66

’فخر زمان، فخرِ پاکستان‘

پچھلے دو سال میں پاکستان نے 27 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنلز کھیلے ہیں۔ ان میں سے 23 میچز میں فتح پاکستان کے نام رہی ہے جبکہ صرف چار میں اسے شکست ہوئی ہے۔

یہ اعدادوشمار کسی بھی ٹی ٹونٹی ٹیم کے لیے قابل رشک ہیں۔ اس سے پہلے 2009 میں بھی پاکستان کی ٹی ٹونٹی پرفارمنس ایسی ہی جاندار تھی۔ لیکن حالیہ فتوحات کا تناسب پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔

جب ٹی ٹونٹی فارمیٹ کا آغاز ہوا تھا تو یہ پاکستان کے لئے آئیڈیل ترین فارمیٹ سمجھا جا رہا تھا۔ پاکستان کا کرکٹ کلچر اس فارمیٹ کے قریب تر تھا۔ پاکستان کے ہر شہر میں شام کے وقت کسی نہ کسی ٹیلے، گراونڈ، گلی میں کچھ ایسی ہی کرکٹ عروج پہ ہوتی ہے۔

ٹی ٹوئنٹی فائنل: پاکستان نے آسٹریلیا کو چھ وکٹوں سے ہرا دیا

عموما ٹیپ بال کے میچز آٹھ، آٹھ اوورز پہ محیط ہوتے ہیں اور آٹھ اوورز میں سوا سو، ڈیڑھ سو سکور معمول کی بات ہے۔ پاکستان کا جو بھی کھلاڑی کسی نہ کسی سطح میں ملکی نمائندگی کا اعزاز پاتا ہے، وہ لازمی کہیں نہ کہیں یہ ٹیپ بال فارمیٹ کھیل چکا ہوتا ہے۔

2007 کے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں پاکستان رنر اپ تھا۔ 2009 میں پاکستان چیمپئین بنا۔ 2010 میں بھی پاکستان ٹائٹل کے عین قریب تھا کہ مائیکل ہسی سامنے آ گئے۔ اس کے بعد کسی بھی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں پاکستان سیمی فائنل تک نہ پہنچ پایا۔

2009 تک پاکستان کی ہوم کرکٹ کسی نہ کسی طرح چل ہی رہی تھی۔ اس کی وجہ سے نئے پلئیرز سامنے آ رہے تھے۔ لیکن جونہی کرکٹ کے دروازے پاکستان پہ بند ہوئے، ٹیلنٹ سٹریم بھی جھڑنے لگی۔

پچھلے دو سال میں پاکستان کی ٹی ٹونٹی نشاط ثانیہ کا آغاز اسی طرح کے ٹیلنٹ کے طفیل ہوا ہے جو 2009 تک پاکستان کو میسر تھا۔ یہ وہی ٹیلنٹ ہے کہ جسے پی ایس ایل کی راہ نہ ملتی تو شاید آج بھی یہ ڈومیسٹک کرکٹ کی پرپیچ راہداریوں میں دھکے کھا رہا ہوتا۔

شاداب خان، حسن علی، فہیم اشرف، محمد نواز، حسین طلعت اور فخر زمان نے اگر پی ایس ایل نہ کھیلی ہوتی تو شاید آج بھی ان میں سے کوئی واپڈا کی نمائندگی کر رہا ہوتا تو کوئی سوئی گیس کی ترجمانی۔ سالہا سال ہمت اور محنت برقرار رکھنے پہ شاید یہ قومی ٹیم تک پہنچ تو جاتے مگر تب تک ان کا پرائم ٹیلنٹ ہوا ہو چکا ہوتا۔ شوق سے کرکٹ کھیلنے کے دن گزر چکے ہوتے اور فقط احساس ذمہ داری ان کے بوجھل کندھوں کو حرکت میں لانے کی تگ و دو کر رہا ہوتا۔

جس عمر میں یہ ٹیلنٹ اپنی درست جگہ پہ پہنچ گیا ہے، اس عمر میں ہی پلئیر اپنی تمام تر توانائیاں بلا تردد کھیل پہ خرچ کر سکتا ہے۔ جوں جوں عمر بڑھتی جاتی ہے، ارتکاز دشوار تر ہوتا جاتا ہے۔

فخر زمان نے آج جو اننگز کھیلی، ایسے خوشگوار حادثات پاکستان کرکٹ میں خال خال ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پہلے ہی اوور میں دو وکٹیں گر گئیں اور ہدف ایسا کہ پاکستان نے آج تک حاصل نہ کیا ہو۔

جس وقت صاحبزادہ فرحان دوسری ہی گیند پہ سٹمپ ہوئے تو دوسرے اینڈ پہ موجود فخر زمان کیا سوچ رہے ہوں گے۔ اور جب فورا ہی حسین طلعت بھی چل دئیے تب قسمت کا پلڑا کس طرف کو جھکا ہو گا؟

اس کے باوجود اعصاب کو یوں مجتمع کئے رکھنا کہ موقع ملتے ہی ہر سٹروک بلے کے درمیان سے نکلنے لگے، یہ صرف وہی کر سکتا ہے جو ہر طرح کے دباو سے آزاد ہو۔ فخر زمان کی سب سے بڑی صلاحیت ان کا سٹروک پلے یا سٹائل نہیں ہے، ان کی فری سپرٹ ہے کہ جب وہ لمحے میں مرتکز ہوتے ہیں تو سٹروک خود بخود ان کے بلے سے بہنے لگتے ہیں۔

پاکستان کے لئے یہ ٹرافی دوہری اہمیت کی حامل تھی کہ ایک تو اسے یہ ٹورنامنٹ جیت کر سرفراز کی فتوحات کا ریکارڈ برقرار رکھنا تھا، دوسرا اسے اپنی نمبرون رینکنگ کو بھی محفوظ تر بنانا تھا۔ فخر زمان کی بدولت، پاکستان دونوں ہدف پا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.