22

قبائلی علاقوں میں سول اور سکیورٹی انتظامات پر مشاورت جاری

وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کے صوبۂ خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد صوبائی حکومت نے سات ایجنسیوں اور فرنٹیر ریجنز میں ہنگامی بنیادوں پر سول اداروں کے قیام اور سکیورٹی کے لیے پولیس تھانوں اور چوکیوں کے قیام کے لیے صلاح مشورے شروع کردیے ہیں۔

صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ اکتیسویں آئینی ترمیم پر صدرِ پاکستان کے دستخط ہوتے ہی صوبائی حکومت تمام سات ایجنسیوں کو ضلعے جب کہ چھ فرنٹیر ریجنز کو تحصیلوں کی حیثیت دینے کا نوٹی فکیشن جاری کردے گی۔

حکام نے بتایا ہے کہ فی الوقت فوری طور پر ایجنسیوں کے پولیٹیکل ایجنٹس کے عہدوں کو ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹس کے عہدوں کو اسسٹنٹ کمشنر کے عہدوں میں تبدیل کردیا جائے گا۔

سول انتظامیہ کی تشکیل کے علاوہ صوبائی حکومت کے لیے ایک اور اہم مرحلہ سابق قبائلی علاقوں تک پولیس کے نظام کو توسیع دینا ہے۔

اس سلسلے میں چند ماہ قبل قبائلی علاقوں میں پولیس کا نظام متعارف کرانے کے متعلق فاٹا سیکریٹریٹ اور پولیس حکام کے درمیان مشاورت کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

پشاور پولیس کے موجودہ سربراہ قاضی جمیل الرحمٰن جو اس وقت اسپیشل برانچ پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل تھے، فاٹا سیکریٹریٹ کے ساتھ مشاورت کرنے والے پولیس افسران کی ٹیم کے سربراہ تھے۔

قاضی جمیل الرحمن نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ اس وقت قبائلی علاقوں میں پولیس کے نظام کے قیام کے بارے میں کافی بات چیت ہوئی تھی مگر اسے عملی شکل نہیں دی گئی تھی۔ تاہم ان کے بقول اب حالات کافی تبدیل ہوچکے ہیں۔

خیبر پختونخوا پولیس کے ایک اعلٰی افسر نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ پولیس نظام کو قبائلی علاقوں تک توسیع دینے کے لیے مشاورت کا آغاز ہوچکا ہے اور محکمۂ داخلہ اس بارے میں پالیسی وضع کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ محکمۂ داخلہ سے ہدایت ملتے ہی تمام قبائلی علاقوں میں پولیس نظام کو ہنگامی بنیادوں پر نافذ کردیا جائے گا۔

صوبائی حکومت کے اعلٰی حکام نے تصدیق کی ہے کہ تمام تر قبائلی علاقوں میں پہلے سے تعینات خاصہ دار فورسز کے اہلکاروں کو پولیس فورس میں ضم کردیا جائے گا اور تعلیمی کوائف پر پورا اترنے والے اہلکاروں کو ان کی تعلیمی قابلیت اور تجربے کی بنیاد پر پولیس فورس میں افسران کے طور پر تعینات کیا جائے گا۔

حکام کے مطابق پولیٹیکل ایڈمنسٹریشن میں پہلے سے تعینات اہلکار اور عہدیدار بھی ضلعی انتظامیہ کا حصہ تصور کیے جائیں گے۔

صوبائی محکمۂ داخلہ اور سینٹرل پولیس آفس کے علاوہ علاقائی سطح پر مختلف ڈویژنل کمشنرز اور ریجنل پولیس افسران کے درمیان بھی ملحقہ قبائلی علاقوں میں سول انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو توسیع دینے کے حوالے سے مشاورت کاسلسلہ شروع ہوچکا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان اور دو فرنٹیر ریجنز ڈیرہ اسماعیل خان، شمالی وزیرستان اور ملحقہ فرنٹیر ریجنز بنوں؛ کرم اور اورکزئی ایجنسی اور ایک فرنٹیر ریجن کوہاٹ؛ مہمند اور خیبر ایجنسی اور ایک فرنٹیر ریجن پشاور اور باجوڑ ایجنسی ملاکنڈ کے انتظامی ڈویژنز میں شامل ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.