158

غیرملکی کرکٹرز سکیورٹی میں کمی چاہتے ہیں: احسان مانی

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی کا کہنا ہے کہ اس بار پی ایس ایل کا انعقاد راستے میں آنے والی رکاوٹوں کی وجہ سے کسی چیلنج سے کم نہ تھا لیکن ان تمام چیلنجز کا خوش اسلوبی سے مقابلہ کرکے اسے ایک کامیاب ایونٹ بنادیا گیا۔

یاد رہے کہ پی ایس ایل کے چھبیس میچز متحدہ عرب امارات میں کھیلے گئے اور پھر فائنل سمیت آخری آٹھ میچز کا انعقاد کراچی میں کیا گیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے پی ایس ایل کے اختتام پر بتایا کہ پی ایس ایل کی انڈین پروڈکشن کمپنی آئی ایم جی ریلائنس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے بارے میں جائزہ لیا جا رہا ہے جس نے انڈیا کے دباؤ میں آکر چوبیس گھنٹے کے نوٹس پر ایونٹ سے خود کو الگ کرلیا تھا اور یہ جو کچھ ہوا وہ انڈین سیاست کا نتیجہ تھا۔

احسان مانی نے کہا کہ یہ سوچا جارہا تھا کہ انڈین پروڈکشن کمپنی کے چلے جانے سے پی ایس ایل کو دھچکہ پہنچے گا لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس صورتحال میں پیشہ ورانہ انداز میں کام کرکے اس ایونٹ کو متاثر نہیں ہونے دیا اور کسی کو بھی یہ تاثر نہیں ملا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ پریشان ہے۔

احسان مانی نے کہا کہ انہیں یہ پیغام بھی آیا کہ پاکستان میں پی ایس ایل کے میچز کرانے کا ارادہ ترک کر دیں اور پورا ایونٹ متحدہ عرب امارات میں ہی کرا دیں جسے انہوں نے یکسر مسترد کردیا کیونکہ ان کا مؤقف بالکل واضح تھا کہ پی ایس ایل کے آٹھ میچز پاکستان میں ہر صورت میں کرائے جائیں گے۔

احسان مانی نے کہا کہ اس طرح کے متعدد چیلنجز میں پی ایس ایل کا انعقاد بہت بڑی کامیابی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی کرکٹرز کوچنگ سٹاف اور دیگر مہمانوں کا پاکستان آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا پاکستان پر اعتماد بڑھا ہے اور وہ یہاں آنے کے لیے تیار ہیں۔ متعدد غیرملکی سکیورٹی ماہرین بھی پی ایس ایل میں مدعو کیے گئے تاکہ وہ یہاں آکر خود صورتحال دیکھ سکیں۔

احسان مانی کا کہنا ہے کہ اس بار تمام غیرملکی کرکٹرز پاکستان آنے کے لیے تیار تھے اور کسی نے بھی انکار نہیں کیا تاہم غیرملکی کرکٹرز سکیورٹی میں کمی چاہتے ہیں۔ ’وہ باہر نکلنا چاہتے ہیں، شہر دیکھنا چاہتے ہیں گالف کھیلنا چاہتے ہیں لوگوں سے ملنا چاہتے ہیں۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.