33

فاٹا بل کی منظوری کے خلاف جے یو آئی کا احتجاج، اسمبلی کا گھیراؤ

قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے خلاف پشاور میں مذہبی جماعت جے یو آئی کے کارکنوں اور قبائلی رہنماؤں کا احتجاجی دھرنا جاری ہے اور مظاہرین نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا گھیراؤ کر لیا ہے۔

اتوار کو پشاور میں صوبائی اسمبلی کا گھیراؤ ایک ایسے موقع پر کیا جا رہا ہے جب فاٹا کو خیر پختونخوا میں ضم کرنے کے فیصلے کی توسیق کے لیے صوبائی اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا گیا ہے۔

صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں آئینی ترمیم کی توثیق کے لیے قرارداد منظور کی جائے گی اور فاٹا اصلاحات بل پاس کیا جائے گا۔

یاد ہے کہ چند روز قبل قومی اسمبلی اور سینیٹ نے وفاق کے زیر انتظام قبائیلی علاقوں کو خیبر پختونخوا اور صوبوں کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کو اپنے اپنے صوبوں میں ضم کرنے کے لیے آئینی ترمیم کی تھی۔

حکومتی جماعت مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی، پاکستان تحریکِ انصاف سمیت مختلف اپوزیشن کی جماعتوں نے اس آئینی ترمیم کی حمایت کی تھی لیکن جمعیت علمائے اسلام اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے اس انضمام کی مخالفت کی تھی۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق جے یو آئی کے سینکڑوں کارکن اتوار کی صبح خیبر پختونخوا اسمبلی کی عمارت کے سامنے جمع ہوگئے اور احتجاج شروع کر دیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جے یو آئی کے کارکنوں نے خیبرپختونخوا اسمبلی کے سامنے سے گزرنے والی اہم شاہراہ خیبر روڈ پر ٹائر جلاکر اسے ہر قسم کے ٹریفک کےلیے بند کر دیا ہے۔

احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہاتھاپائی اور تلخ کلامی کے متعدد واقعات پیش آئے جبکہ اس دوران کارکنوں کی طرف سے صوبائی اسمبلی کی مرکزی گیٹ تک پہنچنے کی کوشش کی گئی تاہم پولیس نے مظاہرین کو منتشر کر کے ان کی یہ کوشش ناکام بنادی۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے کچھ گولے بھی پھینکے۔

احتجاج کے دوران موجود مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ خیبر روڈ تقریباً دو گھنٹوں تک میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا اور اس دوران پولیس اور سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری وہاں پہنچ گئی۔ آخری خبریں آنے تک مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں پر پتھراؤ بھی کیا۔

یاد رہے کہ جمعیت علما اسلام ف ابتدا ہی سے فاٹا انضممام کی مخالفت کرتی رہی ہے۔

جے یو آئی خیبر پختونخوا اسمبلی میں حذب مخالف کی سب سے بڑی جماعت ہے لہذا یہ امکان بھی موجود ہے کہ ان کے ممبران صوبائی اسمبلی سے منظوری کی راہ میں روکاٹ ڈالنے کی کوشش کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.