15

فنکار اتنی کسمپرسی میں کیوں مرتے ہیں؟

پچھلے پورے ہفتے جب ہم سب اپنا قومی کھیل ‘کافر کافر’ کھیل کے عاصمہ جہانگیر کی موت پہ اظہارِ افسوس اور اظہارِ خوشی کر رہے تھے تو مجھے صرف ایک بات کا اطمینان تھا کہ یہ ‘کافرہ’ یا ‘مومنہ’ جو بھی تھی، فنکار نہ تھی۔ وکیل تھی، جدوجہد کی، محنت کی اس کا پھل بھی پایا۔ گالیاں کھائیں، برا بھلا سنا لیکن معاشی تکلیف نہ اٹھائی۔

ابھی خبر سنی کہ مطلوب الرحمٰن عرف منا لاہوری عرف زکوٹا جن طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ زکوٹا جن 90 کی دہائی میں بچوں کے لیے بنائی جانے والی مشہور سیریل ‘عینک والا جن’ کا ایک کردار تھا جو سکرین پہ نمودار ہوتے ہی اپنی جناتی بولی میں ایک زور دار نعرہ مارتا تھا ‘مجھے کام بتاؤ، میں کیا کروں، میں کس کو کھاؤں’؟

موت تو بہت بے پروا ہوتی ہے پوچھتی بھی نہیں کہ کس کو کھاؤں؟ جس جس کو کھانا ہوتا ہے پہلے ہی چھانٹ لیتی ہے، پھر بنا پوچھے گچھے، خاموشی سے آتی ہے اور اسے لے کے چلتی بنتی ہے۔ موت بر حق ہے، موت کے آ گے کس کا زور ہے لیکن زکوٹا جن کی موت نے ایک سوال پھر سے تازہ کر دیا کہ آ خر فنکار اتنی کسمپرسی میں کیوں مرتے ہیں؟

پچھلے سال نصرت آرا عرف ‘بل بتوڑی’ بھی بے حد غربت میں زندگی کے آ خری دن کاٹ کر گزر گئیں۔ نسطور جن کا کردار ادا کرنے والے اداکار کے بارے میں بھی کچھ اچھی خبریں نہ سنیں۔ خود اے حمید صاحب کے حالات بھی بہت اچھے نہ تھے۔ کس کس کا نام گنواؤں؟ ہزاروں، ادیب، شاعر، گلو کار، موسیقار، فنکار، اسی طرح علاج معالجے کے لیے مجبور، غربت و افلاس کے ہاتھوں پریشان، ایڑیاں رگڑ کر رخصت ہوئے۔

یار لوگوں اور مجھ جیسے پیشہ ور کالم لکھنے والوں نے شدید جذباتی سطریں گھسیٹیں، اربابِ حل وعقد کے کان مروڑے،حکومت کو سٹھنیاں دیں، لوگوں کی بے حسی پہ تین حرف بھیجے، واہ واہ کرائی، کالم کے پیسے جیب میں ڈالے اور لمبے ہوئے۔

پھر چند دن گزرتے ہیں، کوئی یادِ ماضی کا مارا، کسی روحی بانو، کسی انور سجاد، کسی حبیب جالب، کسی مہدی حسن کو ڈھونڈتا، بھاٹی، لاہوری اور ناظم آ باد کی گلیوں میں جا نکلتا ہے۔ غربت و افلاس سے جھو جھتے، ماضی کے جھلملاتے ستارے کے سا تھ سیلفی لیتا ہے اور سوشل میڈیا پہ ایک غبار سا اٹھتا ہے۔

باتوں کے توتا مینا بنائے جاتے ہیں، لائیکس کے بٹن دبتے ہیں۔ کچھ لوگ پھول لے کر متاثرہ فرد کے پاس جاتے ہیں اور پھر اتنی تگ و دو سے ہی ہانپ کے بیٹھ جاتے ہیں یہ جانے بغیر کہ پھولوں کے اس گلدستے کی بجائے، دو کلو دال یا پانچ کلو آ ٹا یا ایک انجکشن یا ایک وقت کی دوا زیادہ اہم تھی۔

مقصد صرف اپنی جوانی اور بچپن کی یادوں کو تازہ کرنا ہوتا ہے۔ جیسے اس زمانے میں ان لوگوں کے کام سے لطف لیا جا تا ہے، ویسا ہی اب ان کو بستر سے لگے دیکھ کر جانے کون سی حس کی تسکین ہوتی ہے۔؟ سب اپنے اپنے معمول پہ لوٹ جاتے ہیں۔ زندگی رواں ہوتی ہے یہاں تک کہ ایک اور خبر آ تی ہے۔

ایسا کیوں ہے؟ فنکار کون لوگ ہوتے ہیں اور ان پہ یہ بپتا کیوں پڑتی ہے؟ سیدھی سی بات یہ ہے کہ فنکار، ادیب، شاعر، موسیقار، گلو کار اور اداکار سب کے سب عام انسانوں کے سانچوں سے فرق ہوتے ہیں۔

یہ وہ ‘میوٹیٹیس ‘ہوتے ہیں جو کسی بھی معاشرے میں اس لیے پیدا کر دیے جاتے ہیں کہ اس معاشرے کے لوگ کہیں اپنی زندگیوں کی بے رنگی سے تنگ آ کر مر ہی نہ جائیں۔ ان لوگوں کو عام لوگوں کی طرح دو جمع دو چار کرنے نہیں آ تے۔ زندگی ان کے لیے ہمیشہ سوا کا پہاڑا بنی رہتی ہے۔ گھر کا خرچ اور آ مدن کبھی برابر نہیں ہوتے۔ بیوی بچے ان سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ وہ دوسروں کی طرح ان کے لیے سہولیات فراہم نہیں کر سکتے۔

بیمار ہوتے ہیں تو علاج نہیں ہو سکتا، بڑھاپے میں پنشن نہیں ہوتی۔ جب تک کام چلتا ہے دال روٹی چلتی ہے۔ جب کام کرنا ختم کیا فاقہ دروازے پہ دانت نکوسے آ کھڑا ہوتا ہے۔ ڈرامہ، انڈسٹری بنا تو اس سے وابستہ افراد کے حالا ت کچھ بہتر ہوئے لیکن اشاعت کا شعبہ صنعت ہونے کے باوجود ادیبوں کے حالات نہ بدل سکا۔ سٹیج کا حال سب جانتے ہیں۔ یہاں بھی معاشیات کا چابک سب کو ناچتے چلے جانے پہ مجبور کر رہا ہے۔

آج ڈرامہ انڈسٹری، ادیبوں، اداکاروں، شاعروں، گلوکاروں اور ڈائیریکٹرز کے لیے بظاہر خوشحالی لائی ہے۔ لیکن جب تک قلم چل رہا ہے، ہاتھ چل رہا ہے، پیسہ آ رہا ہے۔ بڑھاپے میں کیا ہو گا ؟ کوئی پنشن؟ کوئی اولڈ ایج بینیفٹ؟ کوئی رائلٹی؟ کیا کچھ بھی میسر ہو گا؟ رائلٹی کا تو پوچھیں ہی مت، اس پہ الگ سے بات کروں گی۔ وہی پبلشر، جو خود کسی ادارے سے کلرک ریٹائر ہوتا ہے، چند سال میں ادیبوں کی کتابیں چھاپ کر فیز فائیو میں منتقل ہو جاتا ہے لیکن ادیب کو اگر اس کی بیوی یا شوہر یا اولاد یا باپ ماں کی طرف سے مکان نہ ملا ہو تو وہ ساری عمر بے گھر ہی رہتا ہے۔

حکومت کے بنائے ہوئے اداروں کے ساتھ وہی ہوا جو باقی اداروں کے ساتھ ہوا۔ گو بہت سے لوگوں کو فوائد بھی ملے لیکن طویل المعیاد کچھ بھی ثابت نہ ہوا۔ آج بھی ادیبوں کو نہ ہونے کے برابر رائلٹی ملتی ہے بلکہ 90 فی صد تو اپنی جیب پہ کتاب چھاپی جاتی ہے۔ شاعر صرف شاعر نہیں ہوتے اور جو ہوتے ہیں وہ برباد ہو تے ہیں۔ فنکار اداکاری کے ساتھ کوئی دوسرا کاروبار شروع کرنے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں اور گانے والے بھی جائیدادیں بنانے کی فکر میں ہلکان رہتے ہیں۔

ان حالات سے معیار متاثر ہوتا ہے اور پھر معیاری تفریح کے لیے لا محالہ دوسری زبانوں اور ملکوں کے کام کی طرف توجہ جاتی ہے۔ اس صورت حال کا منطقی نتیجہ اپنی ثقافت کا زوال ہے۔

امان اللہ بھی اسی صورت حال کاشکار ہیں۔ ان کے بعد ایک ایک کر کے اور بھی بہت سے لوگ کیونکہ جب تک قلم چل رہا ہے کام چل رہا ہے اس کے بعد کیا ہو گا ؟ کون جانے؟ ہمیں تو داتا صاحب کا لنگر میسر ہے مگر بہت سے فنکار ایسے شہروں میں بھی رہتے ہیں جہاں کوئی مزار نہیں، ان کا کیا ہو گا کالیا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.