18

غریبوں کو راشن

وزیراعظم عمران خان نے تنخواہ و اجرت دار اور کم آمدنی والے طبقات کو رعایتی نرخوں پر اشیائے ضرورت فراہم کرنے کیلئے سات ارب روپے کے ریلیف پیکیج کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے جس کے تحت ملک بھر میں اُن افراد کے لیے قائم یوٹیلیٹی اسٹوروں پر سستی اشیا دستیاب ہوں گی۔ بلاشبہ یہ وقت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ متذکرہ طبقات بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافوں کی یلغار سے بری طرح پسے ہوئے ہیں تاہم ایسے مواقع پر بھی موقع پرست عناصر پیچھے نہیں رہتے جو متذکرہ اشیا کی کاروبار کی نیت سے بڑے پیمانے پر خریداری کرکے پیکیج راتوں رات ختم کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس ضمن میں وزیراعظم کی طرف سے جلد راشن کارڈوں کے متوقع اعلان کا انتظار ہے جس کے اجرا کی صورت میں مستقل بنیادوں پر لوگوں کو آٹا، چینی، گھی، چاول اور دالوں سمیت دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنانا ایک حقیقت پسندانہ اقدام ہوگا۔ اس وقت ملک کے طول و عرض میں 5491یوٹیلیٹی اسٹور قائم ہیں لیکن یہ کثیر تعداد بھی ملک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے لحاظ سے کم ہے اس کے علاوہ بڑے شہروں اور وہاں قابلِ ذکر بستیوں کے سوا بہت سے اسٹوروں کے حالات اچھے نہیں اور ایک ہی چھت کے نیچے تمام تر اشیائے صرف کم ہی میسر آتی ہیں جبکہ چند ماہ قبل بعض یوٹیلیٹی اسٹوروں پر چھاپے مارنے کے دوران جعلی اور زائد المیعاد اشیا بھی برآمد ہو چکی ہیں، مزید برآں جس طرح وزیراعظم نے غریبوں، اجرت و تنخواہ دار طبقوں کی اس مہنگائی کے عالم میں مالی حالات اور اُن کی ضروریاتِ زندگی کا احساس کیا بلاشبہ حکومت کے پاس اِن حالات سے نمٹنے کیلئے یوٹیلیٹی اسٹور ماضی کے دور میں قائم راشن ڈپوئوں کے مقابلے میں نہایت موثر ذریعہ ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کے ڈھانچے کو ہر لحاظ سے مضبوط اور کارگر بنایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.