36

’فوج مخالف نعروں کے باوجود جنرل باجوہ مثبت تھے‘

بریگیڈیر سعد محمد کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس بات سے اتفاق کیا کہ پی ٹی ایم کے بعض مطالبات جائز ہیں اور ان کو فوری طورپر حل ہونا چاہیے
پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے حال ہی میں قبائلی نوجوانوں کی تنظیم پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) کی سرگرمیوں اور فاٹا کی موجودہ صورتحال پر مشاورت کے لیے فوج اور سول اداروں میں اہم عہدوں پر فائز رہنے والے سابق سینیئر پشتون افسران سے ملاقات کی۔

جی ایچ کیو میں ہونے والی اس ملاقات میں فوج کے سابق جرنیلوں جنرل احسان، جنرل علی قلی خان، جنرل حامد خان، جنرل عالم خٹک، میجر جنرل تاج الحق کے علاوہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد محمد، محمود شاہ، سابق چیف سیکریٹری جاوید اقبال اور پولیس کے سابق سربراہ عباس خان نے شرکت کی۔

ملاقات میں شریک بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ بات چیت بڑے اچھے ماحول میں ہوئی جس کا بنیادی مقصد جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے پی ٹی ایم کی تحریک اور خطے کی موجودہ صورتحال پر سینیئر افسران سے مشاورت کرنا اور ان کی تجاویز حاصل کرنا تھا۔

انھوں نے کہا کہ فوج کے سربراہ نے پشتون تحفظ تحریک، فاٹا کے معاملات اور افغانستان سے متعلق باہمی تعلقات پر تفصیلاً گفتگو کی اور ان تمام معاملات پر ان کا موقف انتہائی مثبت نظر آیا۔

سعد محمد کے بقول ‘جنرل صاحب نے اس بات کا تذکرہ کیا کہ پی ٹی ایم چونکہ بیشتر نوجوانوں پر مشتمل تنظیم ہے لہذا انہیں اس بات کا احساس ہے کہ ان میں زیادہ تر جذباتی نوجوان ہیں اور ہم بھی چاہتے ہیں کہ ان سے مذاکرات کریں اور ان کے مسائل کو حل کیا جائے۔’

انھوں نے کہا کہ پی ٹی ایم نے فوج کے ضمن میں انتہائی سخت موقف اپنایا ہوا ہے اور ان کے خلاف بعض ایسے نعرے لگائے جارہے ہیں جو کسی صورت نہیں ہونے چاہیے لیکن اس کے باوجود فوج کے سربراہ انتہائی مثبت تھے۔

منظور پشتین نے گذشتہ اتوار کو لاہور میں جلسے سے خطاب میں ماورائے عدالت قتل اور گمشدہ افراد کی واپسی کے لیے ایک ‘ٹُرتھ اینڈ ری کنسیلئیشن کمیشن’کے قیام کا مطالبہ کیا تھا
بریگیڈیر سعد محمد کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس بات سے اتفاق کیا کہ پی ٹی ایم کے بعض مطالبات جائز ہیں اور ان کو فوری طورپر حل ہونا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ فوج نے پہلے ہی سے پشتون تحفط تحریک کے بعض مطالبات پر کام کا آغاز کیا ہوا ہے جس میں بارودی سرنگوں کا خاتمہ، چیک پوسٹوں میں کمی اور لاپتہ افراد کا معاملہ قابل ذکر ہے۔

‘ہم تمام سنئیر افسران نے آرمی چیف کو تجویزی دی کہ پی ٹی ایم میں شامل سب ہمارے اپنے بچے ہیں اگر وہ تیزی بھی کرتے ہیں تو فوج یا حکومت کو نرمی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ معاملات کو بگڑنے سے بچایا جاسکے۔’

بریگیڈیر ریٹائرڈ سعد محمد نے مزید کہا کہ پی ٹی ایم کو بھی اب اپنے موقف میں نرمی لانی چاہیے بالخصوص اداروں کے حوالے سے ان کا موقف انتہائی نوعیت کا ہے۔

انھوں نے کہا کہ فوج کے سربراہ نے فاٹا میں تبدیلیوں اور پڑوسی ممالک افغانستان اور ہندوستان سے متعلق تعلقات پر بھی سیرحاصل گفتگو کی اور ان کے موقف میں خاصی لچک بھی نظر آئی جس سے بظاہر لگتا ہے کہ مستقبل میں حالات مزید بہتری کی جانب بڑھیں گے۔

خیال رہے کہ پشتون تحفظ تحریک نے حالیہ دنوں میں پشاور اور لاہور میں بڑے بڑے عوامی جلسوں کا انعقاد کیا ہے جس سے اہم حکومتی اداروں میں تشویش سی پائی جاتی ہے۔

ابتدا میں تو پاکستانی فوج کے سربراہ کی جانب سے اس تحریک پر بالواسطہ طور پر تنقید کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ ’ فاٹا میں امن آیا ہے لوگوں نے ایک اور تحریک شروع کر دی ہے۔ باہر اور اندر سے جو کچھ لوگ پاکستان کی سالمیت کے در پے ہیں۔‘

تاہم گذشتہ روز پشاور میں کورکمانڈر پشاور یفٹننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے صحافیوں کے ایک گروپ کو بریفنگ کے دوران پہلی مرتبہ پی ٹی ایم سے متعلق گفتگو کی تھی اور کہا تھا کہ ‘منظور پشتین اپنا بچہ ہے اگر وہ غصے میں بھی ہیں تو ہم انہیں سنیں گے۔’

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین نے گذشتہ اتوار کو لاہور میں جلسے سے خطاب میں ماورائے عدالت قتل اور گمشدہ افراد کی واپسی کے لیے ایک ’ٹُرتھ اینڈ ری کنسیلئیشن کمیشن‘ یعنی (حقائق اور مفاہمتی کمیشن) کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔ وہ 12 مئی کو کراچی میں جلسے کی کال بھی دے چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.