33

’غلطی ہوئی تھی لیکن سچ بولا تھا‘

پاکستان کے طویل قامت فاسٹ بولر محمد عرفان کے لیے وہ وقت بہت کٹھن تھا جب مشکوک افراد کے رابطوں کی بروقت اطلاع نہ دینے پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان پر ایک سالہ پابندی عائد کردی تھی لیکن اب ان کی توجہ مکمل طور پر اپنی کارکردگی پر ہے اور وہ دوبارہ پاکستانی ٹیم میں واپس آنا چاہتے ہیں۔

’مجھ سے غلطی ہوئی تھی لیکن میں نے سچ بولا اور اللہ نے بھی میرا ساتھ دیا اب اس بات کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ وہ معاملہ ختم ہو گیا ہے۔‘

یاد رہے محمد عرفان پر عائد کردہ ایک سالہ پابندی میں چھ ماہ کی معطل سزا شامل تھی لہذا وہ چھ ماہ سزا کی مدت پوری ہونے کے بعد کھیلنے کے اہل ہو گئے تھے۔

محمد عرفان پاکستان سپر لیگ میں ملتان سلطانز کی نمائندگی کر رہے ہیں اور انھوں نے دفاعی چیمپئن پشاور زلمی کے خلاف افتتاحی میچ میں اوپنرز تمیم اقبال اور کامران اکمل کی وکٹیں حاصل کیں۔

’جس وقت میں نے بولنگ شروع کی تو میں نروس تھا اور خود پر دباؤ بھی محسوس کررہا تھا۔ پچھلی یادیں بھی آرہی تھیں لیکن کپتان شعیب ملک نے حوصلہ دیا خاص کر اس وقت جب مجھے دو چوکے لگے تو میں اپنی لینتھ تبدیل کرنا چاہتا تھا لیکن انھوں نے کہا کہ اسی لینتھ پر بولنگ کرو۔‘

محمد عرفان ملتان سلطانز میں وسیم اکرم کی موجودگی پر بہت خوش ہیں۔

میری خوش قسمتی ہے کہ میں جس ٹیم میں ہوتا ہوں اس میں وسیم اکرم موجود ہوتے ہیں وہ اسلام آباد یونائیٹڈ میں بھی میرے ساتھ تھے چونکہ وہ خود لیفٹ آرم فاسٹ بولر تھے لہذا ان کے تجربے سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔‘

محمد عرفان کا بین الاقوامی کریئر فٹنس مسائل سے دوچار رہا ہے۔ وہ آخری بار سنہ 2016 میں انگلینڈ کے خلاف ہیڈنگلے کے ون ڈے انٹرنیشنل میں کھیلے تھے جس میں انھوں نے دونوں اوپنرز الیکس ہیلز اور جیسن روئے کی وکٹیں حاصل کی تھیں لیکن صرف پانچ اوورز کرانے کے بعد ان فٹ ہو کر بولنگ کے قابل نہیں رہے تھے۔

’میں نے فٹنس پر کافی کام کیا ہے۔ قائد اعظم ٹرافی میں بھی میں نے اچھی بولنگ کی ہے اور میری کوشش ہے کہ جتنا جلد ہو سکے میں پاکستانی ٹیم میں واپس آسکوں۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.