29

فرانس: ’ہر آٹھ میں سے ایک خاتون کا ریپ ہو چکا ہے‘

ایک تازہ ترین سروے کے مطابق فرانس میں تقریباً چالیس لاکھ یعنی خواتین کی کل آبادی کے بارہ فیصد کا کم از کم ایک مرتبہ ریپ ہو چکا ہے۔

فرانسیسی تھنک ٹینک فاؤنڈیشن جین ییریز کی تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ 43 فیصد خواتین کو ان کی مرضی کے بغیر جنسی انداز میں چھوا گیا ہے۔

دنیا بھر کے کئی ممالک کی طرح گذشتہ چند ماہ میں فرانس میں بھی خواتین سوشل میڈیا کے ذریعے اس حوالے سے آواز اٹھا رہی ہیں۔

مذکورہ تحقیق جمعے کے روز شائع کی گئی اور اس کا مقصد یہ تھا کہ یہ دیکھا جائے کہ فرانس میں خواتین کو کس حد تک ہراساں کیا جاتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی پتا چلا ہے کہ ریپ ہونے والی 12 فیصد خواتین کے علاوہ 58 فیصد کو نازیبہ تجاویز دی گئیں۔

تحقیق کے مطابق ہراساں کی جانے والی خواتین کو ایسے حالات کا ایک سے زیادہ مرتبہ سامنا کرنا پڑا۔

گذشتہ ماہ فرانسیسی اداکارہ کیتھرین ڈینیو کا کہنا تھا کہ مردوں کو خواتین کو ‘لبھانے کی آزادی’ ہونا چاہیے۔ کیتھرین ڈینیو سمیت ایک سو فرانسیسی خواتین نے ایک کھلا خط لکھا تھا جس میں انھوں نے اس نئی ’پیورٹن ازم‘ کے بارے میں لکھا جو حالیہ جنسی ہراس کے سکینڈلز کے بعد سامنے آئی ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ ’مردوں کو سخت سزا دی گئی، نوکریوں سے نکالا گیا جب انھوں نے صرف کسی کے گھٹنے کو چھوا یا ایک بوسہ لینے کی کوشش کی۔‘

’ریپ ایک جرم ہے، لیکن جمے قدموں یا اناڑی پن کے ساتھ کسی کو مائل کرنے کی کوشش (ریپ) نہیں ہے اور نہ ہی مردوں کا شریفانہ انداز بالادستی کا حملہ ہے۔‘

اس خط کے مصنفین کا کہنا ہے کہ یہ ایک نئی قسم کی ’پیورٹن ازم‘ ہے۔

تاہم بعد میں کیتھرین ڈینیو نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا مقصد جنسی ہراساں کرنے والوں کا دفاع نہیں تھا۔

گذشتہ سال انھوں نے سرِعام چھیڑ چھاڑ کرنے والوں کے لیے جرمانے لگانے کا قانون بھی تجویز کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.