62

فاٹا اور پاٹا کے صوبوں میں شامل ہونے سے کیا تبدیل ہو گا؟

پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ سے وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں یعنی فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا جبکہ صوبوں کے زیرِ انتظام علاقوں یعنی پاٹا کو بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں شامل کرنے کے لیے آئینی ترمیم کی منظور ہو جانے کے بعد بھی کئی مرحلے باقی ہیں۔

صوبائی اسمبلی سے منظوری

آئین کے آرٹیکل کے 239 کے تحت صدرِ مملکت صوبوں کی حدود سے متعلق کسی ایسے بل پر اس وقت تک دستخط کر کے اس قانون نہیں بنا سکتے جب تک وہ مسودہ متعلقہ صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور نہ ہو جائے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر قیصر اسد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام پارٹیوں سے رابطے میں ہیں اور یہ بِل آسانی سے صوبائی اسمبلی سے پاس ہو جائے گا۔

ان کے مطابق جمیعت علمائے اسلام (ف) کو فاٹا کے انضمام پر تحفظات ہیں، ‘خیبرپختونخوا اسمبلی اس سے پہلے تین قراردادیں منظور کر چکی ہے اور یہ ہماری حکومت کا دیرینہ مطالبہ تھا، جو اب پورا ہوا ہے، یہ پارلیمان سے پاس ہونے کے بعد صوبائی اسمبلی سے بھی فوری طور پر پاس کر دیا جائے گا۔ ‘

انضمام کی منظوری کے بعد:

فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد اکتوبر میں بلدیاتی انتخابات منعقد کروائے جائیں گے۔ جس میں فاٹا کے عوام پہلی بار مقامی سطح پر اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔ سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کے مطابق انضمام کے ایک سال کے اندر صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لیے بھی الیکشن ہو گا، ان کے مطابق اس کے لیے اپریل 2019 کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔
آئندہ پانچ سال تک فاٹا کی قومی اسمبلی میں 12 نشستیں ہوں گی جبکہ آئندہ پانچ سال سینیٹ میں بھی اس علاقے کی آٹھ مختص نشستیں برقرار رہیں گی۔
صوبائی حکومت کی عملداری سے صدر اورگورنر کے خصوصی اختیارات ختم ہوجائیں گے۔
فاٹا کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت سالانہ تین فیصد رقم ملے گی۔
فاٹا کے لیے آئندہ 10 سال کے لیے ہر برس دس ارب یعنی مجموعی طور پر 100 ارب روپے ترقیاتی فنڈ کی مد میں دیےجائیں گے۔
فاٹا کو دیے گئے یہ ترقیاتی فنڈز کسی اور علاقے میں استعمال نہیں ہو سکیں گے۔

فاٹا ان ٹیرم گورننس ریگولیشن 2018

فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد انتظامی امور کے لیے ایک عبوری ریگولیشن نافذ کیا گیا ہے، جسے فاٹا ان ٹیرم گورننس ریگولیشن 2018 کا نام دیا گیا ہے۔ یہ عارضی طور پر فاٹا کے مکمل انضمام تک نافذ العمل رہے گا جبکہ ایف سی آر کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔

اس کے مطابق:

فاٹا کی تمام ایجنسیوں کو اب قبائلی اضلاع جبکہ موجودہ تحصیلوں اور فرنٹیئر ریجننز کو ذیلی اضلاع کا درجہ حاصل ہو گا۔
فاٹا میں شامل ان علاقوں کے پولیٹیکل ایجنٹس اب ڈپٹی کمشنرز ہوں گے۔
اسسٹنٹ کمشنز کے پاس مجسٹریٹ کے اختیارات ہوں گے۔
کسی سِول کورٹ میں قبائلی علاقہ جات میں ہونے والے کسی عمل کو چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔
سپریم کورٹ رجسٹری اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھایا جائے گا۔
کسی قسم کی جارحیت یا ریاست کے خلاف کسی سرگرمی میں ملوث کسی بھی شخص یا گروہ کی گرفتاری، حراست میں رکھنے کے حکم سمیت اس پر پاکستان کے بندوبستی علاقے میں آنے پر پابندی لگانے کا اختیار ڈپٹی کمشنر کے پاس ہو گا۔
سرحدی دیہات کے دفاع کے لیے شہریوں کے پاس رائفل اور دیگر اسلحہ رکھنے سے متعلق قواعد وضع کرنے کا اختیار گورنر کے پاس ہوگا۔
گورنر کے پاس پہلے، تیسرے اور چوتھے شیڈول میں ترمیم کا اختیار بھی ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.