27

فاٹا انضمام فائدے اور نقصانات

کل قومی اسمبلی میں فاٹا کے حوالے سے تاریخی بل پاس ہوا۔ اکتیسویں ترمیم کے ذریعے قبائلی علاقے جہاں انگریز کے قبضے کے وقت سے ایف سی آر کا کالا قانون نافذ العمل تھا،آج پختون وطن پختونخوا کی وحدت میں پرو گئے۔ دو انتظامی حصوں کا ایک وحدت میں آنا پشتون کاز کے لئے ایک مبارک فیصلہ ہے۔ دو سال قبل ضرب عضب کے خاتمے کے بعد نواز شریف نے اپنے مشیر قومی سلامتی سرتاج عزیز کی سربراہی میں ایک اصلاحاتی کمیٹی بنائی انہوں قبائلی علاقات کے تمام علاقوں کا دورہ کیا۔ وہاں اہل الرائے لوگوں سے، دانشوروں سے، موجودہ و سابق بیوروکریٹس سے، شاعروں ،ادیبوں ،وکیلوں اور طلباء سے رائے لی کہ فاٹا کے دکھ درد کا آسان و دیرپا حل کیا ہے۔ سبھی نے یہی رائے دی کہ جو قوانین، طرز معاشرت اور زندگی بندوبستی علاقوں میں رائج ہے۔ وہی انکے لئے بہتر ہے۔ یعنی فاٹا کو پختونخوا میں ضم کیا جائے۔ یہ رپورٹ و سفارشات سرتاج عزیز و کمیٹی نے نواز شریف اور قومی سلامتی کمیٹی کے سامنے رکھ دیے۔ نواز شریف نے ان سفارشات پر عمل درآمد کا فیصلہ بھی کیا لیکن حکومت کے دو اتحادی مولانا فضل رحمان اور اچکزئی نے فاٹا انضمام کی شدید مخالفت کی۔ دونوں نے پانامہ ایشو پر نواز شریف کا کھل کر ساتھ دیا تضا اسلئے انکی ناراضگی نواز شریف کے لئے ایک گراں امر تھا۔ اچکزئی فاٹا کو پختون وطن کی پاکستان سے آزادی کا آخری مورچہ سمجھتا تھا جبکہ مولانا صاحب فاٹا کو اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتا تھا کیونکہ فاٹا ایشو کی وجہ سے اسکی معاشرتی و سیاسی اہمیت مسلمہ تھی۔ اسٹیبلشمنٹ بھی فاٹا کی وجہ سے مولانا صاحب کو خاصی عقیدت سے نوازتے۔
فاٹا کا انضمام وقت کی پکار تھی۔ اس میں مذید تاخیر پاکستان کے لئے نیک شگون نہیں تھی۔ ایک سال سے اسی ٹائم لائن پر ہم نے اپنی بساط بھر کوشش کی۔ چیخ و پکار کی کہ فاٹا انضمام کی تاخیر سے پاکستان کو بڑے مسئلوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ حالیہ بہار میں پشتون تحفظ موومنٹ کے ظہور سے فاٹا کے مستقبل کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا۔ پشتون تحفظ موومنٹ محب الوطن قبائلی نوجوانوں کی ایک پرامن و آئینی تحریک ہے۔ لیکن خدشہ موجود تھا کہ دشمنان پاکستان ان نوجوانان وطن کو اپنے مقاصد کے لئے بالواسطہ ورغلا نہ لیں۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ بالخصوص فوج کو شائد ان خدشات کا ادراک ہو چکا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے حکومت کے آخری دنوں میں حکومت و سیاسی پارٹیوں پر دباو ڈالا کہ وہ فاٹا انضمام میں تیزی دکھائیں اور انہی اسمبلیوں سے فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے۔فاٹا انضمام کے محرکات جو بھی ہو اسکے پیچھے ” خلائی مخلوق ” ہوں یا موجودہ دکھائی دیا جانے والا سیاسی سیٹ اپ لیکن یہ فیصلہ بہترین فیصلہ ہے۔ اسکا فائدہ ملک و قوم اور پختون کاز کو ہوگا۔

فاٹا انضمام کے فائدے بہت زیادہ ہیں۔ ملک کے لئے فائدے یہ ہیں کہ ایک بفر زون جو ہمیشہ غیر یقینی پیدا کرتا تھا اب بندوبستی علاقے کے طور پر رہے گا۔ ملکی قوانین و آئین کے زیر سایہ رہے گا۔ ملکی سلامتی کے اداروں کے لئے وہاں نقل و حمل اور چھاونیوں کی صورت میں مستقل قیام کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ یہ نفر زون غیر ملکی ایجنسیوں کا ہب بنا تھا جو یہاں کی حیثیت کا، پسماندگی کا ، آوٹ آف سٹیشن ہونے کا فائدہ اٹھا کر پاکستان کو کمزور کرنے کی یہاں منصوبہ بندیاں کرتے تھے اب مستقل فوج و پولیس سسٹم کی وجہ سے انکی سرگرمیوں پر شکنجہ کسا جائے گا۔ یہاں کے باسیوں کے لئے فاٹا انضمام کے بے تحاشا فائدے ہیں۔ ایف سی آر کے کالے قوانین سے نجات ملے گی۔ پولیٹیکل ایجنٹس ،تحصیلداروں اور فاٹا سیکرٹریٹ کی دجالیت و فرعونیت سے بھی چھٹکارا ملے گا۔ انکو بلدیاتی سسٹم نصیب ہوگا اور 20 سے 25 ایم پی ایز کی صورت میں ترقیاتی کاموں کے لئے آسانی ہوگی۔ پہلے خان ملک اور ایم این ایز فاٹا سیکرٹریٹ والوں سے اور پولیٹیکل ایجنٹس سے مل کر سارہ فنڈ ہڑپ کرتے تھے مگر اب عوام کو ڈائرکٹ جواب دہ ہونگے اور مجبور”ا فنڈ لانے کی بھی کوشش کریں گے اور عوام کی مرضی سے استعمال کرنے کی بھی۔ کالے قانون ایف سی آر کی جگہ سول کورٹس، سیشن کورٹس ،ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی صو رت میں آئینی و قانون حقوق کی پاسداری ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کی موجودگی کی وجہ سے قبائل میں سیاسی و معاشرتی شعور بڑھے گا جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ قبائل دوست دشمن میں تمیز کر سکیں گے۔ قبائل نے ہمیشہ بندوق سے مسائل حل کرنے کا طریقہ اپنایا ہے۔ کچھ وقت پہلے ایسا طریقہ کارگر تھا لیکن اکیسویں صدی میں اسکا استعمال اب مشکل ہے۔ بندوق اب ریاست کی طرف سے استعمال کی اجازت ہو تو ٹھیک لیکن ذاتی یا قبائلی مسئلے میں بندوق سے مسائل حل ہونا قصہ پارینہ ہو چکا۔ حالیہ دنوں کی پرامن پشتون معاشرتی تحریک PTM کی اہمیت قبائل نے دیکھ لی کہ محض ایک دو مہینوں کی پرمن جدوجہد سے پورے پاکستان کو ہلا کے رکھ دیا۔
فاٹا انضمام سے پختون ایک وحدت میں پرو جائیں گے۔ قومی سطح پر پختونخوا ایک بڑی آبادی والا صوبہ ہوگا۔ پختونوں کی آواز میں وزن ہوگا۔ قومی سطح پر پختون کاز کا مقدمہ ایک ساتھ ملکر لڑا جائے گا۔ آج تک فاٹا کے تمام وسائل پر فیصلے وفاق میں قائم حکومت کرتی تھی۔ فاٹا کا زیادہ تر فنڈ لاہور و گجرانولا میں استعمال ہوتا تھا۔ فاٹا کے منتخب ممبران نے ہمیشہ بکاو مال کا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کبھی اپنے حقوق کے لئے آواز نہیں اٹھائی۔ آج کچھ لوگ کہتے ہیں کہ انضمام سے سینٹ کی آٹھ سیٹیں کم ہونگیں اور قومی اسمبلی کی چھ سیٹیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان 12 قومی اور 8 سینیٹ سیٹوں سے قیام پاکستان سے آج تک پختون و قبائلی کا کے لئے 0۔1 کام بھی نہیں کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان 12 ایم این ایز و 8 سینیٹر نے ہمیشہ طوایفوں کی طرح اہل اقتدار کی گود میں چھلانگ لگا کر پختون کاز کا سودا پیسوں اور ذاتی مفادات کی خاطر کیا ہے۔ سینٹ کی 8 سیٹیں اگر جاتی ہیں ۔قومی اسمبلی کی 6 سیٹیں اگر ہاتھ سے نکلتی ہیں تو اسکے مقابلے میں 20 سے 25 صوبائی اسمبلی کی سیٹیں بھی قبائلیوں کے ہاتھ میں آئیں گی۔ بلدیاتی نظام بھی ہاتھ آ جائے گا۔
دس سالوں تک دس ارب ڈالر تک فاٹا کو ملتے رہیں گے۔ جس سے یہاں انفراسٹرکچر بنے گا۔ ترقی آئے گی۔ بلدیاتی سسٹم کی وجہ سے گلیاں نالیاں پکیں گی۔ سڑکوں کا جال بچھایا جائے گا۔ پولیس و ایف سی کی بھرتیاں ہونگیں۔ ڈسٹرکٹ و تحصیل انتظامیہ آئیں گی۔ روزگار کے بے شمار مواقع قبائلیوں کو دستیاب ہونگیں۔
العرض فاٹا انضمام کے ان گنت فائدے ہیں جو ان سطور میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ ہم فاٹا انضمام پر تمام اہل وطن کو مبارکباد دیتے ہیں یہ ملک و قوم کے لئے اور ابالخصوص پختون قومیت کے لئے لمحہ باسعادت ہے۔ اس جدوجہد میں شریک سیاسی پارٹیوں پی ٹی ائی، اے این پی، پی پی پی ،قومی وطن پارٹی اور جماعت اسلامی داد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے پاکستان پر رحم کیا۔ افواج پاکستان اور آرمی چیف صاحب کی کوششوں کو بھی ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
عمران خان زندہ باد
پاکستان پائندہ باد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.