22

لوگ مجھے پاگل کہتے تھے

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایک مہنگے علاقے ایف سکس میں واقع ایک پارک پر اگر نظر پڑے تو وہاں آپ کو بچے کھیلتے کودتے نہیں بلکہ زمین پر بیٹھے باقاعدہ تعلیم حاصل کرتے نظر آئیں گے۔

پارک میں واقع اس سکول کی کوئی عمارت نہ کوئی نام ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سکول کوئی غیر سرکاری تنظیم نہیں چلا رہی ہے بلکہ اس ٹاٹ سکول کا خالق ایک ادنٰی درجے کے سرکاری ملازم محمد ایوب ہیں جو رواں برس اپنی ملازمت سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔

محمد ایوب کو ان کی خدمات پر سنہ 2015 میں حسن کارکردگی کا صدارتی ایوارڈ ملا تھا اور اب ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم کی جانب سے انھیں بچوں کی تعلیم کے لیے کی جانے والی خدمات کے اعتراف میں 54 ویں کامن ویلتھ پوائنٹ آف لائٹ اعزاز سے نوازا گیا۔

بدھ کو اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن میں منعقدہ تقریب میں محمد ایوب کو پوائنٹ آف لائٹ اعزاز دیا گیا۔

اس حوالے سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اعزاز دولتِ مشترکہ کے 53 ممالک میں ان رضاکاروں کو دیا جاتا ہے جنھوں نے رضاکارانہ طور پر اپنی کمیونٹی میں بہتری کے کام کیے۔

محمد ایوب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں آج بڑی خوشی ہے کہ ان کی محنت کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔

’35 برسوں سے جاری میرے کام کو دیکھا گیا ہے کہ میں ان چھوٹے بچوں کو مفت تعلیم دے رہا ہوں جو مالی مجبوریوں کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر سکتے تھے اور بے بس تھے اور میں انھیں پڑھا کر جہالت سے نکال رہا تھا۔ اور یہ ایک قسم کا میری خدمات کو سلیوٹ پیش کیا گیا ہے اور مجھے شاباش دی گئی ہے۔‘

محمد ایوب کے مطابق ان کے سکول سے تقریباً چھ ہزار کے قریب طالب علم تعلیم حاصل کر چکے ہیں اور ان میں سے بہت سے اس وقت اعلیٰ عہدوں پر فائز بھی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت بھی ان کے سکول میں 230 طلبا زیرِ تعلیم ہیں اور ان میں رنگ و نسل اور مذہب کی کوئی تفریق نہیں ہے۔

’پاکستان کے لیے ایک اور نوبیل لانا چاہوں گا‘

’خیبر پختونخوا میں 34 فیصد بچے سکول نہیں جاتے‘

35 برس کے سفر میں محمد ایوب نے اس سکول کو اپنے مالی وسائل سے چلایا ہے اور اب محمد ایوب کے لیے خوشی کی بات یہ ہے کہ ان کے سکول سے پڑھنے والے طالب علموں میں سے چار ان کے ساتھ اب علم کی اس روشنی کو پھیلانے میں ان کا ساتھ دے رہے ہیں اور بچوں کو پڑھانے میں مدد دے رہے ہیں۔

’ایک دن ان کو سٹرک پر چند بچے کوڑا چنتے نظر آئے تو خیال آیا کہ کیوں نہ فارغ اوقات میں ان بچوں کو تعلیم دی جائے‘
محمد ایوب کے مطابق آج سے 35 سال پہلے جب وہ اسلام آباد آئے تھے تو دفتر سے چھٹی کے بعد فارغ اوقات کے لیے اس کام کا انتخاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک دن ان کو سٹرک پر چند بچے کوڑا چنتے نظر آئے تو انھیں خیال آیا کہ کیوں نہ فارغ اوقات میں ان بچوں کو تعلیم دی جائے۔

انھوں نے بتایا کہ چند ماہ کے بعد ایسے والدین جو مالی حالات کی وجہ سے اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں بھیجنے کی بجائے محنت مزدروی پر لگا دیتے تھے انھوں نے شام کے اوقات میں اپنے بچوں کو میرے پاس تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجنا شروع کر دیا اور آج بھی زیادہ تر بچے دن کو کام کرتے ہیں اور شام کو پڑھتے ہیں۔

محمد ایوب نے بتایا کہ ’شروع میں تھک جاتا تھا اور پریشان ہو جاتا تھا کیونکہ کبھی پولیس تنگ کرتی تھی تو کبھی اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کے اہلکار، کبھی انکوائریوں کا سامنا کیا۔ کچھ لوگ مجھے پاگل کہتے تھے کہ بچوں کو زمین پر لے کر بیٹھ گیا ہے لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.