28

فاٹا کی صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کی توثیق

پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے انتظامی، عدالتی اور قانونی اصلاحات متعارف کروانے پر اتفاق کیا ہے۔

سنیچر کو اسلام آباد میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدرات قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ جس میں فاٹا کے انضمام سمیت ملکی سلامتی اور مختلف اُمور پر بات چیت ہوئی۔

اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی نے فاٹا کے انضمام کے حوالے سے پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرنے اور اتفاق رائے پیدا کرنے پر فاٹا کمیٹی کی کارکردگی کو سراہا ہے۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ فاٹا کے انضمام کے لیے تمام قانونی، آئینی اورانتظامی طریقہ کار کو پارلیمنٹ میں موجود دیگر سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے طے کیا جائے۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں فاٹا کو آئندہ دس سال میں اضافی فنڈز دینے کی بھی توثیق کی گئی۔

فاٹا اصلاحات کمیٹی
سابق وزیر اعظم نوازشریف تقریباً دو سال قبل مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کی تشکیل دی تھی جس نے تمام قبائلی ایجنسیوں کے دورے کر کے ایک رپورٹ تیار کی تھی۔

جس کے بعد پاکستان کی وفاقی کابینہ نے فاٹا اصلاحات کی اصولی منظوری دیتے ہوئے اُسے پانچ برس کے بعد خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

خیبر پختونخوا میں انضمام
قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا کے انضمام کے کچھ فوائد اور ممکنہ نقصانات ذیل میں ہیں۔

فوائد
قبائلی علاقوں کا انتظامی انحصار پہلے دن سے بندوبستی علاقوں پر ہے تو معمولات زیادہ متاثر نہیں ہوں گے۔ یہی بنیاد سرکاری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں علیحدہ صوبے کی مخالفت میں بیان کی ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ مطلوبہ ذرائع اور تربیت یافتہ افرادی قوت پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔
نسلی اور لسانی یکسوئی۔
قبائلی علاقوں کا خیبرپختونخوا پر انتظامی و معاشی انحصار برقرار
نقصانات
خیبر پختونخوا موجودہ علاقے کی ترقی میں مشکلات سے دوچار ہے سات دہائیوں سے پسماندہ قبائلی علاقوں کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کیا کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
قبائلی علاقوں کے لیے ملازمتوں اور تعلیم میں خصوصی کوٹے کا خاتمہ؟ انضمام کی صورت میں فاٹا کو کیا ملے گا ابھی واضح نہیں۔
مستقبل میں پسماندگی برقرار رہنے کی صورت میں پشاور سے استحصال کی شکایت کا امکان
این ایس سی کا ایک ہفتے میں دوسرا اجلاس
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران قومی سلامتی کمیٹی کا یہ دوسرا اجلاس ہے۔

اجلاس میں سول قیادت اور عسکری حکام نے کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے اصولی موقف پر اپنانے پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے

اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان خطے اور دنیا بھر میں امن کے لیے اپنا کردارادا کرتا رہے گا۔

قومی سلامتی کی کمیٹی کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں اصلاحات کی تجاویز پر بریفنگ بھی دی گئی جبکہ کشمیر اور گلگت بلتستان کو انتظامی اور مالی طور پراختیارات منتقل کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

گلگت بلتستان کے ٹیکس میں چھوٹ کا فیصلہ
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں گلت بلتستان کو پانچ سال کے لیے ٹیکس میں چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ گلگت بلتستان کو پاکستان کے دیگر علاقوں کے برابر لانے اور ترقی کے لیے مناسب مراعات دینے کا اعلان بھی کیا گیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان کی فوج کی تجویز پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں چودہ مئی کو ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے 2008 میں ممبئی حملوں کے حوالے سے دیے گئے بیان پر گفتگو کی گئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.