور ایک پولیس کریک ڈاؤن نے یاکوزا کی رکنیت 1960 کی دہائی میں ایک لاکھ 84 ہزار سے گھٹا کر 30 ہزار 500 تک کر دی ہے۔ جو بچ چکے ہیں وہ ریڈار پر نہیں آنا چاہتے اس لیے کوئی شناختی علامات نہیں بنواتے۔

ہوریمٹسو کہتے ہیں ’کچھ نوجوان اب بھی یاکوزا میں شمولیت اختیار کرتے ہیں مگر وہ نئی نسل ہیں، پہلے سے زیادہ ہوشیار۔ وہ ٹیٹو نہیں بنواتے۔ وہ اپنا کام زیادہ نفاست سے کرتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ پچھلے دور میں تو یہ بھی ہوتا تھا کہ ان کے کلائنٹ اپنی پشت پر کوئی بڑا سا ٹیٹو بنوانا شروع کرتے مگر پھر جیل بھیج دیے جاتے۔ دس سال بعد جب وہ رہا ہوتے تو باہر نکل کر اسے مکمل کروانے آیا کرتے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ ان سے ملتے ہوئے کیا کہتے، تو وہ شرارتی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں، ’ارے، آپ تو کافی بڑے لگ رہے ہیں۔‘

’نہ سوئمنگ پول، نہ جِم، نہ گرم چشمے‘
مگر ٹیٹو کے شائقین افراد کے لیے افسوسناک بات یہ ہے کہ جاپان میں سماجی رویے نے اب تک ٹیٹوز کو قبول نہیں کیا ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ زیادہ تر یاکوزا اب ٹیٹو نہیں بنواتے۔

قانون میں اب بھی اس حوالے سے ایک ابہام موجود ہے جب 2001 میں جاپان کی وزارتِ صحت نے ٹیٹو کو ایک طبی عمل قرار دے دیا۔ اس کا مطلب تھا کہ کوئی بھی ٹیٹو آرٹسٹ جو کہ ڈاکٹر نہیں تھا، اس کا کام راتوں رات غیر قانونی قرار پایا۔

ٹیٹو بنوانے والے افراد کو عموماً پبلک جم، سوئمنگ پولز اور اونسین (جاپان کے گرم چشموں) میں نہیں جانے دیا جاتا۔ اس کے علاوہ نظر آنے والا باڈی آرٹ مالیات یا تدریس کے شعبوں میں ملازمت حاصل کرنے کے امکانات بھی گھٹا سکتا ہے۔

سنہرے بالوں والے خوش مزاج کینیڈین کائل جو کہ کسی بھی صورت میں کسی جاپانی گینگسٹر جیسے نہیں لگتے، اس پابندی کے شکار ہوئے۔

’یہاں تک کہ میرے ہوٹل میں بھی۔ میں سوئمنگ پول جانے والا تھا لیکن وہاں پر ایک بورڈ لگا ہوا تھا ’ٹیٹو منع ہیں‘۔ میں جاپانی تو نہیں بولتا لیکن جب میں سب وے ٹرین میں ٹی شرٹ پہن کر سوار ہوں تو نوٹ کرتا ہوں کہ لوگ میرے بازو کو گھور رہے ہوتے ہیں۔‘

اپنے ملک میں منفیت کے شکار مگر دیگر جگہوں پر کسی راک سٹار جیسی شہرت کے حامل کچھ ٹیبوری آرٹسٹ اپنے ہنر کو بیرونِ ملک بھی لے جاتے ہیں۔

کینشو دوئم جنھیں اپنا پروفیشنل نام اپنے استاد سے ملا ہے، اب ایمسٹرڈیم میں رہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کے کلائنٹس ہاتھ سے بنائے ہوئے ٹیٹوز کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور صبر آزما مرحلے کے لیے تیار ہو کر آتے ہیں: پوری پشت پر ٹیٹو کو 70 گھنٹے یا اس سے زیادہ تک لگ سکتے ہیں، اور اس کا انحصار جلد کی قسم، جسامت اور ڈیزائن پر ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ سب سے زیادہ لوگ ڈریگن بنوانا چاہتے ہیں۔ ’مجھے بھی یہ بنانا پسند ہے، یہ کبھی بھی بیزار کن نہیں ہوتا۔ جاپانی ڈریگن کے پیچھے بہت دلچسپ کہانیاں اور مطالب ہیں۔ ہر کہانی مختلف ہے۔‘

بھلے ہی وہ جاپان چھوڑ چکے ہیں مگر کینشو دوئم اب بھی ٹیبوری روایات پر سختی سے کاربند ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں اپنے تمام ٹیبوری اوزار خود بناتا ہوں۔ میں ]قدیم جاپانی مذہب [ شنٹو کی ایک تعلیم ’موسوہی‘ کو مانتا ہوں جس کے مطابق انسان کی بنائی گئی تمام چیزوں میں روح ہوتی ہے۔ ٹیبوری کے اوزار میرے لیے جسم اور روح کے حصے کی طرح ہیں۔ اس لیے میں کبھی بھی اپنے اوزار فروخت نہیں کرتا۔‘

جس طرح ہوریمٹسو اپنے استاد ہوریتوشی کی تعریف کرتے ہیں ’74 سال کے ہوگئے مگر اب بھی کام کر رہے ہیں‘، اسی طرح کینشو دوئم بھی اپنے استاد کا ذکر عقیدت کے ساتھ کرتے ہیں۔

’جب میں نے تربیت پانی شروع کی تو میں ہمیشہ ان کی تکنیک دیکھتا رہتا تھا، ہر ڈیزائن کی کہانی اور مطلب پر قدیم کتاب سے ریسرچ کرتا، بہت خاکے بنایا کرتا۔ میں تین سال تک صرف دو یا تین گھنٹے یومیہ ہی سوتا کیونکہ مجھے بہت کچھ سیکھنا تھا۔‘

’ہمارے قواعد تھے، ’پوچھو مت، نہ مت کہو اور اپنی رائے مت دو۔ استاد کے حکم کی تعمیل کرو۔ عاجزی اختیار کرو، زیادہ پڑھو، دیگر ثقافتوں کا احترام کرو۔‘ استاد کبھی بھی تفصیل نہیں دیتے، آپ کو ان کے چہرے کے تاثرات کی تبدیلی اور آواز کے اتار چڑھاؤ سے اندازہ لگانا پڑتا ہے۔ ورنہ ]آپ کی [ آپ سے بڑے طالبعلم سے سخت پٹائی ہوتی اور پھر آپ کو سمجھ آ ہی جاتا۔‘

ہوریمٹسو کہتے ہیں کہ انھیں 20 سال کی عمر میں ٹیبوری سیکھنے کی دعوت صرف تب دی گئی جب وہ کئی مرتبہ اپنے استاد سے ملنے گئے، ان سے ٹیٹو بنوایا اور ان کے لیے ایک علامتی تحفہ لے کر گئے۔

’میں ان کے لیے سیک (چاول سے کشید کی گئی جاپان کی روایتی شراب) کی دو بوتلیں لے کر گیا تھا۔ ایک کسی کام کی نہیں، دو، یہی جاپانی روایتی سٹائل ہے۔ دو ایک رسی سے بندھی ہوئی۔ اس کا مطلب ہے کہ میں آپ سے جُڑنا چاہتا ہوں۔‘

ان کی تربیت میں ایک دہائی کا عرصہ لگا۔

جس دن میں ہوریمٹسو سے ملی، اس دن جو سوئیوں والی لکڑی (نومی) وہ استعمال کر رہے تھے، وہ ان کے استاد کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تربیت کا سلسلہ آخری سانس تک جاری رہتا ہے۔

’تبدیلی آ رہی ہے‘
کچھ مبصرین نے پیشگوئی کی ہے کہ ٹیٹوز کے بارے میں جاپان کے قدامت پسند رویے کو رگبی ورلڈ کپ اور ٹوکیو 2020 اولمپکس میں ہزاروں ٹیٹو شدہ غیر ملکیوں کی آمد کے ساتھ تبدیل ہونے میں مدد ملے گی۔

ایک غیر ملکی کے طور پر جاپان کا مطالعہ کرنے والے مائیک ڈربی شائر سمجھتے ہیں کہ فوری تبدیلی کے امکانات بہت کم ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر ایسا ہونا ہوتا تو اب تک 100 مرتبہ ہوچکا ہوتا۔ اگر یہ ہوگا، تو یہ ان نوجوانوں کی وجہ سے ہوگا جو مغربی پاپ کلچر سے متاثر ہو کر مغربی سٹائل کے ٹیٹوز پہلے سے زیادہ بنواتے رہیں گے، اور پھر یہ وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے کا حصہ بن جائیں گے۔‘

’آپ ہاراجوکو (ٹوکیو میں نوجوانوں کے ذیلی کلچر کے مرکز) جائیں اور وہاں فیشن کے اشتہارات دیکھیں۔ ان میں ٹیٹو بنوائے ہوئے مغربی افراد آپ کو جابجا دکھائی دیں گے۔ یہ ہر جگہ نظر آتے ہیں۔‘

’مجھے لگتا ہے کہ یہ فی الوقت تبدیل ہونا شروع ہو رہا ہے۔ تبدیلی کی شروعات ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ: کیا حکومت اسے جارحانہ انداز میں دبانے کی کوشش کرے گی؟‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.