66

عورتوں کی ’ویاگرا‘ کی اجازت دینے والا پہلا عرب ملک

مصر خواتین کی جنسی خواہش بڑھانے والی ادویات کی تیاری اور فروخت کی اجازت دینے والا پہلا عربی ملک بن گیا ہے، بی بی سی کی نامہ نگار سیلی نبیل نے اس بات کی کھوج لگائی ہے کہ کیا سماجی طور پر قدامت پسند ملک میں ان ادویات کی مارکیٹ بھی موجود ہے۔

’مجھے پر غنودگی چھا گئی، چکر آنے لگے اور میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا‘ ان احساسات کا اظہار لیلیٰ نے پہلی مرتبہ خواتین کی ویاگرا کہلانے والی دوائی استعمال کرنے کے بعد کیا جس کو کیمائی طور پر ’فلبانسیرن‘ کہا جاتا ہے۔

اس دوائی کے استعمال کی اجازت پہلی مرتبہ امریکا میں تین سال پہلے دی گئی تھی اور اب اس دوائی کو مصر کی ایک مقامی دوا ساز کمپنی تیار کر رہی ہے۔

لیلیٰ (فرضی نام) نے جو 35 سالہ قدامت پسند گھریلو خاتون ہیں، مصر کی دیگر خواتین کی طرح اپنی شناخت کو چھپاتے ہوئے اپنے جنسی مسائل اور جنسی خواہشات پر بات کی جس کو آج بھی مصر میں دقیانوسی اور معیوب سمجھا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے شادی کے دس سال بعد تجسس کے باعث اس دوائی کے استعمال کا فیصلہ کیا.

لیلیٰ نے جنھیں کوئی صحت کے مسائل نہیں ہیں یہ دوائی بنا نسخے کے خریدی تھی۔ مصر میں بنا نسخے کے دوائی خریدنا عام بات ہے جہاں لوگ بہت سی ادویات بنا نسخے کے باآسانی خرید سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دوا ساز نے انھیں یہ دوائی چند ہفتوں کے لیے روزانہ رات کو لینے کا بتایا اور کہا کہ اس کے کوئی نقصانات نہیں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’وہ اور ان کے خاوند دیکھنا چاہتے تھے کہ اس کے استعمال سے کیا ہو گا، میں نے اس کو صرف ایک بار استعمال کیا اور دوبارہ کبھی نہیں کروں گی۔`

مصر میں طلاق کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے اور چند مقامی میڈیا رپورٹس نے اس کو شادی شدہ جوڑوں میں مسلسل جنسی مسائل کی وجہ قرار دیا ہے۔

فلبانسیرن دوائی بنانی والی مقامی کمپنی کا کہنا ہے کہ مصر میں دس میں سے تین خواتین کو جنسی خواہشات میں کمی کا سامنا ہے لیکن یہ اعداد و شمارعام اندازے کے مطابق ہیں، اس طرح کے درست اعداد و شمار کسی بھی ملک سے حاصل ہونا کافی مشکل ہیں۔

دوا ساز کمپنی کے نمائندے اشرف المراغی کا کہنا ہے کہ یہ دوا انقلابی ہے اور مصر میں اس کی بہت ضرورت ہے۔

المراغی کے مطابق یہ دوا محفوظ اور مؤثر ہے اور اس کے استعمال سے آنے والے چکر اور ہونیوالی غنودگی وقت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے مگر بہت سے دیگر ڈاکٹر اور دوا ساز اس سے اتفاق نہیں کرتے۔

ایک دوا ساز جس سے میں نے بات کی نے مجھے متنبہ کیا کہ اس دوائی کا استعمال بلڈ پریشر کو خطرناک حد تک گرا سکتا ہے اور جگر اور دل کے امراض کا شکار افراد کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

شمالی قاہرہ میں ایک فارمیسی چلانے والے مراد صادق کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خریداروں کو ہمیشہ اس کے نقصانات کے متعلق بتاتے ہیں مگر وہ پھر بھی اس کو خریدنے کے لیے اصرار کرتے ہیں۔

تقریباً دس افراد روزانہ اس دوائی کو خریدنے آتے ہیں جن میں زیادہ تر مرد ہوتے ہیں کیونکہ خواتین اس کو خریدتے ہوئے شرماتی ہیں۔

سب آپ کے دماغ میں ہے
صادق کی فارمیسی میں، میں نے ایک اشتہار دیکھا جس میں فلبانسیرن کو خواتین کے لیے ’گلابی گولی ’ کے طور پر دکھایا گیا جو کہ مصر میں مردوں کے لیے ملنے والی ویاگرا کی نیلی گولی کے مقابل ہے۔

دوا ساز ادارے کے نمائندے المراغی کا کہنا ہے کہ اس دوا کو خواتین کی ویاگرا کہنا نامناسب ہیں اور یہ نام ہم نے نہیں بلکہ مقامی میڈیا نے دیا ہے۔

جہاں ویاگرا مردانہ کمزوری کو دور کرنے کے لیے خون کے بہاؤ کو بہتر بناتے ہوئے اعضو تناسل تک پہنچاتی ہے وہی فلبانسیرن کو اینٹی ڈپریسنٹ اور دماغ میں کیمکلز کو متوازن کر کے جنسی خواہشات بڑھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

سیکس تھراپسٹ ہیبا کتب کا کہنا خواتین کی ویاگرا کہنا ایک گمراہ کن اصطلاح ہے جنھوں نے اس دوا کا نسخہ اپنے کسی بھی مریض کو لکھ کر دینے سے انکار کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ دوا کبھی بھی اس خاتون پر مؤثر نہیں ہو گی جس کو کسی بھی نفسیاتی یا جسمانی مسائل کا سامنا ہے.

خواتین کے لیے سیکس ایک جذباتی عمل ہے اور یہ سب کچھ ذہن میں شروع ہوتا ہے۔ ایک عورت کا کبھی اپنے شوہر سے صحتمند جنسی تعلق نہیں ہو سکتا اگر وہ اس کی عزت نہیں کرتا اور اس کے ساتھ بدسلوکی کرتا ہے۔ کوئی علاج اس میں مدد گار ثابت نہیں ہوگا۔

مس کتب کا کہنا ہے کہ فلبانسیرن کی افادیت اس کے نقصان کے مقابلے میں بہت کم ہے انھوں نے خبردار کیا کہ ’بلڈ پریشر کا گرنا بہت سنگین مسئلہ ہے`۔

مصری خواتین کو اپنی جنسی ضروریات کے حوالے سے پرسکون انداز میں بات کرنے میں ابھی وقت لمبا وقت درکار ہے۔ لیلیٰ کا کہنا ہے کہ وہ بہت سی ایسی خواتین کو جانتیں ہیں جنہوں نے جنسی تعلقات میں کمی کی وجہ سے شادی میں مجموعی تناؤ کے بعد خلع کا دعویٰ دائر کیا ہوا ہے۔

اگر آپ کا خاوند جب تک ایک محبت کرنے والا ساتھی ہے چاہے وہ جنسی طور پر کمزور ہے، آپ اس کا ساتھ دیں گیں، اس کے علاج کروانے میں مدد بھی کریں گی لیکن اگر وہ آپ کے ساتھ بدسلوکی کرتا ہے تو آپ اس میں کوئی دلچسپی نہیں لیں گی بھلے وہ بستر میں کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو مگر مرد یہ بات کبھی نہیں سمجھتے۔

فارمیسی منیجر صادق کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابھی شروعات ہے لیکن فلبانسیرن کی سیل ابتک بہت اچھی اور امید ہے کہ یہ بڑھے گی۔

مگر سیکس تھراپسٹ مس کتب شادی جیسے رشتے پر اس کے ممکنہ اثرات پر فکرمند ہیں.

جب مرد اپنی بیوی کی جنسی خواہش میں اس دوا کے استعمال کے باوجود کوئی بہتری نہیں دیکھتا تو وہ اس کو ہی ذمہ دار ٹھہرائے گا نہ کہ اس دوائی کی غیر مؤثر ہونے یا اپنے ازدواجی تعلقات میں تناؤ کو ذمہ دار ٹھہرائے۔ وہ اس کو چھوڑنے اور دھوکا دینے کا جواز بھی بنا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.