31

فضائی آلودگی سے نمٹنے کے منصوبے کا اعلان

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت پہلی مرتبہ آلودگی سے نمٹنے کے لیے ایک جامع منصوبہ لے کر آ رہی ہے۔

وہ لاہور میں ماحولیاتی آلودگی اور اس حوالے سے حکومتی اقدامات پر پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ لاہور میں گذشتہ 10 سال میں 70 فیصد درخت کاٹے گئے ہیں جس کی وجہ سے آلودگی میں اضافہ ہوا ہے۔

’ظاہر ہے کہ آپ کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ تیل ایک سے ڈیڑھ روپے مہنگا ہو جائے یا آپ کو اپنے بچوں، ماں باپ کی زندگیاں پیاری ہیں، اور یہ فیصلہ ہم کر چکے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی قومی ضروریات کا 50 سے 60 فیصد تیل درآمد کرتا ہے اور اس تیل کا معیار خراب ہوتا ہے۔

’جو تیل پاکستان میں استعمال ہوتا ہے، اس میں کیمیکلز کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ہم اب پاکستان میں یورو 4 تیل درآمد کریں گے۔ یہ فوراً کیا جائے گا اور 2020 کے آخر میں ہم یورو 5 معیار پر چلے جائیں گے۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ 90 فیصد آلودگی تیل کا معیار بہتر بنانے سے کم ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ حکومت نے ملک کے اندر کام کر رہی آئل ریفائنریوں کو تیل کا معیار بہتر بنانے کے لیے تین سال کا وقت دیا ہے، اور اگر وہ اس دوران اسے بہتر نہیں بنائیں گے تو انھیں بند کر دیا جائے گا کیونکہ یہاں سے پیدا ہونے والے پیٹرول میں آلودگی پھیلانے والے کیمیکل زیادہ ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یورپ کے مقابلے میں ہمارے پاس جو تیل استعمال کیا جاتا ہے وہ زہریلی آلودگی پیدا کرتی ہے اس لیے حکومت نے اس معیار پر جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ آلودگی سٹیل فرنس کی فیکٹریوں، اینٹوں کے بھٹوں اور ٹرانسپورٹ کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے بڑھ رہی ہے۔

’اس کے لیے برقی گاڑیوں کی صنعت سے ان کے خدشات پر بات چل رہی ہے جبکہ الیکٹرک کار انڈسٹری کے لیے فوائد کی پالیسی لا رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ شہروں کے اندر چلنے والی بسیں یا ہائبرڈ ہو جائیں یا صرف سی این جی پر چلیں تاکہ آلودگی نہ پھیلے۔

اس کے علاوہ سموگ کی بڑی وجوہات میں سے ایک یعنی چاول کی فصل کا بھوسہ جلانے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ حکومت 30 کروڑ روپے کی مشینیں درآمد کرے گی جس سے چاول کا بھوسہ جلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے مزید اعلان کیا کہ حکومت اینٹوں کے بھٹوں سے نکلنے والی آلودگی کو کم کرنے کے لیے انھیں زگ زیگ ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے قرض فراہم کرے گی جبکہ سٹیل فرنس کی آلودگی کم کرنے میں مدد دینے کے لیے سکربرز پر عائد ڈیوٹی ہٹا لی جائے گی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ لاہور کے اطراف میں زمینوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور یہاں 60 ہزار کینال پر اربن فاریسٹ یا شہری جنگل اگائے جائیں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ کام 20 سال قبل کر لینے چاہیے تھے مگر اب اس کا نتیجہ آنے میں وقت لگے گا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے حوالے سے جب ایک رپورٹر نے ان سے پوچھا کہ کیا حکومت اپنی قانونی ٹیم اور اس سمری کو بنانے والے افسران کے خلاف کوئی انکوائری کر رہی ہے یا نہیں تو ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں حکومت کی قانونی ٹیم پر تنقید نہیں کی ہے اور وہ اس حوالے سے مزید بات نہیں کرنا چاہتے کیونکہ یہ ’معاملہ ختم ہوچکا ہے۔‘

انھوں نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو اہم چیز ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت پاکستان ایک مشکل اقتصادی حالات سے نکلا ہے یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہے۔

’جب روپیہ 35 فیصد قدر میں گرتا ہے تو ساری چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں۔ مجھے پتہ ہے کہ میری قوم ایک مشکل وقت سے گزری ہے لیکن آگے اچھا وقت آئے گا۔‘

پنجاب میں بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر ہونے والی تبدیلیوں پر جب ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا یہ بیوروکریسی کے وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار کی بات نہ ماننے کی وجہ سے کیا گیا ہے، تو انھوں نے کہا کہ یہ کام حکومت نے گورننس بہتر بنانے کے لیے کیا ہے۔

’میں نے اور عثمان بزدار نے تین ہفتے غور کے بعد یہ کیا ہے۔ ہم پنجاب کی گورننس بہتر بنانے کے لیے بہترین آئی جی لائے ہیں، اب آپ دیکھیں گے کہ تبدیلی آجائے گی۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.